مرکزی صفحہ / خصوصی حال / گوادر، ماضی کی سیاست اور مستقبل کے اتار چڑھاؤ

گوادر، ماضی کی سیاست اور مستقبل کے اتار چڑھاؤ

ظریف بلوچ

گوادر سی پیک کا مرکز ہے، پورٹ سٹی اور جغرافیائی لحاظ سے سینٹرل ایشیا کا تجارتی گیٹ وے بھی ہے۔ نہ صرف بلوچستان کے سیاسی حلقوں کے لیے بلکہ ملکی سیاسی حلقوں کے لیے گوادر کی صوبائی نشست حلقہ پی بی 51 نہایت اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہے اور آنےوالا والے 2018 کے مجوزہ الیکشن جوں ہی قریب ہوتے جا رہے ہیں، سیاسی پنڈت اس نشست پر کامیابی حاصل کرنے سے متعلق نئی صف بندیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ انتخابات جیتنے کے بعد عوام سے دور رہنے والے گوادر کے نمائندے اب پھر اپنے مخصوص ٹولوں کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ جب کہ ذرائع اور سیاسی تجزیہ نگار اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ اب عوام نے بار بار منتخب کرنے والوں کی سیاسی چال سے بھی واقفیت حاصل کر لی ہے۔ اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ نشست گوادر کے تین سیاسی خاندانوں کے پاس سے ہوتی آ رہی ہے۔

1985 کے غیر جماعتی انتخاب سے 2013 کے عام انتخابات تک یہاں تین خاندان کے لوگ کامیاب ہوتے آ رہے ہیں جو کبھی سیاسی حلیف تو کبھی حریف ہوکر بھی یہ نشست اپنے پاس رکھتے آ رہے ہیں۔ 1985 کے غیر جماعتی الیکشن میں گوادر دو صوبائی نشست پر مشتمل تھا، جہاں سیدداد کریم اور میر عبدالغفور کلمتی کامیاب رہے۔ 1988 اور 90 کے عام انتخابات میں اشرف حسین یہاں سے منتخب ہونے کے بعد وزیر فشریز رہے۔ 1993میں یہ نشست سید خاندان کے سید شیر جان بلوچ کے حصے میں آ گئی۔ 1997 میں ایک بار پھر میری عبدالغفور منتخب ہو کر وزیر کھیل و ثقافت رہے۔ 2002 کے انتخابات میں یہ نشست سید شیر جان بلوچ کے حصے میں رہی۔ 2008 کے الیکشن میں بلوچستان میں قوم پرست حلقوں کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے بعد میر حمل کلمتی منتخب ہو کر وزیر فشریز رہے جب کہ 2013 میں بھی یہ نشست میری حمل کلمتی کے پاس ہی رہی۔

گوادر کی صوبائی نشست زیادہ تر کلمتی خاندان کے میر عبدالغفور کلمتی اور ان کے نوجوان بیٹے میر حمل کلمتی کے پاس رہی ہے۔ باپ بیٹا دو دو مرتبہ یہاں سے منتخب رہے۔ جب کہ میر عبد الغفور کلمتی گوادر کے ضلعی ناظم بھی رہ چکے ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں میر حمل کلمتی بی این پی میں شامل ہوگئے جہاں ماضی کے حریف سید عیسیٰ نوری کے ساتھ مل کر گوادر کی صوبائی نشست پر کامیاب رہے اور کیچ کم گوادر کی قومی نشست بھی بی این پی کے سید عیسیٰ نوری کے پاس رہی اور یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ کیچ کم گوادر کی نشست گوادر کے پاس رہی۔

گوادر پر حکمرانی کرنے والوں نے آج تک گوادر کے عوام کو سیاسی نعرے لگا کر دھوکے میں رکھا۔ یہ لوگ منتخب ہونے کے بعد پھر دوبارہ عوام کے پاس جانا بھی گوارا نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ اپنے ٹولے بنا کر علاقے کے عوام سے ملنا تو دور کی بات ان کی شکایت تک نہیں سنتے ہیں۔

سی پیک کے شہر میں آج بھی پینے کے لیے پانی نہیں۔ کرپشن اور اقربا پروری عروج پر ہے۔ پسنی فش ہاربر کھنڈرات کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مقامی نوجوانوں کی ملازمت اور ترقیوں کو روکا جا رہا ہے۔ الیکشن جیتنےکے بعد عوام سے رشتہ ختم کرنے والے نمائندے اب پھر باہر نکل آئے ہیں۔ لوگ منتخب نمائندوں کے دیدار کو ترس رہے ہیں۔ گوادر کی نشست پر اس مرتبہ توقع تو یہ ہے کہ نیشنل پارٹی مضبوط امیدوار کے ساتھ مخالفین کو ٹف ٹائم دے گی۔

مقامی سیاسی ذرائع اس حوالے سے کہتے ہیں کہ نیشنل پارٹی کے مقامی قائدین نے عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر عوام کا ساتھ دیا اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گوادر کے منتخب نمائندے چوں کہ عوام کی بجائے چند مخصوص لوگوں کو نوازنے میں لگے ہوئے ہیں اور عام لوگوں کے لیے ان سے ملاقات کرنا بھی ناممکن رہا ہے اور عوام کے لیے ان کے دروازے گزشتہ کئی عرصے سے بند ہیں۔ جب کہ ان کے مقامی قائدین بھی عوام سے دور ہونے کی وجہ سے نیشنل پارٹی نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

اس وقت گوادر میں پارٹی کی مقبولیت کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے انتخابات میں نیشنل پارٹی گوادر میں ٹف ٹائم دے گی جب کہ دوسری جانب بی این پی عوامی اور بی این پی مینگل کی اتحاد کے حوالے سے بھی خبریں آ رہی ہیں اور اگر ان کا اتحاد ہوگیا تو پھر نیشنل پارٹی کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب مقامی تجزیہ نگار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کیا گوادر کی سیاسی تاریخ بدلے گی یا پھر انہی تینوں خاندانوں میں سے ایک بار کسی ایک کی کامیابی متوقع ہے، کیوں کہ نیشنل پارٹی کے میر اشرف حسین اور بی این پی مینگل کے میر حمل کلمتی اس وقت سیاسی دوروں پر ہیں اور بی این پی عوامی نے بھی الیکشن مہم کا آغاز کیا ہے۔

گوادر کی نشست میں چند اہم شخصیات کے ووٹ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب تک ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ گوادر ضلع کی چند اہم شخصیات نے اب تک باقاعدہ طور پر کسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔ سیاسی مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اورماڑہ کے سیاسی ماحول میں سید مہیم جان کی حمایت کسی بھی امیدوار کی جیت میں اہم رول ادا کر سکتی ہے۔

گوادر میں بی این پی مینگل کی عوامی پذیرائی میں مسلسل کمی کے باوجود مقامی قائدین اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے آ رہے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 90 times, 1 visits today)

متعلق ظریف بلوچ

ظریف بلوچ
بلوچستان کا ساحلی علاقہ پسنی سے تعلق رکھنے والا ظریف بلوچ گوادر کے ان موضوعات پر لکھنا پسند کرتا ہے جن پر لکھا نہیں گیا ہے۔۔