مرکزی صفحہ / سیاسی حال / پسنی: فش ہاربر جیٹی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، نیشنل پارٹی کی پریس کانفرنس

پسنی: فش ہاربر جیٹی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، نیشنل پارٹی کی پریس کانفرنس

غلام یاسین بزنجو

بلوچستان کا ساحلی شہر پسنی میں نوے فیصد افراد کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے۔ جہاں 1989 میں حکومتِ پاکستان اور جرمنی کے تعاون سے مقامی ماہی گیروں کے لیے ایک جیٹی بنائی گئی تھی۔ جس کا افتتاح اس وقت کے وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو اور گورنر بلوچستان نواب اکبر خان بگٹی نے کیا تھا۔ مگر فش ہاربر اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کی غفلت اور عدم دلچسپی کے باعث فش ہاربر جیٹی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔

پیر کی شام پسنی پریس کلب میں نیشنل پارٹی کے صدر ندیم یاسین، تحصیل جنرل سیکرٹری سلام الله بلوچ، تحصیل کونسل کے وائس چیئرمین خدا بخش سعید، نیشنل پارٹی کے سابق صدر یوسف عبدالرحمان، ماسٹر عبدالرشید، عزیز بلوچ، بہادر بلوچ اور دیگر نے ایک پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پسنی شہر کی معیشت فش ہاربر اتھارٹی اور جیٹی سے وابستہ ہے۔ مگر مختلف ادوار کے حکمرانوں نے اپنی غلط پالیسیوں سے جیٹی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواب اسلم رئیسانی کے دورِ حکومت میں سابق حکومت اور ایم پی اے نے جاپانی گرانٹ سے ملنے والی رقوم کو جیٹی کی بحالی کے بجائے بنک میں رکھ کر انٹرسٹ کھاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ فش ہاربر اتھارٹی کی زمینوں کو مالِ غنیمت سمجھ کر اونے پونے داموں میں نیلام کر دیا گیا۔

2013 کے انتخابات سے قبل نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پسنی کے عوام سے وعدہ کیا کہ جب وہ برسراقتدار آئے تو فش ہاربر اتھارٹی اور جیٹی بحالی کے لیے ترجیح بنیادوں پر کام کریں گے جیسے ہی قوم نے نیشنل پارٹی کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی اپنا وعدہ پور کرتے ہوئے پسنی سے تعلق رکھنے والے آفیسر کو فش ہاربر اتھارٹی کا پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا، اور باقاعدہ فش ہاربر جیٹی بحالی کام کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری حکومت کی ڈھائی سالہ مدت ختم ہوئی۔

موجودہ حکومت نے فش ہاربر اتھارٹی اور جیٹی بحالی کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا بلکہ اپنے من پسند شخصیت کو ایم ڈی بنا کر تعینات کیا گیا۔ نیشنل پارٹی کے قیادت نے کہا کہ موجودہ ایم ڈی کا ہوتے ہوئے جیٹی بحالی ایک خواب ہو سکتی ہے حقیقی معنوں میں کہیں کچھ نظر نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ماہی گیروں، کسانوں اور مظلوم طبقہ کی جماعت ہے۔ پسنی کے مسائل پر کسی بھی صورت خاموش نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب فش ہاربر جیٹی کا کام شروع نہیں ہوا، نیشنل پارٹی عوام کے ساتھ مل کر تمام جمہوری اور سیاسی طریقے کار استعمال کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گوادر سے ہر دور میں منتخب ایم پی اے اور ایم این اے نے مسائل کے حل کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔ پانی کے بحران پر نیشنل پارٹی کے عہدیداروں نے کہا کہ پسنی سمیت دیہی علاقوں میں بدترین آبی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ ٹینکروں کے ذریعے شہر اور گردونواح میں اس طرح سپلائی نہیں کی جا رہی ہے جس طرح کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں کئی سال پرانے بجلی نظام سے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔ پرانے تاروں اور ٹرانسفارمرز کی وجہ سے شہر میں بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پسنی شہر مسائل کا شکار ہے ایک طرف ماہی گیروں کے مسائل ہیں دوسری طرف پرانی آبادی کو ریت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شہریوں کے مکانات ریت کے نیچے دب چکے ہیں۔ ان تمام تر حالات کے باوجود حکومتی سطح پر کوئی اقدام نظر نہیں آتا۔

اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر برائے سندھ وحدت انجینئر حمید بلوچ بھی موجود تھے۔ جب کہ نیشنل پارٹی پسنی کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Facebook Comments
(Visited 50 times, 1 visits today)

متعلق غلام یاسین بزنجو

غلام یاسین بزنجو
غلام یاسین بزنجو گذشتہ بارہ برس سے صحافت سے منسلک ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی، سماجی مسائل پہ مختلف اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔ اس وقت روزنامہ بولان اور ایک خبررساں ادارے سے منسلک ہیں۔ پسنی پریس کلب کے ممبر ہیں۔ Email: yaseenghulam771@gmail.com