مرکزی صفحہ / اداریہ / دھماکوں سے حادثوں تک، ریاست کی عملداری کا چیلنج

دھماکوں سے حادثوں تک، ریاست کی عملداری کا چیلنج

ایڈیٹر

غم زدہ بلوچستان پہ ہفتہ رفتہ ایک بار پھر بھاری رہا. پہلے جھل مگسی کے علاقہ گنداواہ میں واقع درگارہ فتح پور شریف میں ہونے والے خودکش حملے میں 50 سے زائد انسانوں کی ہلاکتوں کا ابھی سوئم ہی نہیں ہوا تھا کہ کوئٹہ کے قریب دشت کے علاقے میں ایک بس اور وین کی ٹکر میں 15 انسانی جانیں لقمہ اجل بن گئیں.

ہر دو واقعات کی نوعیت مختلف ہونے کے باوجود کئی حوالوں اور پہلوؤں سے یہ ایک دوسرے سے باہم جڑے ہوئے بھی ہیں. ظاہر ہے ان میں سب سے پہلا اور اہم حوالہ تو دونوں کا ایک ہی دھرتی پر واقع ہونا ہے. فتح پور شریف کا واقعہ انسانی جانوں کے ضیاع میں تعداد کے لحاظ سے اہم ہونے کے ساتھ ساتھ حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے.

واضح رہے کہ آج سے چند سے سال قبل اسی درگاہ پہ ہونے والے خودکش حملے میں 100 سے زائد زائرین نشانہ بنے تھے. جس کے بعد سکیورٹی کا انتظام نسبتآ بہتر بنایا گیا تھا، جس کے باعث اس بار انسانی جانوں‌کا ضیاع اس لحاظ سے کم رہا کہ حملہ آور میلے کے اندرونی مقام تک نہ پہنچ پایا اور سکیورٹی کے مقام پر ہی خود کو اڑا دیا.

دونوں واقعات کے باہمی تعلق کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں ریاست کہاں ہے؟. ہر دو واقعات میں ہم نے ریاست کو اور ریاستی اداروں کو محض خانہ پری کرتے ہوئے دیکھا. خودکش حملے میں‌ جاں بحق ہونے والوں کی تدفین سے لے کر زخمیوں کے علاج معالجے تک ریاست کا کوئی ادارہ کہیں سرگرم نظر نہیں آیا. کل تک ہونے والی تدفین علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت کرتے رہے. جب کہ زخمی اب تک لاڑکانہ اور جیکب آباد کے ہسپتالوں میں لاوارث پڑے ہوئے ہیں. یہ لمحہ فکریہ ہے.

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گزشتہ واقعہ کے تناظر میں حکومت اس سالانہ میلے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کو یقینی بناتی. بلکہ درگاہ کا انتظام محکمہ اوقاف کے زیرانتظام دے دیا جاتا، جس کے بارے میں اب خبروں میں سننے میں آیا ہے کہ حکومت اس جانب پیش رفت کر رہی ہے. اسے بہرحال دیر آید، درست آید کے مصداق قرار دیا جا سکتا ہے.

اسی طرح روڈ حادثات گو کہ ایک ناگہانی آفت ہیں، ان پہ مکمل قابو پانا انتظامی طور پر شاید ممکن نہ ہو لیکن بعض اقدامات کے ذریعے ان کی تعداد کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے نتیجے میں‌ ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع کو بھی کم کیا جا سکتا ہے. مثلآ ہمارے ہاں روڈ حادثات کی اہم وجہ سڑکوں کی ناپختہ صورت حال ہے تو دوسری جانب ٹریفک قوانین سے آگاہی کا عمومی فقدان بھی اس کا سبب ہے.

دوسری جانب حادثہ ہونے کی صورت میں زخمیوں‌ کو فوری طور پر ہسپتال پہنچانے کا کوئی باضابطہ انتظام موجود نہیں. دشت، کوئٹہ سے بیس منٹ کی دوری پر ہے، لیکن روڈ حادثے کے زخمیوں‌ کو دو سے تین گھنٹے کی تاخیر سے ہسپتال پہنچایا گیا. جس کے باعث کئی شدید زخمی خون بہہ جانے کی وجہ سے جانبر نہ ہو سکے.

حد تو یہ ہے کہ واقعہ گزر جانے کے بعد بھی میڈیا سمیت حکومت کی جانب سے وہ ردعمل دیکھنے کو نہیں مل رہا جو پنجاب کے کسی گاؤں میں آئل ٹینکر میں آگ لگنے کے واقعہ سے ہوتا ہے. درگاہ فتح پور کے جان بحق و زخمیوں کو کوئی امداد نہیں دی گئی، اسی طرح روڈ حادثے کے متاثرین کی بھی تاحال کوئی مالی مدد نہیں کی گئی.

حالاں کہ مالی مدد دراصل ایک لحاظ سے ریاست کی جانب سے شہریوں کو ایک اخلاقی و سماجی مدد فراہم کرتی ہے. یہ اصل عملی کام نہ ہونے کا ایک متبادل جواز ثابت ہوتی ہے. لیکن یہاں عملی کام کے فقدان سمیت مالی امداد سے بھی چشم پوشی ثابت کرتی ہے کہ حکومت عوام کی اخلاقی امداد سے بھی دست بردار ہو چکی ہے.

یہ حکومت و ریاست کے اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے.

پسِ نوشت:
اور ابھی اس اداریے کے جاتے جاتے خبر آئی ہے کہ سوموار کی صبح کوئٹہ میں کانسی روڈ پر فائرنگ کر کے 5 ہزارہ کو قتل کر دیا گیا.
یہ خبر ہمارے مؤقف پہ ازخود ایک تبصرہ ہے. اس کے بعد مزید کسی تبصرے کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی.

Facebook Comments
(Visited 55 times, 1 visits today)

متعلق ایڈیٹر