مرکزی صفحہ / سماجی حال / گوادر میں کرپشن کے خلاف جماعتِ اسلامی کی پریس کانفرنس

گوادر میں کرپشن کے خلاف جماعتِ اسلامی کی پریس کانفرنس

سلیمان ہاشم

گوادر کرپشن میں پورے بلوچستان میں سرفہرست ہے، گوادر میں اور بلوچستان میں نیب کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان لوگوں کے خلاف کرپشن کا آغاز کرے جنہوں نے اربوں روپے کے غبن کیے ہیں، ہم محترم جسٹس (ر) جاوید اقبال صاحب، چیرمین نیشنل اکاؤنٹ ایبلٹی بیورو پاکستان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ملک میں کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی صوبہ بلوچستان کے جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمان، ضلعی امیر مولانا لیاقت بلوچ، شکیل کے ڈی، بلال عزیز، عبدالرزاق، امتیاز کریم و دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلع گوادر میں اربوں کے وسائل کی لوٹ مار اور لاکھوں ایکٹر زمینوں کو اپنے نام کروانے والے آج ارب پتی بن چکے ہیں۔ سی پیک کا مرکز گوادر کے عوام کو پینے کا صاف پانی تک نصیب نہیں، معیاری تعلیم دستیاب نہیں، یہاں کے %80 لوگ ماہی گیری کے پیشے سے وابسطہ ہیں۔ نیب کی ذمّہ داری ہے کہ وہ گوادر کی تمام منصوبوں پر مکمل تحقیقات کرائے اور لوٹ مار کرنے والوں کو بے نقاب کرے۔

گوادر میں 2012 سے لے کر پانی کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے، ٹینکر مالکان کو 50 کروڑ کی رقم ادا کی گئی ہے، پھر بھی پانی کا کوئی مستقل حل سامنے نہ آ سکا، پھر 2015 میں پانی کی مد میں صوبائی حکومت نے 50 کروڑ کی رقم ریلیز کی، ایک بار پھر 2017 میں پانی کے بحران پر صوبائی حکومت نے ٹینکر مالکان کو 50 کروڑ کی رقم ادا کی اور یہ سلسلہ جاری ہے، سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹ پر اربوں روپے خرچ ہوئے لیکن یہ رقم بھی بیوروکریسی اور عوامی نمائندوں کی کرپشن کی نذر ہو گئی، ضلع گوادر میں سوڈ کور ڈیم اور شادی کور دیم کی رقم جو اربوں روپے کی اسکیم کا ہے لیکن یہاں کے عوام پانی سے ہنوز محروم چلے آ رہے ہیں۔

2002 گوادر پورٹ کے افتتاع کے بعد محکمہ GDA کا وجود قائم ہوا تانکہ گوادر شہر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے، اس ادارے نے گوادر کو ترقی دینے کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے لیکن گوادر کے قدیم باشندے اس سے مستفیض نہ ہو سکے، اس میں کرپشن اور لوٹ مار ہوتی رہی، ضرورت ہے کہ شفاف تحقیات عمل میں لائی جائے۔

GPA پورٹ اتھارٹی کے کاموں میں سرفہرست گوادر شہر کی تعمیر و ترقی شامل تھی لیکن گوادر پورٹ آج کنگال ہو کر رہ گیا ہے، الاؤنسز کے لیے ملازمین وقتاً فوقتاً احتجاج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

نیوٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم عرصے سے کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔ اس اسکیم میں نمبرنگ ایک پرائیویٹ کمپنی کو دی گئی ہے۔ اسکیم کے نقشے اپنی مرضی سے ردو بدل کر کے غیر اعلانیہ طور پر سرکاری اسکیم پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ نیوٹاؤن اسکیم کی مساجد، پارک، اسکولز، ہاسپٹل کی زمینوں کو بیچا جا رہا ہے، آج گوادر کے غریب الاٹیز کافی اذیت کے شکار ہیں، ناجائز زمینوں کی الاٹمنٹ کام جاری و ساری ہے، آج سے دس یا بیس سال پہلے کسی کے پاس ایک ایکڑ زمینیں نہیں تھی آج وہ جیوانی سے لے کر اورماڑہ کی زمینوں کے مالک بن بیٹھے ہیں، معمولی پٹواری بھی ارب پتی بن چکے ہیں۔

گوادر کے سابق وزرا کے اثاثہ جات کی چھان بین کی ضرورت ہے۔ گوادر بلدیہ میں کچھ سال پہلے 15 کروڑ کی خطیر رقم کی بندر بانٹ کی گئی، ایک ٹیم کوئٹہ سے تحقیقات کے لیے آئی لیکن اس کی رپورٹ سامنے نہ آ سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں ایسے کرپشن ہوتی رہی لیکن مؤثر تحقیقات نہ ہونے کی وجہ سے کچھ مافیا دلیر ہو چکی ہے، اب وقت ہے کہ ان کو لگام دی جائے تانکہ گوادر کے غریب عوام کے وسائل کو کوئی ناجائز ہڑپ نہ کر سکے۔

Facebook Comments
(Visited 21 times, 1 visits today)

متعلق سلیمان ہاشم

سلیمان ہاشم
سلیمان ہاشم گوادر کے سینئر صحافی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف اداروں کے لیے صحافتی خدمات انجام دینے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ رپورٹنگ کے ساتھ علاقائی سماجی، سیاسی مسائل پہ تبصرہ نگاری بھی کرتے ہیں۔ Email: sulemanhashim123@gmail.com