مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / ہزارہ کی صدائے اناالحق!

ہزارہ کی صدائے اناالحق!

محمد خان داؤد

سرمد نے لکھا کہ
"وہ مجھے جانتے ہیں
اور نہیں جانتے
وہ مجھے قتل کر دیں گے
پر میں اُن سے نہیں مروں گا
وہ میرا تماشا کریں گے
پر خلق نہ ہوگی
خلق ہوگی پر میرا تماشا نہ ہوگا
وہ مجھے جانتے ہیں
اور نہیں جانتے
وہ مجھ دفن کرنا چاہیں گے
میں ان سے دفن نہ ہوں گا
میں سرمد ہوں!
میں دائم ہوں!
میں منصور ہوں!
میں منصور کی
اناالحق ہوں!
وہ مجھے جانتے ہیں؟
وہ مجھے نہیں جانتے!”

یہ تو سرمد نے آج سے سات صدیاں قبل لکھا تھا۔ پر وہ لوگ جو سرمد کو جانتے تھے اور وہ لوگ جو سرمد کو نہیں جانتے، ان دونوں کے ہاتھوں سرمد جمہ کے دن دہلی کی مسجد کے سامنے پھانسی گھاٹ پر جھول گیا۔ پر اس کی زباں پر منصور کی زباں سے بھی بہت اعلیٰ گیت تھا۔ بہت اعلیٰ صدا تھی۔ اسی لیے تو سرمد نے وجد میں آ کر خود ہی کہا تھا کہ،

منصور کی صدا بہت پُرانی ہوئی
میں اب نئے سرے سے پھاسی گھاٹ سجانا چاہتا ہوں!

سرمد اپنی بات پر پورا اُترا۔ وہ منصور کی اناالحق کو بھی بہت پیچھے چھوڑ گیا۔اور فتنہ بازوں کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔ اور سرمد خود کہتا ہے کہ،

بہت شور اُٹھا
میں نے عدم سے آنکھ کھول کے دیکھا کہ فتنے کی رات
ابھی جاری تھی،اور میں دوبارہ سو گیا!

اور سرمد کے یوں قتل ہو جانے کے بعد دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ سرمد کی قبر کو ہری گھاس نے اپنے دامن سے گھیر لیا ہے۔ اور روز وہاں قبر کے نیچے ہری تازی گھاس اُگ آتی ہے۔ پر سرمد کو قتل کر دیا گیا۔ ان ہاتھوں نے جو سرمد کو جانتے تھے اور ان ہاتھوں نے جو سرمد کو نہیں جانتے تھے۔

پر کیا سرمد قتل ہوا؟ مارا جا چکا؟ اب نہیں ہے؟

یہی سوال ہم آج ہزارہ کے قتل پر اہلیانِ کوئٹہ سے پوچھتے ہیں کہ انہیں کون قتل کر رہا ہے؟
کیا انہیں وہ قتل کر رہے ہیں جو انہیں جانتے ہیں؟
یا انہیں وہ قتل کر رہے ہیں جو نہیں جانتے؟

کیا اب منصور کی اناالحق بھی پُرانی ہوئی۔اور کیا سرمد کا یو ں دہلی کی گلیوں میں ننگا چلنا بھی بے معنیٰ ہو چکا؟ کیا اب سرمد کا "لا الہ!” بھی کوئی معنیٰ نہیں رکھتا؟ کیا سرمد کی سرمدی اب کسی کام کی نہیں؟ کیا ان فتنے باز ہاتھوں، ان ننگے ہاتھوں، ان بے حیا ہاتھوں کا سرمد اور منصور کا قتل کرنے کے باوجود دل نہیں بھرا جو یہ ہاتھ اب تک کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے جوانوں، بوڑھوں اور بچوں کو قتل کر رہے ہیں، اور ایسے کوئٹہ کی پُرفضا گلیوں میں گُم ہو جاتے ہیں کہ جیسے ان ہزارہ کو انسانوں نے نہیں پر فرشتوں اور جنوں نے قتل کیا ہو!

بھلے وہ ہزارہ ان فرشتوں اور جنوں کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہوں پر ان کے پیچھے بھی کوئی تو ہاتھ ہوں گے جو انہیں یہ حکم دیتے ہوں گے، ان کا چراغ رگڑتے ہوں گے، اور یہ ان چراغوں میں سے نکل کر باادب کھڑے ہو کر کہتے ہوں گے، "کیا حکم ہے میرے آقا!” اور یہ بے حیا ہاتھ کہتے ہوں گے، جاؤ اب جو روڈ سے سوزکی گزر رہی ہے، اس میں جو لوگ ہیں انہیں بارود سے بھری ننگی گولیوں سے قتل کر دو….
اور پھر بندوق کا منہ کھُلتا ہے۔ پھر بس روڈ پر خون ٹھہر جاتا ہے، اور مردہ لاشیں بہت جلد اُٹھا لی جاتی ہیں!

پر یہ ہزارہ منصور تو نہیں ہیں؟! جو وقت کے حکمران اس کی ایک اناالحق سے اتنے خائف ہوں جو اسے چکی میں پسوا دیں۔ نہ تو ہزارہ سرمد ہیں، جو وہ سب کو یہ کہتے پھریں کہ اب منصور کی اناالحق بہت پُرانی ہوئی اور میں نئے سرے سے پھانسی گھاٹ سجانا چاہتا ہوں۔ وہ تو بہت ہی مظلوم ہیں۔اتنے مظلوم ہیں کہ قتل کرنے والے آتے ہیں، انہیں قتل کر جاتے ہیں۔ اور ان کے ورثا آتے ہیں، خاموشی سے ان کی لاشیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ نہ مصنف آتے ہیں اور نہ ہی عدالتیں سجتی ہیں۔ بس گولیاں چلتی ہیں، راہ چلتے ہزارہ قتل ہوتے ہیں۔ اور عالمی میڈیا سے لے کر قومی میڈیا میں بس ان کے قتل ہو جانے کی تعداد یا نمبر ہی شائع ہوتے ہیں:
3۔۔۔۔۔5۔۔۔۔۔۔4۔۔۔۔7۔۔۔!!!

اور ان کے مقدر میں کیا آتا ہے؟

اور سوال یہ بھی ہی کہ یہ ہزارہ کب سے کوئٹہ میں قتل ہوتے آ رہے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور سے؟ زرداری کے دورِ حکومت سے؟ جس حکومت میں تو وہاں لاشوں کا بازار سجا کرتا تھا…..اور تعداد ہوتی تھی:
80۔۔۔90۔۔۔170

اور اب؟ اور اب کیا ہے؟ اب بھی وہی حشر ہے جو پہلے تھا۔ ہزارہ کمیونٹی آج بھی کوئٹہ میں اتنی ہی غیر محفوظ ہے، جتنا وہ دس سال پہلے تھے۔ بچے اسکولوں میں قتل ہو جاتے ہیں۔ خواتین چلتی گاڑیوں میں اور بوڑھے اور جوان بازاروں میں، چلتی رکتی گاڑیوں میں، دکانوں کے سامنے، سبزی کی منڈیوں میں، اور ان کے قتل سے وہ سبزیاں بھی خون آلود ہوجاتی ہیں جو وہ ان منڈیوں سے اس لیے خریدتے ہیں کہ وہ بکیں اور ان کے بچے اس پیسے سے کچھ پڑھ سکیں۔

پر سب خون ہو جاتا ہے
ان کے لباسوں سے لے کر
ان کی جیب میں پڑے قومی شناختی کارڈوں تک
گاڑیوں کی سیٹوں سے لے کر
اس دلوں اور ان سینوں تک
جن میں ارمان ہوتے ہیں
اور ان آنکھوں تک
جن میں سپنے ہوتے ہیں….

وہ ان گولیوں سے سب ختم ہو جاتے ہیں۔ اور وہ فرشتے کہاں چلے جاتے ہیں؟ وہ جن کون سے چراغ رگڑنے سے باہر آتے ہیں.. کچھ نہیں معلوم … پر کوئٹہ میں وہ ہزارہ ان ہاتھوں سے قتل ہو رہے ہیں جو ہاتھ انہیں جانتے ہیں اور ان ہاتھوں سے بھی قتل ہو رہے ہیں جو انہیں نہیں جانتے۔

ہزارہ کمیونٹی کے یوں قتل ہونے پر سرکاری مشنیری بالکل حرکت میں نہیں آتی۔ اس لیے ایسے واقعات تھمتے نظر نہیں آتے۔ اور ایسے قتل تواتر سے ہو رہے ہیں۔ اور بس گھروں میں ماتم اور کوئٹہ کی دھرتی پر قبروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تو سرمد بھی نہیں جو ایسے قتلام پر کچھ ایسا کہہ سکے کہ،

وہ مجھے جانتے ہیں
اور نہیں جانتے
وہ مجھے قتل کر دیں گے
پر میں اُن سے نہیں مروں گا
وہ میرا تماشا کریں گے
پر خلق نہ ہوگی
خلق ہوگی پر میرا تماشا نہ ہوگا
وہ مجھے جانتے ہیں
اور نہیں جانتے
وہ مجھے دفن کرنا چاہیں گے
پر میں ان سے نہیں ہوں گا
میں منصور ہوں
اناالحق ہوں
میں سرمد ہوں
میں دائم ہوں
وہ مجھے جانتے ہیں
وہ مجھے نہیں جانتے!

Facebook Comments
(Visited 16 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com