مرکزی صفحہ / علمی حال / قائداعظم یونیورسٹی کے طلبا کا 13 مطالبات کے حق میں انتظامیہ کے خلاف دھرنا

قائداعظم یونیورسٹی کے طلبا کا 13 مطالبات کے حق میں انتظامیہ کے خلاف دھرنا

نیوز ڈیسک

قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبا نے پریس ریلیز میں تمام میڈیا کے نمائندوں سے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے تمام طلبا و طالبات پچھلے سات دنوں سےکرپٹ وائس چانسلر اور ان کی نااہل انتظامیہ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور جامعہ کی تمام تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہیں. اس کے علاوہ جامعہ کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند ہیں۔ طلبا پچھلے 6 ماہ سے انتظامیہ اور وائس چانسلر صاحب سے وقتاً فوقتاً مختلف نشستوں میں طلبا و طلبات کو درپیش مسائل کے حل کے لیے درخواست کرتے رہے مگر انتظامیہ کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی۔ مجبور ہو کر طلبا اپنے حقوق کے لیے اپنی تعلیمی سرگرمیاں ترک کر کے سڑکوں پہ احتجاج کے لیے نکل آئے۔

آج اس احتجاج اور دھرنے کا ساتواں دن ہے اور انتظامیہ ابھی تک طلبا کی طرف سے دیے گئے 13 مطالبات جن میں فیسوں میں ناجائز اور بھاری اضافے کی مذمت اور ان میں فی الفور کمی کا مطالبہ، فارمیسی ڈپارٹمنٹ کو پاکستان فارمیسی کونسل سے رجسٹر کرنے کا مطالبہ، گرلز ہاسٹل کی تعداد بڑھانے اور سہولیات کا مطالبہ، بسوں کی تعداد میں اضافہ اور انٹرنیٹ کی بنیادی سہولت کی فراہمی، رواں سال ۲۰ مئی کے طلبا تصادم کے نتیجے میں انتظامیہ کی طرف سے طلبا کو دی گئی سزاؤں میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور طلبا کو برطرف کر کے ان کا تعلیمی قتل کیاگیا۔

اس بات کی توثیق اس طرح کی جا سکتی ہے کہ جونہی طلبا نے اس واقعہ کےحقیقی کرداروں کی بے نقابی کا مطالبہ کیا تو بد حواسی کی شکار انتظامیہ کے Provost امانت صاحب اور سکیورٹی انچارج ڈاکٹر سہیل نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا کیوں کہ یہ عہدیداران اس دن خاموش تماشائی بنے رہے، جس کی وجہ سے طلبا اور یونیورسٹی کا اتنا بڑا نقصان ہوگیا. انتظامیہ کی مداخلت سے مسئلہ فوری طور پر حل ہو سکتا تھا اور جامعہ کا نام بدنام ہونے سے بچا جا سکتا تھا. اس لیے ان طلبا کی ریسٹوریشن کا مطالبہ، سمر کورسز/ سمسٹر کے تمام ڈپارٹمنٹس میں بلا تفریق فراہمی، میڈیکل سینٹر اور جمنازیم میں تمام جدید سہولیات کی فراہمی، جامعہ میں جگہ جگہ غیر ضروری رکاوٹیں، خاردار تاریں اور بیریر کا خاتمہ، ڈگری کلیئرنس کے نظام کو ڈیجیٹل کرنا اور کینٹین کی تعداد اور ان میں معیاری کھانوں کی مناسب قیمتوں پہ فراہمی، سیلف فنانس طلبا کے میرٹ کی خالی سیٹوں پہ منتقلی کے جدید نظام کو متعارف کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔

طلبا و طلبات کی نمائندہ جماعت قائدین اسٹوڈنٹ فیڈریشن (QSF) کے مطابق ہمارے سب مطالبات جائز اور بنیادی نوعیت کے ہیں اور ہم تب تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے جب تک ہمارے 13 کے 13 مطالبات پورے نہیں کیے جاتے۔

طلبا نے انتظامیہ کی انتقامی کارروایاں جن میں طلبا پر پولیس کی طرف سے بے بنیاد FIR کروانا، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو طلبا کے بھڑکانے کے لیےغلط بیانی کرنا اور انھیں پرامن مظاہرین پے آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج اور گرفتاریوں پہ اکسانا، طلبات کو وارڈن کی جانب سے دھمکیاں اور ان کے گھر فون کر کے ان کی کردار کشی کرنا اور میڈیا نمائندوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات کے استعمال کے الزمات لگانے کی اوچھی حرکتیں شامل ہیں۔

طلبا نے مزید کہا کہ ہم تمام میڈیا چینلز کے نمائندوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے احتجاجی کیمپ کا دورہ کریں تاکہ جھوٹی خبروں کا پردہ فاش ہو اور حقیقت عوام تک پہنجے۔

Facebook Comments
(Visited 36 times, 2 visits today)

متعلق نیوزڈیسک

نیوزڈیسک
حال حوال بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔ نیوز ڈیسک سے شائع ہونے والی خبریں مختلف ذرائع سے حاصل کی جاتی ہیں، جن کی مکمل ذمہ داری ادارہ پہ عائد نہیں ہوتی۔