مرکزی صفحہ / بلاگ / گوادر کا تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگاری کی دلدل میں

گوادر کا تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگاری کی دلدل میں

برکت اللہ بلوچ

ملازمت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہر علاقے میں ملازمت کے حوالے سے مروجہ قواعد و ضوابط بھی بنائے گئے ہیں تاکہ اس علاقے کے نوجوانوں کے حقِ ملازمت کو تحفظ مل سکے۔ ان قواعد و ضوابط کی پاسداری متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بھی قرار دی گئی ہے۔ آئینی و قانونی طور پر بھی ان قواعد و ضوابط کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

لیکن ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں قواعد و ضوابط کی پامالی کو اعزاز سمجھا جاتا ہے اور اس کا ارتکاب بڑی دیدہ دلیری سے کیا جاتا ہے۔ کہنے کو تو یہ دور مساوات، برابری اور انصاف کا کہلا تا ہے لیکن آج بھی طاقتور کا غلبہ اور کمزور کی بے بسی جابجا دکھائی دیتی ہے۔ ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس” والا محاورہ آج بھی اپنی پوری آب و تاب سے دیدار کراتا نظر آتا ہے۔ قانون شکنی کی مرتکب بھی وہی قوتیں نظر آتی ہیں جن کا کام قانون سازی ہوتا ہے۔ انصاف کی دھجیاں اڑتے دھول میں بھی وہی چہرے نظر آتے ہیں جن کا کام انصاف کی فراہمی ہوتا ہے۔

مساوات کی پامالی میں بھی وہی عناصر کار فرما نظر آتے ہیں جو درس مساوات کے چیمپیئن کا لیبل لگائے بیٹھے ہیں۔ بھائی چارگی کے خون سے ان کے ہاتھ رنگین ہیں جو بھائی بھائی کا ورد کرتے نہیں تھکتے۔ قاعدے، قانون، انصاف اور برابری کی علامت اور انسانیت و تہذیب کی معراج کہلاتے ہیں جب کہ قانون شکنی، جنگل اور حیوانیت کی طرف اشارہ دیتی ہیں۔ قانون کی پاسداری سے ہی معاشرے پنپتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں اور اسی سے مساوات اور برابری کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔

پاکستان میں ملازمتوں کے مروجہ قانون کے مطابق کسی بھی علاقے کی اسامیوں پر پہلا حق مقامی افراد کو حاصل ہوتا ہے۔ اس حق کی پاسداری تمام سرکاری اور نجی اداروں پر عائد ہوتی ہے اور اس حق کی خلاف ورزی خلاف قانون عمل گردانا جاتا ہے۔ ویسے اس قانون شکنی کے مظاہر ملک بھر میں نظر آتے ہیں جس سےکوئی صوبہ اور علاقہ محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اس قانون کی دھجیاں جو گوادر میں بکھرتی نظر آتی ہیں شاید اس کی نظیر کسی اور علاقے میں ملتی ہو۔

گوادر کا شمار اس وقت پاکستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جن کے نام سے دنیا واقفیت رکھتی ہے۔گوادر کو نہ صرف پورٹ سٹی کا درجہ حاصل ہے بلکہ سی پیک کا مرکز اور وجہ تخلیق سی پیک منصوبہ کی بھی حیثیت حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق سی پیک کے ذریعے آٹھ سے دس لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ ملک بھر کے افراد کی نظریں ملازمتوں کے حوالے سے سی پیک پر لگی ہوئی ہیں جب کہ گوادر کو سی پیک منصوبوں میں دل کی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن آج حالت یہ ہے کہ اس دھڑکتے دل میں نوجوان بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

وہ تمام صوبائی اور وفاقی ادارے خواہ سرکاری ادارے ہوں یا نجی ادارے، جو گوادر میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں (ماسوائے چند ایک کے) ان میں مقامی لوگوں کی شمولیت یا تعداد کا اندازہ لگایا جائے توایک افسوس ناک نقشہ سامنے آتا ہے۔گوادر کے مقامی باشندے وہ بدنصیب شہری ہیں جو درجہ چہارم تک کی اسامیوں پر بھی حق تلفی اور زیادتی کا نشانہ بنتے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں محکمہ خزانہ میں جنریٹر آپریٹرز کی اسامیوں پر بیرونِ اضلاع تقرریاں ہوں یا مسلم کمرشل بنک میں ریجنل آپریشنل منیجر کی اسامی پر بیرونِ صوبہ تقرری، سب اسی زیادتی اور حق تلفی کے واضح ثبوت ہیں۔

گوادر میں اس وقت بے روزگاری عروج پر ہے۔ مقامی نوجوانوں کی ڈگریاں غیروں کی سفارش کے آگے ہیچ اور قابلیت سسکتی نظر آتی ہے۔

دیگر کو چھوڑیے آپ کو اس پورٹ سٹی میں ایک درجن سے زیادہ انجینیئر ڈگری ہولڈرز مقامی نوجوان ایسے ملیں گے جو ہاتھوں میں ڈگریاں لیے حصولِ روزگار کے لیے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔گوادر جیسے شہر میں مقامی انجینیئرز کا بیروزگار ہونا نہ صرف لمحہ فکریہ بلکہ افسوس ناک بھی ہے کیونکہ گوادر میں نہ صرف پورٹ اور سی پیک کے کئی منصوبے جاری ہیں بلکہ یہاں پر جی ڈی اے، جیڈا اور جی آئی ٹی جیسے ادارے بھی موجود ہیں۔ اور ان اداروں کے کئی ذیلی منصوبے بھی چل رہے ہیں۔

ہر تعلیم یافتہ نوجوان کی ڈگری کے پیچھے اس کی بے لوث محنت، لگن اور والدین کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے۔ کوئی ان والدین سے بھی پوچھے کہ انہوں نے کس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے لخت جگر کو اس مقام تک پہنچایا ہے، کس طرح غریب باپ نے سمندر کی موجوں کا مقابلہ کر کے اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے دوچار روپے بچا کر انھیں تعلیم دی ہے۔ ان تعلیم یافتہ نوجوانوں میں شاید ہی کسی کے والدین تعلیم یافتہ ہوں یا انھیں انجینیئرنگ یا کسی اور شعبے کے معنی و مطالب سمجھ میں آتے ہوں گے لیکن اکثر والدین نے صرف اس آس پر اپنے لختِ جگر کو پڑھایا ہے تاکہ آنے والے دور میں وہ ایک بہتر، روشن اور خوش حال مستقبل سے ہمکنار ہو۔

تعلیم یافتہ مقامی نوجوانوں کا گوادر جیسے شہر میں بےروزگار ہونا صرف المیہ نہیں بلکہ بدقسمتی بھی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ جس معاشرے میں تعلیم یافتہ نوجوان معاشی مسائل اور بے بسی کی تصویر بنتے ہوں ایسے معاشرے میں ترقی و خوش حالی کے نعرے محض ڈھکوسلا اور فریب سمجھے جاتے ہیں اور ایسے معاشروں میں نہ تعلیم کی اہمیت کو بڑھاوا مل سکتا ہے اور نہ ہی تعلیم کو بہتر مستقبل کی ضنمانت سمجھا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments
(Visited 111 times, 1 visits today)

متعلق برکت اللہ بلوچ

برکت اللہ بلوچ
برکت اللہ بلوچ گوادر یوتھ فورم کے سربراہ ہیں نہ صرف گوادر کے نوجوانوں لیے اس فورم پر آواز بلند کرتے ہیں ان کے مسائل پر قلم کشائی بھی کرتے ہیں۔