مرکزی صفحہ / سماجی حال / آزات فاونڈیشن اور اسلامک ریلیف کے زیراہتمام قدرتی آفات کے قومی دن کے موقع پرتقریب کا انعقاد

آزات فاونڈیشن اور اسلامک ریلیف کے زیراہتمام قدرتی آفات کے قومی دن کے موقع پرتقریب کا انعقاد

رپورٹ: شکیل مینگل
نوشکی،آزات فاونڈیشن اور اسلامک ریلیف کے زیراہتمام پی ڈی ایم اے کی معاونت سے قدرتی آفات کے قومی دن کے موقع پرتقریب کا انعقادکیاگیا:
اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی آرگنائزر وسی سی ممبر میر خورشید جمالدینی ، جمعیت علماء اسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری حافظ عبداللہ گورگیج ، پی ڈی ایم اے کے ریسکیو ٹیم لیڈر یونس عزیز مینگل ، اسلامی جمعیت طلباء کے ضلعی ناظم عابدبلوچ، سماجی کارکن برمش بلوچ ، زمیندارکسان اتحاد کے ممبر ابراہیم جمالدینی ، آزات فاونڈیشن کے ریجنل منیجر جہانزیب مینگل ، غمخوارحیات اور اسلام ریلیف کے سی ڈی او ظفر بلوچ نے خطاب کیا:
مقررین نے کہا کہ نوشکی ایک ایسا علاقہ ہے جو ہرموسم میں قدرتی آفات کی لپیٹ میں رہاہیں ۔کہ گذشتہ ادوار میں سیلاب اور قحط سالی نے یہاں کی آبادی کو سماجی و اقتصادی طورپرنقصان پہنچایا ہے اور لوگوں کو اپنے جان و مال سے ہاتھ دھونا پڑا ہے او ر جسکی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آفات کے حوالے سے لوگوں میں زیادہ سے زیادہ شعوروآگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ کہ بدقسمتی سے ہمارے یہاں حکومت نے آج تک کسی بھی شعبے میں درست منصوبہ بندی نہیں کی ہے جسکی وجہ سے اکثر قدرتی آفات کے دورا ن نقصانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ اسی طرح پیشگی اطلاعات کے لئے کوئی سائنسی طریقہ کار سرکاری سطح پر موجود نہیں جولوگوں کو موسمی حالات اور آمدہ آفات سے آگاہ رکھے ۔ حفاظتی بندات کی نگرانی اوربروقت تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی آبادیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ علاقے میں ڈیمز اور حظاظتی بندات کی اشد ضرورت ہے۔ کسی آفات یا ہنگامی حالت میں ضلع میں موجود اداروں کے پاس مطلوب مشینری اور دیگر آلات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قدرتی آفات کے حوالے سے قانون ہونے کے باوجود ضلعی سطح پر ابھی تک کوئی بقاعدہ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمٹ اتھارٹی کو عملہ یا اسٹرکچر موجود نہیں۔اسی طرح نوشکی میں ایک ریسکیوادارے کی قائم کی بھی اشد ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں کوئی بلڈنگ کوڈ موجود نہیں جسکی وجہ سے نوشکی شہر اور اس کے گرد و نواح میں اکثر مکانا ت پانی کے راستوں پر تعمیر ہونے کی وجہ سے سیلاب اور دیگر آفات کی صورت میں زیادہ نقصانات اُٹھانے پڑتے ہیں ۔ قدرتی آفات یا کسی بھی ہنگامی حالت میں سرکاری اداروں کی کارکردگی قابل تعریف نہیں اور ان اداروں کی کسی بھی آفت کے مقابلے کے لئے مطلوبہ صلاحیت اور استعداد نہیں ہے۔ قدرتی آفات کے بعد شفاف طریقہ کار نہ ہونے کی و جہ سے ہمیشہ مستحق اور حقدار لوگوں کو ریلیف سے محروم رکھا جاتاہے۔ اس ترقی یافتہ دور میں لوگوں کو بروقت اطلاح دینے کا کوئی پیشگی نظام موجو د نہیں ہے جس کی فوری طور پر قیام عمل میں لانا لازمی ہے ۔
مقررین نے تجاویز دی کہ زندگی کی ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا معاشرے کا ہرفرد اگر احساسِ ذمہ داری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے آفات کے دوران اور آمدہ آفت سے پیشتر اپنا کردار مخلصی سے اداکرے تو ہم اگر قدرتی آفات کی نقصانات کو اپنی بساط کے مطابق کم کرسکتے ہیں اس کے لے معاشر ے کے ہر فرد اور سول سوسائٹی کے اداروں، سیاسی پارٹیوں کواپنا کردار ادا کرنا ہوگا ہر چیز ریاستی اداروں پر نہیں چھوڑا جاسکتا اس میں عام لوگوں اور عوام کا کردار بہت اہم ہے۔
اس حوالے سے ہمیں اتحاد ویکجہتی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اس طرح کے حساس مسلوں کے لئے متحدو متحرک ہونا پڑیگا۔ اسی طرح دوران آفت اگر ہم اپنی اقدامات کو ترتیب دیں ہر کام کے لئے منظم طریقے سے مخصوص کمیٹیاں تشکیل دیں ، ایک نیٹ ورک کی شکل میں اجتماعیت کو مدنظر رکھ کر بلا رنگ و نسل کی تفریق کے کام کرے تو دوران آفت ہم متاثرین کی بروقت مدد کرسکتے ہیں اورلو گوں کو خصوصا نوجوانوں کو رضاکارانہ طورپر تیا ر کیا جائے اور اس مقصد کے لئے انہیں ہنگامی حالات کے حوالے سے انکو تربیت دی جائے:
تقریب مختلف سماجی وسیاسی پارٹیوں ، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد ،کسان ، مزدور،طلباء، نوجوانوں اور پریس کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
**

Facebook Comments
(Visited 22 times, 1 visits today)

متعلق Story

Story