مرکزی صفحہ / خصوصی حال / سانحہ فتح پور دھماکے کے متاثرین اور حکومتی کارکردگی

سانحہ فتح پور دھماکے کے متاثرین اور حکومتی کارکردگی

فیصل محمد حسنی

بلوچستان کے علاقے ضلع جھل مگسی تحصیل گنداواہ کی درگاہ فتح پور صوفیاکرام کی دینی اور علمی خدمات کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچانی جاتی ہے۔ فتح پور صوفیائے کرام کا علاقہ ہے جس میں بزرگانِ دین سائیں چِیزل شاہ، رَکھ یَل شاہ اور سائیں صادق شاہ گدانشین فتح پور اپنے صوفیانہ کردار کی وجہ سے پوری دنیا میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

درگاہ فتح پور کے صوفیائے کرام نے ہمیشہ امن وامان اور محبت اور بھائی چارے کے درس کو عام کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی مریدوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور لوگ جوق درجوق صوفیائے کرام سے فیض لینے درگاہ فتح پور پہنچ جاتے ہیں اور فیض یاب ہو کر لوٹتے ہیں۔ صوفیائے کرام اپنے محبت بھرے اخلاقی پیغام سے دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں۔ صوفی کا درس امن کا درس ہے۔

مظلومیت کی ایک داستان ہمیں فتح پور میں ملتی ہے جہاں گزشتہ دنوں ایک مرتبہ پھر سے درگاہ فتح پور میں دہشت گردوں نے خوکش دھماکہ کر کے سیکڑوں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جس میں 24 سے زائد افراد شہید پچاس کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ جمعرات کی شام دھماکہ اس وقت ہوا جب درگاہ میں محفل کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں لوگوں کی کثیر تعداد سندھ اور بلوچستان سے آئی ہوئی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق کہ درگاہ کے باہر والے گیٹ پر ایک مشکوک شخص کو ڈیوٹی پر تعنیات پولیس اہلکاروں نے رکھنے کا کہا جس پر خود کش حملہ آور درگاہ کے اندر بھاگنے لگا جس کا تعاقب کر کے ایک پولیس اہلکار نے پکڑنے کی کوشش کی تو خودکش بمبار نے خود کو دھماکہ کر کے اڑا دیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں کی تعداد میں خون سے لت پت لاشیں اور زخمی ہر طرف پڑے دکھائی دے رہے تھے۔

دہشت گردوں نے درگاہ کی محفل کو ماتم میں بدل دیا۔ پورے علاقے میں سوگ کا سماں چھایا ہوا تھا۔ ہر کوئی اپنے پیاروں کو تلاش کر رہا تھا۔ سانحہ فتح پور نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ درگاہ فتح پور پر یہ دوسرا خودکش حملہ ہے۔ اس سے قبل 2005 میں بھی ایک خودکش حملہ کیا گیا، جس میں سیکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے جو آب اپاہج ہو چکے ہیں۔

بلوچستان میں اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کے مزاروں پر دھماکہ یہاں کے امن وامان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ شاہ نورانی اور فتح پور واقعہ میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگ شہید ہوئے ہیں۔ سانحہ فتح پور میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد معاشرے کے انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو محنت مزدوری اور کھیتی باڑی، بزگری کے ذریعے اپنے اور اپنے خاندان کا پیٹ پالتے تھے۔ اس سانحے میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے لیے حکومت کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی امداد یا پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ زخمی ہونے والے افراد اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتالوں میں اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ اور شہید ہونے والے افراد میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کے گھروں میں دو وقت کی روٹی بھی بمشکل نصیب ہو اور فاقہ کشی پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔

حکومت بلوچستان اور مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ سانحہ فتح پور میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے لیے حکومتی پیکیج کا اعلان کرے تاکہ ان بے گناہ شہدا کے اہلِ خانہ کو کچھ ریلیف مل سکے اور جو زخمی ہوئے ہیں، وہ اپنے علاج کو بہتر طریقے سے کرا سکیں۔ موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ تاریخ میں ابھی تک کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکی، جس سے عوام مستفید ہوتے۔

سانحہ نورانی سے لے کر سانحہ فتح پور کے متاثرین کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ پیکیج کا انتظام نہیں کیا گیا۔ سانحہ فتح پور کے متاثرین حکومتی امداد کے منتظر ہیں اور جن کی حالت زار کو دیکھ کر ہر انسان دوست دعاگو ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک میں امن و امان قائم کر دے اور دہشت گردوں کو نیست و نابود کر دے جو ہمارے ملک میں دہشت گردانہ کاروائیاں کر کے معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ہمارے حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ توفیق دے جو لوگ ان دہشت گردوں کے حملوں میں شہید یا خمی ہوئے ہیں، ان کے لیے جلد سے جلد حکومتی امداد کا اعلان کیا جائے تاکہ ان کی لواحقین کی کچھ نہ کچھ مدد ہو سکے۔

Facebook Comments
(Visited 17 times, 1 visits today)

متعلق شاہ فیصل محمد حسنی

شاہ فیصل محمد حسنی
شاہ فیصل محد حسنی ڈیرہ مراد جمالی سے تعلق رکھتے ہیں۔