مرکزی صفحہ / فلم ریویو / اس ہفتے کی فلم: دل اپنا اور پریت پرائی

اس ہفتے کی فلم: دل اپنا اور پریت پرائی

ذوالفقار علی زلفی

1960 کی ہندی فلم "دل اپنا اور پریت پرائی” باصلاحیت فن کار کشور ساہو کی ہدایت کاری کا شاہکار ہے. فلم کی کہانی نرس کرونا (مینا کماری) اور سرجن ڈاکٹر سوشیل (راج کمار) کی خاموش محبت کے گرد گھومتی ہے جسے ہنرمندی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے.

نوجوان کرونا، ملہوترہ ہاسپٹل میں نرس بن کر پہنچتی ہے جہاں اس کی ملاقات سنجیدہ طبع سرجن ڈاکٹر سوشیل سے ہو جاتی ہے. ایک جگہ کام کرنے کے باعث دونوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ بن جاتا ہے جس کا نہ کوئی نام ہوتا ہے اور نہ ہی پہچان. اسی دوران ڈاکٹر سوشیل اپنی ماں (پرتیما دیوی) کے اصرار پر ایک دولت مند کشمیری لڑکی کسوم (نادرہ) سے رشتہِ ازدواج میں منسلک ہوجاتا ہے.

منہ پھٹ اور مغرور کسوم ، خاموش طبعیت کرونا اور سنجیدہ طبع ڈاکٹر سوشیل یہاں سے ایک ٹرائنگل نفسیاتی پیچیدگی میں الجھ جاتے ہیں. الجھاؤ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب کرونا کو احساس ہو جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر سوشیل سے محبت کرتی ہے ، احساس کی شدت سے گبھرا کر وہ فرار کا راستہ اختیار کرتی ہے. کرونا کا فرار ڈاکٹر سوشیل کو بھی محبت آشنا کر دیتا ہے مگر اس وقت تک پُلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہوتا ہے.

مرکزی کرداروں کے علاوہ فلم میں بعض ایسے ضمنی کردار بھی ہیں جن کی وجہ سے فلم بین کی دلچسپی مزید بڑھ جاتی ہے. بالخصوص دو کردار کافی اہمیت کے حامل ہیں. ان میں سے ایک قریب المرگ مریض گردھاری (اوم پرکاش) ہیں جو بستر مرگ پر بھی ظرافت اور زندہ دلی کے دریا بہاتے نظر آتے ہیں. دوسری ایک اکھڑ اور تند مزاج مریض کی بیوی حسینہ (ٹن ٹن) ہیں. حسینہ اور گردھاری کا مزاح نہ صرف ہسپتال کے بوجھل ماحول کو متوازن رکھنے کا کام کرتے ہیں بلکہ ان کی موجودگی کے باعث کرونا اور سوشیل کی اذیت ناک خاموش محبت کی کاٹ کا اثر بھی کم ہوتا رہتا ہے.

"دل اپنا اور پریت پرائی” جہاں دلچسپ اسکرین پلے کی وجہ سے محویت برقرار رکھتا ہے وہاں "شنکر جے کشن” کی موسیقی بھی قریب قریب ساحرانہ کشش رکھتا ہے. دلکش موسیقی کا بین ثبوت یہ ہے کہ اس کے گانے مثلاً :

دل اپنا اور پریت پرائی
کس نے ہے یہ ریت بنائی

یا…..

عجیب داستاں ہے یہ
کہاں شروع ، کہاں ختم

آج بھی ہم اپنے اردگرد سنتے رہتے ہیں. موسیقی اور ہدایت کاری کی طرح فلم کی سینماٹو گرافی بھی خوب رہی. سینماٹو گرافی کے فرائض جوزف نے سرانجام دیے. آؤٹ ڈور ہو یا ان ڈور دونوں مقامات پر انہوں نے فنی چابکدستی سے کام لیا ہے.

مینا کماری اپنے مخصوص المناک کردار میں فٹ ہیں، البتہ راج کمار وہ کمال دکھانے سے معذور رہے جو ان کا خاصا ہے. ہو سکتا ہے اس کی وجہ ان کا نوآموز ہونا یا مینا کماری کی دل کو چھو لینے والی اداکاری سے خائف ہونا ہو. حیرت انگیز طور پر راج کمار کی جھگڑالو بیوی کے کردار میں نادرہ مکمل طور پر ڈھلی نظر آتی ہیں.

میری دانست میں فلم کا کمزور پہلو اس کا کلائمکس ہے. کلائمکس کو زبردستی خوش کن بنانے کے لیے جس چیز کا سہارا لیا گیا ہے وہ نہ صرف بھونڈا ہے بلکہ ایک خوب صورت فلم کے ساتھ کیا گیا بلادکار بھی ہے.

کلائمکس سے اگر صرفِ نظر کیا جائے تو بلاشبہ "دل اپنا اور پریت پرائی” ایک اچھی اور مکمل فلم ہے.

Facebook Comments
(Visited 38 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔