مرکزی صفحہ / بلاگ / خواتین کا اغوا اور اس کے اثرات

خواتین کا اغوا اور اس کے اثرات

اسد بلوچ

کوئٹہ سے بلوچستان کے اہم تریں عسکریت پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ اور بچیوں کے اغوا سے دو دن قبل کراچی میں بی ایچ آر او نامی سماجی تنظیم جس کے مطابق وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف جدوجہد کررہی ہے کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری نواز عطا اور اس کے ساتھ آٹھ دیگر بچوں کے اغوا کا واقعہ ریکارڈ ہوا تھا، جس کے خلاف بلوچ تنظیموں نے احتجاجی سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ خود بی ایچ آر او نے اس واقعے کے رد عمل میں کراچی میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا اعلان کیا جس کے بعد تنظیم سے وابستہ خواتین ایک احتجاجی کیمپ لگا کر کراچی پریس کلب میں بیٹھ گئی ہیں۔

کراچی واقعہ میں بچوں کا اغوا اور بعد ازاں کوئٹہ سے ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ کا خواتین اور بچوں کے ساتھ جبری اغوا کا واقعہ بلوچستان میں اس لیے ایک تلخ شروعات کہی جاسکتی ہے کیوں کہ اب تک اغوا اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے جتنے واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں ان میں خواتین اور نا ہی بچوں کا ذکر مل سکتا ہے. البتہ بچوں کا اغوا اور ان کی مسخ لاشوں کے حوالے سے ایک دو واقعات سامنے آگئے ہیں. البتہ اغوا، گرفتاریوں اور لاشیں ملنے کے معاملے میں ریکارڈ کی حد تک خواتین کو اس سے پہلے استثنا حاصل رہا ہے۔ اب جو نئی صورت حال پیدا کی گئی ہے اس کے اثرات بلوچستان یا باقی پاکستان کے لیے یقیناََ منفی نکلیں گے۔

بلوچستان میں ہر حوالے سے ہمیشہ خواتین کو ایک برتر تکریم حاصل رہی ہے خواہ یہ تکریم قبائلی سیٹ اپ کی شکل میں ہو یا مکران بیلٹ کی ایک حد تک روشن خیال سماج ہو، ہر ایک نے اپنے سماجی طریقہ کار کے تحت خواتین کو احترام کے پیمانے پر پر کھا ہوا تھا۔ گوکہ کلاسیکل ادب کے مطابق رند اور لاشار کی تیس سالہ جنگ جو قبائلی رعونت اور سماجی جہالت کا شاخسانہ کہا جاسکتا ہے لیکن اس کے پیچھے بھی مسئلہ گوہر نامی خاتون کی عزت اور احترام کا تھا۔

اس صدی کے آغاز یعنی 2000 میں شروع ہوئی پاکستان سے علیحدگی کی مزاحمت میں بلوچ تحریک نے عسکری و سیاسی محاذ پر کئی نشیب و فراز کا سامنا کیا ہے. پہلے مرحلہ میں سیاسی کارکنان کی آزادانہ سیاسی سرگرمیاں جس میں پاکستان مخالف ہر طرح کا احتجاج اور نعرہ بازی، بعد میں سیاسی کارکنان و رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ اور رہائی، بعد میں لاپتہ کرنا اور بازیابی، اس کے بعد جبری لاپتہ اور طویل گمشدگی پھر مسخ شدہ لاشوں کا تسلسل. یہ سب ہونے کے بعد اب مرحلہ خواتین اور بچوں کے جبری لاپتہ کرنے کا شروع کردیاگیا ہے جو بلوچ معاشرہ کے علاوہ مہذب سماجی رویوں میں کسی طور پر قابل قبول عمل نہیں ہو سکتا ہے اور نا اس غیر مہذبانہ عمل سے موجودہ بلوچ مزاحمت کو شکست دینا ممکن ہوسکے گا بلکہ اس عمل کا جو نتیجہ آئے گا وہ اس جدوجہد کو مذید مہمیز دینے اور اس کو پزیرائی دینے کا باعث بنے گا۔

دوران جنگ یا کسی موقع پر مگر خواتین کو دشمنی کی بنا پر ہاتھ لگانا یا نقصان پہنچانا بلوچ معاشرے میں بہتر روش نہیں کہا جاسکتا۔ جس بنا پر بلوچ عسکریت پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ کو بچوں اور دیگر خواتین کے ساتھ جبری گم شدگی کا شکار کردیاگیا ہے. اگر اسے ایک پالیسی کے طور پر بلوچ مزاحمت کو کاؤنٹر کرنے کے لیے آگے لے جایا جائے گا تو ابھی سے سمجھ لینا چاہیے کہ یہ قطعاََ غلط اور غیر سمجیدہ فیصلہ ہے یہ فائدہ مند ہونے کی بجائے بیس سالوں سے جاری علیحدگی کی تحریک کو مذید طاقتور اور منظم کرنے کا باعث بنے گا۔

بلوچ سیاسی جماعتوں کی جانب سے جو بالخصوص پارلیمانی جدوجہد کا حصہ ہیں، خواتین کو جبری لاپتہ کرنے کی سخت مذمت کی جارہی ہے۔ بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کسی لعت و لال کے بغیرخواتین اور بچوں کو جبری گمشدگی کا شکار کرنے کی مذمت کر کے ان کو فوری بازیاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سینٹ کے گزشتہ اجلاس میں بھی اس واقعہ کی باز گشت سنائی دی۔ اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور پر اس کی مذمت کے علاوہ حکومت کو اس پہ جوابدہ کیا اور ایوان سے بائیکاٹ کر گئے۔ البتہ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل نیشنل پارٹی جو بلوچستان کی غیر پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے کافی عرصے سے اس الزام کا سامنا کرتا آ رہا ہے کہ بلوچستان میں آپریشن اور جبری گرفتاریوں میں ان کی رضامندی شامل رہی ہے. اس اندوہ ناک واقعہ پہ اب تک خاموش ہے۔ پارٹی ترجمان جو عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کے خلاف ہمیشہ متحرک رہتی ہے، مکمل خاموش ہے نا ہی سردار اختر مینگل اور نواب اسلم رئیسانی کی طرح نیشنل پارٹی میں شامل کسی شخصیت نے اس کی مذمت کی ہے اور اس حوالے سے کوئی بیان دیا ہے. البتہ نیشنل پارٹی کے سربراہ وفاقی وزیر میر حاصل خان بزنجو جن کا ضلع آواران سے تعلق ہے اور کراچی سے جبری لاپتہ کیے گئے بچوں یا کوئٹہ کے سریاب روڈ سے ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ اور بچوں جن تعلق بھی میر حاصل خان کے ضلع آواران سے ہے پر لب کشائی کی بجائے آج کے اخبارات میں یہاں حالات کی خرابی کو انڈیا کی سازش کہنے کی بابت امیر صاحب کا تفصیلی بیان ضرور شائع ہوا ہے.

Facebook Comments
(Visited 190 times, 1 visits today)

متعلق اسد بلوچ

اسد بلوچ
تربت میں مقیم اسد بلوچ صحافت اور انسانی حقوق کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق کمیشن کے ضلعی نمایندہ بھی ہیں، اور بیک وقت مختلف صحافتی اداروں کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ علاقائی مسائل پہ تبصرہ اور تجزیہ ان خاص میدان ہیں۔