مرکزی صفحہ / بلاگ / ایک نظراستاد پر

ایک نظراستاد پر

خواجہ نسیم مصطفیٰ

افلاطون، جو ایک بہت بڑے مفکر تھے ان کے بقول انسان ایک معاشرتی حیوان ہے. اگر اس بات پر غور کیا جائے تو کسی قسم کا کوئی شک پیدا نہیں ہو سکتا. جب سے دنیا بنی ہے، تب سے انسانوں کے لیے اللہ پاک نے پیغمبر بھیجنا شروع کر دیا اور اللہ پاک فرماتے ہیں کوئی امت ایسی نہیں گزری جس کے لیے پیغمبرنہ بھیجا گیا ہو.

ہمارے نبی کریم فرماتے ہیں بیشک مجھے استاد بنا کر بیجھا گیا ہے.

انسانی معاشرے میں استاد کو احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں استاد کو جو عزت دیا جاتا ہے شاید کوئی بادشاہ اپنے غلام سے بھی اس رویے سے پیش نہیں آتا.

بات دراصل استاد کی ہے اور استاد ہر صورت میں قابلِ احترام ہے. اگر کوئی گلوکاری کا شوق رکھتا ہو تو وہ بھی اپنے استاد کے بغیر سیکھ نہیں سکتا.

کچھ سالوں کی بات ہے کہ ایک پاکستانی نوجوان انگلینڈ پڑھنے کے لیے گیا. جب پڑھائی مکمل ہوئی تو اس کو وہاں پر نوکری مل گئی. وہ کیمبرج کالج میں استاد تھا ایک دن بہت زیادہ مصروفیات کی بنا پر اس نے ٹریفک کے اصول توڑ دیے تو وہاں پر موجود ٹریفک پولیس نے اس کو چالان کیا.

چالان وقت پر جمع نہ کرنے کی وجہ سے استاد کو عدالت میں پیشی کے لیے بلایا گیا. جب استاد کو جج کے سامنے پیش کیا گیا تو جج نے سوال کیا.
جج: کیا آپ نے چالان وقت پر جمع نہیں کیا؟
استاد: جی ہاں.
جج:اس کی کوئی خاص وجہ؟
استاد: میں ایک استاد ہوں پڑھانے میں مصروف ہونے کی وجہ سے وقت پر چالان جمع نہ کر سکا.

جب جج کو پتا چلا کہ ایک استاد عدالت میں پیشی دے رہا ہے تو جج نے بلند آواز میں کہا، A teacher is in the court.
یہ کہہ کر جج ان کے احترام میں کھڑا ہو گیا.

یہ سنتے ہی جج اور وہاں پر موجود سب لوگ استاد کی تعظیم کرنے لگے اور استاد کو باعزت واپس بھیج دیا گیا.

ایک زندہ اور تہذیب یافتہ قوم استاد کو احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے. دنیا کے تمام ڈاکٹرز، انجینئرز اور تمام آفیسرز سب کے سب استاد کی بدولت ہوتے ہیں اور یہ سب مل کر بھی استاد کی جگہ نہیں لے سکتے.

Facebook Comments
(Visited 22 times, 1 visits today)

متعلق نسیم مصطفیٰ

نسیم مصطفیٰ
خواجہ نسیم مصطفیٰ کا تعلق ضلع چاغی سے ہے۔ لکھنے پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ naseemmustafa13@gmail.com