مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / تُو ایسا کوئی اخبار نہ بن!

تُو ایسا کوئی اخبار نہ بن!

محمد خان داؤد

مجھے نہیں معلوم کہ سندھ کے صحافی شاعر منظور سولنگی نے کس کیفیت میں آ کر لکھا تھا کہ،

جیکو سچ لکائے
کوڑ لکھے
تو اھڑی کا اخبار نہ تھی!

جو سچ چھُپا کر
جھوٹ لکھے
تُو ایسا کوئی اخبار نہ بن!

یہ گیت لکھے ایک زمانہ بیتا، اور ایک فنکار نے اسی اپنی آواز دی اسے بھی ایک وقت بیت چکا، لوگوں کی سماعتوں پر یہ گیت ٹکرایا، لوگوں نے اسے گنگایا اسے بھی ایک زمانہ بیت چکا۔ وہ نسل جوان ہوئی جس نے یہ گیت اپنے بچپنے میں سنا، اور وہ نسل اب اپنے بالوں کو خضاب سے رنگ رہی ہے جس کے زمانے میں یہ گیت پہلی بار ٹیپ ریکارڈر میں ایک صدا بن کر گونجتا تھا۔ جب سندھ میں ڈاکوؤں کا راج اور شہروں میں دہشت کا راج ہوا کرتا تھا، اور اخبار کے راوی سب چین ہے ہی لکھتے تھے، تو سندھ کے بڑے بڑے گڑنگ شاعر خاموشی کا روزہ رکھ کر معتکف تھے۔ تو ایک صحافی شاعر نے ہمت کر کے لکھا ان اخباروں کے خلاف جو اخبارات سرکار سے اشتہار لے کر اسلام آباد میں اپنے مہنگے پلاٹ لے رہے تھے۔ سرکار سے کاغذ میں سبسڈی لے کر اپنے بچے لمس میں پڑھا رہے تھے۔ وہ سب اخباری مالک وہ تھے جو اپنی جوانی میں کامریڈ ہوا کرتے تھے، سرخے ہوا کرتے تھے۔ اپنے ہاتھوں میں سرخ پرچم لیے اسے جھلانے کے خواب دیکھا کر تے تھے۔ ایاز اور فیض کی طویل نظمیں یاد کیا کرتے تھے۔

پھر وہ سب قرت العین حیدر کے ناول کی طرح "آخرِ شب کے ہم سفر” ثابت ہوئے، اور اخباری مالک بن بیٹھے۔

ایک غریب کامریڈ سے ایڈیٹر، اور پھر ایڈیٹر سے اخباری مالک، اور اخباری سیاست کا حصہ بنتے چلے گئے، اور وہ خلق وہاں ہی رہی جن کے اچھے دنوں کے وہ خواب دیکھا کر تے تھے۔ جب سب بُرا تھا تو جب بھی ان کے وہ اخبار سب اچھا ہے کی رٹ لگایا کرتے تھے۔

اس لیے ایک صحافی کو ہی شاعر بننا پڑا۔ اور اسے ان اخباروں کے لیے لکھنا پڑا،

جیکو سچ لکائے
کوڑ لکھے
یار اھڑی کا اخبار نہ تھی!

کہنے کو تو پاکستان میں میڈیا آزاد ہے۔ اور میڈیا ریاست کا چوتھا ستون بھی ہے۔ ہم جب بھی اپنا ٹی وی آن کرتے ہیں تو ڈھونڈنے سے بھی کوئی تفریحی چینل نظر نہیں آتا۔ بس ہر طرف خبروں کی بھرمار ہے۔ پر ان خبروں میں باقی سب صوبے نظر انداز ہوتے ہیں۔

یہ تو ٹی وی چینلوں کی روش ہے۔ پر ان اخبارات کو کیا ہوا ہے جو شہروں میں چھپتے ہیں اور دیہی علاقوں میں ایسے جاتے ہیں جہاں وہ دیہی لوگ ان اخبارات کا ایسے انتظار کرتے ہیں جیسے کوئی اپنی محبوبہ کے خط کا انتظار کرتا ہے۔ پر جب وہ اخبارات ان علاقوں میں پہنچتے ہیں تو فرنٹ پیج سے لے کر لاسٹ پیج تک کیا خبریں ہوتی ہیں؟!!

"مریم نواز، کیپٹن صفدر، اسحاق ڈار، نواز شریف، عمران خان۔۔۔۔”

اور کیا ہوتا ہے ان خبارات میں۔۔۔؟!!

اور ان اخبارات کے خریدار کون ہوتے ہیں۔ سندھ کے لوگ، بلوچستان کے لوگ، اور بلوچستان میں بھی، کوئٹہ کے، لورالائی کے، سبی کے، مکران، کلمت کے لوگ، چمن، قلات کے لوگ! گوادر، وندر کے لوگ!

اور کیا بلوچستان کے کوئی مسائل نہیں؟ اگر ہیں تو ان اخبارات میں اپنی جگہ کیوں نہیں بنا پاتے؟ وہ لوگ جو کراچی میں رہ کر اخبار کی ایک کاپی تیار کرتے ہیں پھر اس ایک اخبار سے ہزاروں اخبار تیار ہوتے ہیں۔ ان ایڈیٹروں اور سب اڈیٹروں اور کاپی پیسٹوں کو بلوچستان کے مسائل نظر کیوں نہیں آتے۔بلوچستان کا چھوٹا موٹا حادثہ یا واقعہ تو کسی گنتی میں نہیں۔ پر اگر بلوچستان میں کوئی بڑا واقعہ ہو جائے تو وہ بھی کسی سٹی پیج پر بس ایک دن ہی اپنی جگہ بنا پاتا ہے۔

باقی ان اخبارات میں بلوچستان کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا!

کہیں پر بھی یہ خبر نہیں ہوتی کہ وہ بلوچ مائیں کیا سوچتی ہیں جن کے بیٹے ان کے گھروں میں نہیں؟
ان اخبارات میں کہیں بھی ایسی خبر نہیں ہوتی کہ بلوچ سیاسی قیادت کیا سوچ رہی ہے؟
ان اخبارات میں کہیں بھی ایسی خبر نہیں ہوتی گوادر کے مقامی ماہی گیر کیا سوچتے ہیں؟
ان اخبارات میں کہیں بھی ایسی خبر نہیں ہوتی کہ بلوچستان کیا سوچ رہا ہے؟
ان اخبارات میں کہیں بھی ایسی کوئی خبر نہیں ہوتی کہ بلوچ دانش ور کیا سوچ رہا ہے؟
ان اخبارات میں کہیں بھی ایسی کوئی خبر نہیں ہوتی کہ سیندک کیا ہے؟ اور اس سے مقامی بلوچ کو کیا فائدہ ہے؟

تو کیا پھر بھی اس میڈیا کا بلوچستان میں بائیکاٹ نہیں کیا جائے جو بلوچ کو نہیں جانتا؟ بلوچستان کو نہیں جانتا؟ پر ان دور دراز علاقوں تک جاتا ہے جہاں کے اخبار بین ان اخباروں کو انتظار ایسے کرتے ہیں کہ جیسے کہیں سے محبوبہ کی کوئی پیار بھری چٹھی آئی ہو!

ان اخباروں کو اہلیانِ بلوچستان اور بلوچ کہہ رہے ہیں کہ،

جیکو سچ لکائے
کوڑ لکھے
تو اھڑی کا اخبار نہ تھی!

جو سچ چھُپا کر جھوٹ لکھے
تُو ایسا کوئی اخبار نہ بن!

اور تو اور بلوچ ایک طرف، بلوچستان کے مسائل ایک طرف پر اب کی بار محمد وسیم اپنے جسم پر بہت سے مکے کھا کر، اپنے جسم پر درد سجا کر آیا اس ملک کے لیے ایک ٹائیٹل لے کر جیت کر آیا۔ پر جب اس کی خبر ان قومی اخبارات میں دیکھتے ہیں تو کوئی خبر نہیں!

اور اخبارات کی سرخیاں بلوچستان کا منہ چُڑا رہی ہے کہ، ” کیپٹن صفدر نیب سے بری ہو کر گھر پہنچ گئے!”

Facebook Comments
(Visited 26 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com