مرکزی صفحہ / خصوصی حال / بیوٹمز میں آرٹ گیلری اور فن کاروں کا فن

بیوٹمز میں آرٹ گیلری اور فن کاروں کا فن

زرک بگٹی

"لوگ جس ذہنی حالت میں ہوتے ہیں، اکثر اسی کو اپنے فن کا بھی حصہ بنا لیتے ہیں، لیکن میں نے اپنے فن کو موسیقی کے نام کیا ہے، وہ موسیقی جو ہر غم سے بچاتی ہے اور ہر درد کا مرہم ہے۔” یہ کہنا ہے ثنا غرشین کا جو ‘بیوٹمز’ (بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئنرگ اینڈ منیجمنٹ سائنسز)‌ کی آرٹ گیلری میں اپنے فنی جوہر کی نمائش کر رہی تھیں۔

بلوچستان میں گزشتہ کافی عرصے سے غم اور دکھ ہی کی کیفیت دکھائی دیتی ہے، اب بھی دو دن پہلے شال کی سڑکیں خون سے رنگ دی گئیں اور فضا میں پھر سے سوگواری چھا گئی۔ لیکن ایسے حالات میں ہم ایک ایسے حلقے کو بھول جاتے ہیں جو ہمیشہ خوشیاں اور محبتیں بانٹ رہا ہوتا ہے۔ جی ہاں، میں ہمارے ان آرٹسٹوں کی بات کر رہا ہوں جنہیں عموما نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور میڈیا میں ہمیشہ سنسنی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اکثر ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے ہاں فنون کو خاص ترجیح نہیں دی جاتی۔ لیکن، ایک سوال کے جواب میں آرٹسٹ عثمان علی کا کہنا تھا کہ "ایک وقت میں بلوچستان کے آرٹسٹ طبقے کو اتنی پذیرائی نہیں ملتی تھی پر اب ہر جگہ آرٹ گیلریز منعقد کی جاتی ہیں اور اس سے نئے ابھرنے والے آرٹسٹ کو بہت زیادہ ایکسپوژر ملتا ہے اور اور نئے آرٹسٹس کی پذیرائی ہوتی ہے۔”

عثمان علی فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ کا آخری سال مکمل کر چکے ہیں۔ وہ پینٹنگ اور اسکلپچر کے فن میں ماہر ہیں۔

عثمان علی کی بہت ساری شاندار تخلیقات دیکھ کر ان سے سوال کیا کہ ان کا فنی موضوع کیا ہے اور انہوں نے یہ مجسمے کیسے بنائے تو ان کا کہنا تھا کہ "میرا موضوع ‘بے خودی’ ہے اور یہ سارے مجسمات میں نے ان لوگوں کے بنائےں ہیں جنہیں میں روزمرہ کی زندگی میں دیکھا کرتا تھا اور یہ وہی ہیں جو سڑکوں، بس اور ریلوے اسٹیشنوں پہ روز نظر آتے ہیں”۔

ایک لکھاری تو لکھ کر اپنا حال سناتا ہے لیکن ایک آرٹسٹ تو وہ سب دکھا دیتا ہے جو اس نے دیکھا ہو، خواہ وہ نہایت خوشی کا ایک لمحہ ہو، غم میں ڈوبی ہوئی ایک سسکی ہو، یا پھر بے خودی کا منظر ۔۔۔۔ ثنا غرشین کی مہارت پینٹنگز ہیں۔ ان کی گیلری میں مدھر سی موسیقی چل رہی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ، وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی تصویر بنانے کا شوق رکھتی تھیں اور ان کے والدین نے ان کی ہر طرح سے پذیرائی کی، لیکن ہمارے معاشرے میں ایک آرٹسٹ کو بیکار سمجھا جاتا ہے اور اس کے آرٹ کی عزت نہیں کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ان کے اپنے خاندان میں کچھ لوگ اس بات کہ خلاف تھے کہ وہ فائن آرٹس کر رہی ہیں۔

بیوٹمز کے وی سی جناب فاروق بازئی نے بھی ان نوجوان فن کاروں کے فنی جوہر دیکھے اور ایک مجسمہ دیکھ کر ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ عثمان علی کھوکھر نے انہیں ایک مجسمہ بطور تحفہ پیش کیا۔

عثمان کے بڑے بھائی بھی ایک آرٹسٹ ہیں اور انہی کی وجہ سے وہ اس طرف راغب ہوئے۔ عثمان کا گھر سریاب روڈ پر واقع ہے، ان کی اکثر پینٹنگز اور مجسموں میں بلوچی فیچرز نظر آتے ہیں۔

بلوچستان کے نئے آرٹسٹس اور آرٹس سے شغف رکھنے والے بچوں کے لیے ثنا غرشین کا کہنا تھا کہ "بلوچستان میں فن کی کوئی کمی نہیں ہے، لوگ یہاں آئیں اور آ کر ہمارے کام کو ملاحظہ کریں۔ جن بچوں کو آرٹس کا شوق ہے اور ان کے گھر والے اجازت نہیں دیتے، وہ ہمارے پاس آ جائیں، ہم ان کے والدین کو سمجھائیں گے۔”

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ "خدارا اپنے فن اور شوق کو لوگوں کو خوش رکھنے کے لیے ضائع نہ کریں۔”

Facebook Comments
(Visited 411 times, 1 visits today)

متعلق زرک بگٹی

زرک بگٹی
کوئٹہ میں مقیم زرک بگٹی کا بنیادی تعلق ڈیرہ بگٹی سے ہے۔ انجینئرنگ کے طالب علم ہیں۔ سماجیات و سیاسیات ان کی دلچسپی کے خاص موضوعات ہیں۔ xarakbugti@gmail.com