مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / چی تم بہت اچھے ہو!

چی تم بہت اچھے ہو!

محمد خان داؤد

چی تم نے اپنے دوست کو لکھا،

"میں اپنی زندگی کا قرض اتار چکا
اب میں یہاں کیسے رہوں؟
کیوں رہوں؟!
کس لیے رہوں؟!
اب میں سمجھ رہا ہوں
میرا جانے کا وقت آ چکا
ایک ساتھ رہنے کو کوئی کام تو ہو
اس لیے بس اب یادوں سے جُڑتے ہیں
کاسترو! میرے دوست میرے ساتھ
یادوں میں جُڑے رہنا!”

نہیں معلوم کہ وہ تمہاری
زندگی کے شروع کے دن تھے
یا وہ آخری پہر جس کے بعد زندگی نہیں رہتی
جب بس یاد کی ہلکی آگ دل میں رہ جاتی ہے
اور وہ یاد جلتی رہتی ہے
کسی بجھی ہوئی آگ کی طرح!
جسے سندھی میں لطیف نے یوں بیان کیا ہے کہ،

وسن تھیون مینھن جون کنیوں
وسایل باھے بڑھکے تھی
کرن تھیون پٹ تے کنیون
بڑھکیل باھے وسامے تھی!

یعنی،
جب بارش کی بوندیں برستی ہیں
تو بجھی آگ جل اُٹھتی ہے
جب وہ آ کر زمیں پر گرتی ہیں
بھڑکتی آگ بجھتی ہے!

چی، تم اب وہ آگ بن چکے ہو
جو دلوں میں جلتے رہتے ہو
اب بھلا اس آگ کو کون بجھائے
کیا اس آگ کو بتسیتا کے پیروکار بجھا پائیں گے؟
وہ شرٹ تو ان چھاتیوں پر اب بھی جھومتی ہے
جو نیل کنول جیسے دو کعبے لیے گھومتی ہے
جس کے لیے گلزار نے لکھا تھا کہ،
"اے خدا
مجھے بس اتنا سا کام دے دے
جب بھی اس کا لاکٹ اُلٹا ہو
میں ہاتھ بڑھا کر اس کو
سیدھا کر دیا کروں!”

اے چی !
تم مسکراؤ!
اور اپنے بال خوشبوؤں سے دھوؤ
کیوں کہ
تیری مسکراتی تصویر آج بھی ان چھاتیوں کا سینگھار بنی ہوئی ہے
جو چھاتایاں
مصر سے لے کر، ایران تک
امریکہ سے لے کر، لندن تک
کیوبا سے لے کر، برازیل تک
تمہیں چومتی ہیں،
اور تم بے فکر ہو کر مسکراتے ہو

مسکراتے رہو!
چی!!!
اس لیے چی!
کہ
تم بہت اچھے ہو!!

Facebook Comments
(Visited 42 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com