مرکزی صفحہ / بلاگ / ایک ادھوری تحریر

ایک ادھوری تحریر

بالاچ قادر

ان کی خود کشی کو ایک سال بیت گیا۔ کسی نے ان کی موت پہ آنسو نہ بہائے، نہ کوئی رسم، نہ قبر پر پھول اور نہ ہی رات کے وقت ان کے سرہانے چراغ کی روشنی ……گاؤں کی پہاڑی کے پیچھے قبرستان کی مغربی سمت میں واقع ایک قبر گویا کچھ کہنا چاہ رہی ہے لیکن بنی آدم کی اس اندھے بستی میں سب کے سب سن بھی نہیں سکتے۔

میں نے اسے آخری بار اس وقت دیکھا تھا جب چھٹیوں کے موقع پر گاؤں میں تھا۔ مغرب کے وقت اپنے چھوٹے بھائی کی قبر پر اگر بتی جلانے گیا تو وہ اپنی پھول سی بیٹی کی قبر پر بیٹھ کر کچھ لکھ رہا تھا۔ میں اس کے پاس بیٹا رہا ….. اس نے ایک کا غذ کو سیاہ کر کے مجھ کو دیا اور کہنے لگا "جب شہر میں جاؤگے تو میری اس تحریر کو کسی ماہنامہ میں چھپوانا۔”

میں نے کاغذ جیب میں رکھ کرسیدھا گھر چلا گیا اور وہ اب تک وہاں بیٹھے تھے۔ اُس دن کے بعد میں ان کی تحریر کو چھپوا نہ سکا اور نہ ہی پڑھ سکا کہ لکھا کیا ہے۔ پھر نہ وہ رہے، اور نہ میں گھر لوٹا۔

آج ایک سال میں قبرستان میں بیٹھ کر ان کی تحریر کو پڑھ رہا ہوں۔ لکھا ہوا ہے کہ،

"ہم سب ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں خواب حقیقت میں بدل جانے سے پہلے تم توڑ جاتے ہیں …… ہم ایک ایسے سماج کے کارواں میں شامل ہیں جہاں خواہشیں پایہِ تکمیل تک پہنچنے سے پہلے زنگ آلود ہوتے ہیں …… ایک ایسا معاشرہ جہاں امیدوں سے تعمیرشدہ بلند و بالا عمارتوں کو ملیہ میٹ ہونے میں دیر نہیں لگتی …… اس آتش فشاں سماج میں روز امیدوں، ارمانوں اور خواہشون کی مہذب بستیاں جل کر راکھ ہو جاتے ہیں …..!

یہاں راست گوئی کی سزاب ھگتنے کی دوڑ میں روز سقراطوں کو زہر کا پیالہ دیا جاتا ہے، یہاں سچ کی عظمت معمول بن چکی ہی …… دن دہاڑے روشنی کو پھانسی پر لٹکنے کا رواج جاری ہے۔ تاریکی نے بہت سے ارمانوں کو مار ڈالا ……. سوچنا، سوچ کر بولنا یا کسی بات پر تبصرہ کرنا ہمارے تعلیم یافتہ سماج میں جرم ہے، سوال کرنا بداخلاقی سمجھا جاتا ہے اور جس کو سر جھکانا نہیں آتا، سمجھو بے ادب ہے۔

چلو مان لیا کہ ہم برے ہیں، بات کرتے ہیں تو زبان سے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں …… لکھتے ہیں تو ہماری تحریروں میں تلخ الفاظ کا مکالمہ ہوتا ہے …… سوال پوچھتے ہیں تو آپ کی کتابوں کے اوراق میں جواب نہیں ہوتا…..!

پر سنو ……! ہم جو بھی ہیں لیکن آپ کی طرح سربازار سچائی کا سودا ہوتا ہوا دیکھ کر چپ نہیں رہ سکتے!!”

Facebook Comments
(Visited 96 times, 1 visits today)

متعلق بالاچ قادر

بالاچ قادر
بالاچ قادر نوجوان طالب علم ہیں۔ گوادر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سماجی موضوعات پہ بلاگ لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ balachqadir23@gmail.com