مرکزی صفحہ / سیاسی حال / بی ایل ایف کا میڈیا بائیکاٹ مہم کے حوالے سے عوام میں پمفلٹ تقسیم

بی ایل ایف کا میڈیا بائیکاٹ مہم کے حوالے سے عوام میں پمفلٹ تقسیم

نیوز ڈیسک

بلوچستان لبریشن فرنٹ نے میڈیا حوالے جاری کردہ بیس روز کے الٹی میٹم پر بلوچستان بھر میں بہ عنوان ’’ بلوچ عوام میڈیا بائیکاٹ کے لیے تیار رہے‘‘ پمفلٹ تقسیم کیا، تاحال پمفلٹ تقسیم کا سلسلہ جاری ہے جس میں میڈیا بائیکاٹ اور میڈیا کی یک طرفہ رویہ اور پارٹی پالسیی واضح کی گئی ہے۔ جس میں 22 اکتوبر الٹی میٹم کا آخری دن کے حوالے کہا گیا ہے کہ میڈیا نے اگر روش نہ بدلی تو تمام اخبارات کی سرکولیشن و میڈیا ہاؤسز کو سخت نتائج کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

پمفلٹ میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے بعد کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ مہینے سے میڈیا کی جانب سے بلوچ کی آواز کو دبانے کے لیے بی ایل ایف سمیت تمام علیحدگی پسندوں کے بیانات و بلوچ کی آواز کا مکمل طور پر بائیکاٹ سے واضح ہے کہ اب ہم بلوچ قوم سے رجوع کر کے سخت اقدام اُٹھائیں۔ کئی مہینے پہلے نیوز ایجنسیوں سے پارٹی ترجمان گہرام بلوچ کی بات چیت بھی ہوئی۔ انہوں نے کچھ مہلت مانگا مگر تاحال پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا و نیوز ایجنسیوں نے اپنا رویہ نہیں بدلا ہے۔

مجبوراََ بی ایل ایف نے 2 اکتوبر کو میڈیا ہاؤسز کو بیس روز کا وقت دیا جو 22 اکتوبر کو مکمل ہو گا۔ الٹی میٹم کی میعاد پورا ہونے سے پہلے اگر میڈیا ہاؤسز نے اپنی روش بدلی اورخونچکاں بلوچستان کی حقیقی تصویر کشی اور ایک سچا و حقیقی صحافتی کردار نبھانے کے فلسفے پر گامزن ہوگئے تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ میڈیا آزاد ہوگیا ہے اور ہماری آواز کو بھی اَن سنی نہیں کی جائے گا۔ لیکن اگر پھر سے وہی نظرانداز اور آنکھیں بند کرنے کی پالیسی جاری رہی تو ہم دوسری بلوچ مسلح تنظیموں کے ساتھ مل کر میڈیا ہاؤسز کے خلاف ایک سخت پالیسی ترتیب دیں گے جس میں پہلی فرصت میں بلوچستان میں بھر میں اخبارات کی ترسیل روکنا اور الیکٹرک میڈیا کی بندش شامل ہے۔

Facebook Comments
(Visited 62 times, 1 visits today)

متعلق نیوزڈیسک

نیوزڈیسک
حال حوال بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔ نیوز ڈیسک سے شائع ہونے والی خبریں مختلف ذرائع سے حاصل کی جاتی ہیں، جن کی مکمل ذمہ داری ادارہ پہ عائد نہیں ہوتی۔