مرکزی صفحہ / بلاگ / گوادر کے بیروزگار انجینئرز، اعلیٰ حکام کی نظرِ کرم کے منتظر

گوادر کے بیروزگار انجینئرز، اعلیٰ حکام کی نظرِ کرم کے منتظر

برکت اللہ بلوچ

روزگار کے حوالے سے اس وقت گوادر امیدوں کا مرکز ہے۔ ملک کے بھر کے لوگ روز گار کی تلاش میں گوادر کا رخ کر رہے ہیں۔ مزدور سے لے کر انجینئر تک سب کا رخ گوادر کی طرف ہے۔گوادر نہ صرف ملازمت بلکہ کاروباری افراد کا بھی مرکز بنتا جا رہا ہے۔

گوادر اس وقت داتا دربار کا روپ دھار چکا ہے، جہاں سب کا بھلا ہوتا اور سب کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔

گوادر میں چند سال قبل آنے والوں کی زندگیوں میں ایسی تبدیلیاں آشکار ہوئی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ باہر سے آنے والا کل کا مزدور آج کا بزنس مین، کل کا سرکاری ملازم آج کا زمین دار، کرایہ کے گھروں میں رہنے والا بنگلوں کا مالک ملے گا۔

گوادر میں اگر کوئی محرومی اور کسمپرسی کا شکار ہے تو وہ ہے ضلع گوادر کا مقامی شخص اور اس سرزمین کا اصل وارث۔ اگر کوئی یہاں بے روزگار ہے تو وہ گوادر کا مقامی نوجوان ہے۔

ماضی میں گوادر کے نوجوانوں کو طعنہ دیا جاتا تھا کہ وہ تعلیم یافتہ نہیں، ان کے پاس پروفیشنل ڈگریاں نہیں، ان کے پاس قابلیت نہیں لیکن آج سب کچھ ہونے کے باوجود گوادر کا نوجوان سوتیلی ماں سلوک کا شکار بنایا گیا ہے۔ آج اس تعلیم یافتہ طبقے کو جس بے دردی سے نظرانداز کیا گیا ہے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔

یوں تو گوادر میں بیروزگاری بدمست ہاتھی کی طرح کسی کے قابو میں نہیں آ رہی، یہاں ہر دوسرا نوجوان بے روزگاری کا شکار نظر آتا ہے۔ بے روزگاری نے نوجوانوں سے ان کے مستقبل کے خواب ہی نہیں بلکہ امید اور حسرتیں بھی چھین کر مایوسیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

آج کی اس تحریرم میں آپ کو صرف ایک ایسے طبقے کی تفصیل بتانا چاہتا ہوں جس کا کسی پورٹ سٹی میں بے روزگاہونا کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔
عرفِ عام میں اس طبقے کو انجینیئر کہا جاتا ہے۔گوادر جیسے پورٹ سٹی میں بیس سے زائد انجینیئرز کا بے روزگار ہونا کسی المیہ سے کم نہیں۔

گوادر میں اس وقت انجینئرنگ کے بیشتر شعبوں سے ڈگری یافتہ مقامی انجینئرز موجود ہیں لیکن وہ سب ایک ہی غم کے مشترکہ وارث ہیں جسے بے روزگاری کہا جاتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ٹیلنٹ کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا اور پورٹ سمیت تمام شعبوں میں ان کو موقع دیا جاتا تاکہ آنے والے دور میں وہ اپنے شہر کی بہتر خدمت کر سکتے لیکن یہاں مقامی ٹیلنٹ کو ضائع کرنا اور دیوار سے لگانے کا ایسا رواج چل پڑا ہے، جس کی تپش سے ہر مقامی تعلیم یافتہ نوجوان جھلس رہا ہے۔

اس وقت ڈسٹرکٹ گوادر میں موجود بے روزگار انجینئرز کی تفصیل کچھ یوں ہے:

الیکٹریکل انجینئرز تعداد آٹھ
میکنیکل انجینئرز تعداد تین
جیولوجیکل انجینئرز تعداد تین
الیکٹرونکس انجینئرز تعداد دو
کمپیوٹر انجینئرز تعداد دو
کیمیکل انجینئر تعداد ایک
پٹرولیم انجینئر تعداد ایک
بی ایس آرکی ٹیکچر تعداد ایک

یہ وہ تفصیل ہے جس میں صرف انجینئرز کی تعداد کو ظاہر کیا گیا ہے جب کہ ڈپلومہ ہولڈرز بیروزگار ان کے علاوہ ہیں۔ یہ نوجوان اس پورٹ سٹی اور ڈسٹرکٹ کے باسی اور اصل وارث ہیں۔گوادر کی چاروں تحصیلوں سے یہ نوجوان تعلق رکھتے ہیں لیکن ترقی و خوش حالی کے نعروں میں ان کی ڈگریاں نظرِ کرم سے اب تک محروم ہیں۔

گوادر پورٹ، ادارہ ترقیات گوادر، گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ، گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ایسے ادارے ہیں جہاں ان نوجوانوں کو باآسانی کھپایا جا سکتا ہے۔ لیکن زور آور اور سفارش زدہ اس معاشرے میں سفارش اور سرپرستی سے محروم مقامی نوجوان کو کون اہمیت دے گا۔ مقامی نمائندگان اور سیاسی قیادت کی کمزوریوں نے غیروں کو طاقت ور بنا دیا ہے اور ہر ایک نے مقامی نوجوانوں کے حقِ ملازمت پر ہاتھ صاف کرنے کو اپنا اولین فریضہ سمجھ کر تندہی سے اس پر عمل کرنے کا بیڑا بھی اٹھایا ہوا ہے۔

مقامی انجینئرز کو ان کا حق دلانا حکام اعلیٰ کی اولین ذمہ داری ہے۔ گوادر کے مقامی انجینئر کا بے روزگار ہونا مایوسیوں اور محرومیوں کی آگ پر مذید تیل ڈالنے کا کام اور ترقی و خوش حالی کے کھوکھلے نعروں کی حقیقت کو آشکار کر رہا ہے لیکن پرواہ اسی کو ہوگی جو اجتماعی دردِ دل رکھتا ہے۔ انفرادی دردِ دل رکھنے والوں سے بھلائی کی امیدرکھنا خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

گوادر سے سمیٹنے والوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اندر لٹانے کا جذبہ بھی پیدا کریں۔ کیوں کہ جب تک مقامی آبادی میں بے چینی رہے گی، اس وقت تک چَین کی امید رکھنا حماقت ہوگی اور حماقت کی دنیا میں رہنے والے گھاٹے کے سوداگر تصور کیے جاتے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 73 times, 1 visits today)

متعلق برکت اللہ بلوچ

برکت اللہ بلوچ
برکت اللہ بلوچ گوادر یوتھ فورم کے سربراہ ہیں نہ صرف گوادر کے نوجوانوں لیے اس فورم پر آواز بلند کرتے ہیں ان کے مسائل پر قلم کشائی بھی کرتے ہیں۔