مرکزی صفحہ / فنی و ادبی حال / ذخیرۂ انتظار حسین: تعارف و رونمائی

ذخیرۂ انتظار حسین: تعارف و رونمائی

زاہد حسن

اگر یہ کہا جائے کہ پچھلے ہفتے لاہور میں ادبی سر گرمیاں اپنے عروج پر رہیں تو کچھ غلط نہیں ہو گا۔ ایک سے بڑھ کر ایک ادبی تقریب کا اہتمام رہا۔ جمعہ 6 اکتوبر کو ایک طرف حلقہء دانش کی جانب سے نام ور افسانہ نگار، ناول نگار، جناب انتظار حسین کے ذخیرۂ کتب کی تقریب تعارف و رونمائی تھی تو دوسری طرف اسی روز اور کم و بیش اسی وقت پاکستان پنجابی ادبی بورڈ، لاہور کی جانب سے افضل احسن رندھاوا کے لیے تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔

حلقہء دانش، لمز میں ہونے والی تقریب اس اعتبار سے یاد گار تھی کہ یہ انتظار حسین کی جانب سے ملنے والی کتب کے ذخیرۂ کے تعارف و رونمائی کی صورت میں تھی۔ جس میں انتظار حسین کے دیرینہ دوست احباب اور ڈین سوشل سائنسز جناب کامران اصدر علی نے شرکت کی۔ انھوں نے انتظار حسین کے فنِ ناول نگاری پر ایک بھرپور مضمون پیش کیا جو نہ صرف ان کے دو اہم اور بڑے ناولوں ’’بستی‘‘ اور ’’آگے سمندر ہے‘‘ کا احاطہ کرتا تھا بلکہ مہاجرت کے دیرپا اور بین الاقوامی تصّور، ان سے جُڑے معاملات اور مسائل کا احاطہ بھی کرتا تھا۔

اس تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر معین نظامی نے سر انجام دیے اور کہا کہ انتظار حسین کا گراں قدر ذخیرۂ کتب لمز، کی لائبریری کی زینت بنا ہے، جوطلبا اور محققین کی رسائی میں آ چکا ہے۔ اس مناسبت سے گرمانی مرکزِ زبان و ادب نے ہفتہ وار علمی و ادبی سلسلہ کی نشست حلقہء دانش میں اس پُر وقار تقریب کا اہتمام کیا ہے جس میں اُن کے کچھ قریبی احباب شریک ہیں جو ان کی شخصیت اور فن کے بارے میں اظہارِ خیال فرمائیں گے۔

قاسم جعفری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آج اس امر کا بر ملا اظہار کرنا چاہیے کہ اس ذخیرۂ کو لمز لائبریری کو دلانے میں ایرج مبارک کا کردار اہم اور نمایاں رہا ہے۔ ہم اس سلسلے میں ایرج کے شکر گزار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لمز نے حلقہء دانش کے تحت اس تقریب کا اہتمام کر کے دراصل ایک عظیم ادیب کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

تقریب کا کلیدی خطاب مسعود اشعر کے سُپرد تھا۔ انھوں نے تقریب کے منتظمین کے شکریہ کے بعد انتظار حسین کے ساتھ اپنی رفاقتوں، تعلّقات اور ان کے تخلیقی فن کو موضوع گفتگو بناتے ہوئے کہا کہ انتظار حسین اردو فکشن میں بلا شُبہ گنتی کے چند لوگوں میں شمار ہوتے ہیں، میرا اُن سے تعلّق ستر کی دہائی میں قائم ہوا لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرے تعلّق میں وہ گرمجوشی پیدا نہ ہو سکی جس کا اظہار انتظار حسین کے یہاں محمد حنیف رامے، ناصر کاظمی، منیر نیازی اور احمد مشتاق سمیت مظفر علی سیّد کے ساتھ دیکھنے میں آتا۔ تاہم اُنھوں نے میرے افسانوی مجموعہ کی اشاعت کے بعد خاص توجہ کی، اس پر لکھا اور پھر اُن سے جو ایک تعلقات کا سلسلہ بندھا اُن کی وفات تک برقرار رہا۔ یہ اچھا ہوا کہ اُن کا ذخیرۂ کتب لمز میں آ گیا ہے، یہاں اس کی مناسب دیکھ بھال یقیناً باقی کسی بھی ادارے سے زیادہ ہوگی۔

لمز لائبریری کی طرف سے وارث علی نے بتایا کہ یُوں تو ہمارے پاس کچھ اور شخصیات کے ذخیرے بھی آئے ہیں تاہم انتظار حسین کے ذخیرۂ کتب کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ انھوں نے انتظار حسین کے ذخیرہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں تین ہزار کے قریب کتب و رسائل، 2 ڈائریاں اور کچھ خطوط ملے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ لمز لائبریری اپنے حُسن انتظام، سہولیات اور خدمات کے حوالے سے پاکستان کی اہم ترین لائبریری ہے۔ اس میں موجود کُتب کی دیکھ بھال کا معیار قابلِ تعریف ہے۔

مجموعی طور پر یہ ایک یادگار اور تاریخی حیثیت کی حامل تقریب تھی۔

Facebook Comments
(Visited 43 times, 1 visits today)

متعلق زاہد حسن

زاہد حسن
لاہور میں مقیم زاہد حسن پنجابی اور اُردو کے معروف لکھاری ہیں۔ فکشن ان کا خاص میدان ہے۔ پنجابی میں ان کی کہانیاں اور ناول معروف ہیں۔ ان دنوں سماجی ترقی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ zahid_dchd@yahoo.com