مرکزی صفحہ / فنی و ادبی حال / بلوچستان سنڈے پارٹی کا دیوان

بلوچستان سنڈے پارٹی کا دیوان

شکور نورزئی

بلوچستان سنڈے پارٹی کا ہفتہ واراجلاس پروفیشنل اکیڈمی میں ہوا ۔جس کی صدارت ڈاکٹر شاہ محمد مری کررہے تھے۔ شرکامیں جیئند خان جمالدینی ،پروفیسرڈاکٹر شاہ محمود سنجرانی ،پروفیسر اکبرعلی ساسولی، وحید زہیر، سرور آغا،شیام کمار ،پروفیسر جاوید اختر، پروفیسرفیصل ندیم ، عابد میر، زرک بگٹی،جونیئر آزاد جمالدینی اور راقم الحروف شامل تھے۔ یہ ایک غیر رسمی میٹنگ تھی ،جس میں مختلف موضوعات پر بات کی گئی ۔

اس غیررسمی دیوان کی ابتدا کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہ محمد مری نے شہہ مُرید اور چاکر اعظم کی بات کرتے ہوئے کہا کہ شہ مُریدچاکر اعظم کی بات سے خفا ہوکر گھر سے چلا گیا اور کسی نے چاکر اعظم کو کہا کہ شہ مُرید فتح پور میں ایک سنار کے پاس ملازم ہے اور چاکر اعظم اپنے بیٹے کو لینے فتح پور پہنچا ۔پھر اس نے سنار کی کافی عرصے تک خدمت کی اور اپنے بیٹے کو واپس لے جانے کی ترکیبیں سوچتا رہا۔ پھر ایک دن چاکر نے اس ملازم کو ہنستے ہوئے دیکھا تو وہ پہچان گیا کہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے اور اس نے فتح پور شہر کوبد دعا دی۔فتح پور بلوچستان کا وہ شہر ہے جس کا تاریخ میں بھی ذکر ہے ۔

اس طرح مختلف موضوعات پر وقفے وقفے سے باتیں ہوتی رہیں۔ اس بیچ اکبر ساسولی نے کہا کہ ہم میں تما م لوگ پروفیسر واساتذہ ہیں اور ہم مل کر ایک جدید معاشرے کو جنم دے سکتے ۔ ہم اپنی نسلوں کو شعور کے شہر میں داخل کرسکتے ہیں بلکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے ۔ جیئند خان جمالدینی نے کہا کہ ہمارے کندھوں پر معاشرے کی اصلاح کا بوجھ ہے اور ہمیں اسے خوش اسلوبی سے منزلِ مقصود تک پہنچانا ہے ۔

عابد میر نے بھی بحث میں حصہ لیا اورکہا کہ معاشرہ تنزلی کا شکار ہے اور ہمیں اس معاشرے کو مل کر اس زوال سے نکالنا ہے ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

بحث میں تقریباً تمام دوستوں نے اپنا حصہ ڈالا اور سب اس بات پر راضی تھے کہ سب سے پہلے ہمارے معاشرے کے باشعور لوگوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں شعور اُجاگر کریں۔علم کی روشنی گھر گھر پہنچائیں اور اپنے لوگوں کوایسا راستہ دکھائیں کہ جس میں حق اور انصاف باآسانی ان کی دہلیز تک پہنچ سکیں اور وہ بھی اپنے حقوق وفرائض سے آشنا ہوسکیں۔

سنڈے پارٹی کا اختتام ہمیشہ کی طرح ڈاکٹر شاہ محمود کی فارسی غزل سے ہوا۔

خوشاآنان کہ باعزت زگیتی
بساط خویش بر چیدندورفتند

اس شاعری کا ترجمہ کچھ یو ں ہے:

مرحبا وہ لوگ جو عزت سے دنیا سے
اپنی بساط لپیٹ لی اور چلے گئے
اس پریشانی کے بازار میں چیزوں کے بیچ سے
سامانِ محبت کو پسند کیا، اٹھایا اور چلے گئے
مرحبا وہ لوگ جو اس باغ میں پھول کی طرح
کچھ لمحے ہنسے کھیلے اور چلے گئے
مرحبا وہ لوگ جنہوں نے وجدان کے ترازو سے
اپنے حصے کا اٹھایا اور چلے گئے
رعب و دبدبہ باطل میں نہیں آئے
حقیقت کو پسند کیا اور چلے گئے
مرحبا وہ لوگ جو اس خاک کے تخت پر
خورشید کی طرح چمکے اور چلے گئے
مرحبا وہ لوگ جنہوں نے پیمانہ دوست سے
شرابِ عشق نوش کی اور چلے گئے
مرحبا وہ لوگ جنہوں نے راہِ عدالت میں
اپنا خون بہایا اور چلے گئے
مرحبا وہ لوگ جنہوں نے آدمیت کی کھیتی میں
بیجِ انسانیت گویا اور چلے گئے
مرحبا وہ لوگ جنہوں نے وادی حق میں
قدم رکھا، نہ گھبرائے اور چلے گئے
تقویٰ کا لباس پہن کر پاک لوگوں نے
عزت کا لباس پہنااور چلے گئے
مرحبا وہ لوگ جنہوں نے بارِ دوستی کو
اٹھایا، رنج نہ کیااور چلے گئے
شکیب راہِ خدمت میں کوشاں رہ کر
مرحبا وہ لوگ کہ جنہوں نے کوشش کی اور چلے گئے

Facebook Comments
(Visited 22 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔