مرکزی صفحہ / فلم ریویو / سماج کا آخری پاگل آدمی

سماج کا آخری پاگل آدمی

شبیر رخشانی

سماج کے رنگوں کو ایک پاگل انسان ہی دیکھ سکتا ہے اس کی خوشبوؤں کو محسوس کر سکتا ہے۔ اس تیز خوشبو سے اپنے دماغ کو معطر کر کے پاگل پن کا عملی مظاہرہ کر سکتا ہے۔

ایک پاگل عام آدمی سے مختلف سوچتا ہے۔ سوچ کو رنگوں میں بدلتا ہے اسی میں ڈھل جاتا ہے۔ کوئی پاگل، تو کوئی مجنون۔ عام آدمی بدل رہا ہوتا ہے پر پاگل وہ تو سوچوں کا مالک، سوچوں میں گم۔

لفظوں میں الجھ کر اس کی تہہ تک جانا، اسی میں کھو جانے کا فن ایک پاگل ہی کو آتا ہو گا۔ معاشرتی جھنجٹوں کو اپنے دل کے اندر سمو کر، اپنی آنکھوں کو بھگو کر وہ سب کچھ محسوس تو کر رہا ہوتا ہے جو ایک عام آدمی کر نہیں سکتا۔

دن کو رات میں اور رات کو دن میں ڈھل جانے کا نام ہم نے زندگی دیا ہے۔ مگر پاگل، اس کے ہاں زندگی اس گھڑی کی مانند ہے جس کی سوئی کہیں اٹک گئی ہے۔ جسے چلانے کے لیے معاشرے کا جاگنا ضروری ہے۔

ایک الگ تھلگ سا انسان, ایک الگ سی کہانی۔ کہانی کا ہر جز آدمی کے اندر پاگل پن کا مادہ جگانے کا کام کرتا ہے۔ اسے سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس شاہ جی کی مانند جو ہر طرح طرح کی ذہنی آزمائشوں سے جوج رہا ہوتا ہے اپنے آپ ، کرسیوں سے، در و دیوار سے، تاریکی سے، اپنی بے بسی سے باتیں کر رہا ہوتا ہے۔ ہنستا ہے، روتا ہے، ڈرتا ہے ڈراتا ہے ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے پھر ان کی تعبیر کرتا ہے۔ کبھی خاموش ہو جاتا ہے۔ سماج کا چہرہ دکھاتا ہے۔ تھک جاتا ہے, پھر اٹھتا ہے۔ سیاستدان بن جاتا ہے۔ بھاشن سناتا ہے۔ پولیس بن کر ٹریفک کا نظام ٹھیک کرنے لگتا ہے۔ کیا کچھ نہیں کرتا وہ پاگل۔

اکیس منٹ کی اس فلم(There was a mad man) کے ہدایت کار شرجیل بلوچ ہیں جب کہ لیکھک ظاہر لہڑی۔ دونوں ہی اس فلم کے کردار بھی۔ ایک عام آدمی اور پاگل کے درمیان ہونے والا مکالمہ پورے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ پوری فلم ریلوے اسٹیشن کی حدود میں فلمائی گئی ہے۔

فلم کی شروعات پاگل آدمی (جو اپنے آپ کو شاہ جی یعنی دل کا بادشاہ کہتا ہے) کی خالی کرسیوں سے خطاب سے ہوجاتا ہے۔ مانندِ سیاستدان وہ اپنی تقریر کا آغاز میرے پیارے بھائیوں ۔۔۔ ’’ نہیں تم میرے بھائی ہو نہیں سکتے‘‘ سے کرتا ہے۔۔ پھر اس کا سامنا ایک عام آدمی سے ہوجاتا ہے کون ہو تم؟۔۔ شخص کہتا ہے کہ ایک انسان۔۔۔ پاگل ہنستا ہے۔۔ "انسانوں پر تو من و سلویٰ اترتا ہے۔ بھلا گدھے کا گوشت کھانے والا کوئی انسان ہو سکتا ہے۔‘‘

کتوں کے بھونکنے کی آواز آتی ہے, شاہ جی اٹھ کھڑا ہوتا ہے، خبردار انسان بننے کی کوشش مت کرو۔ یہیں سے کہانی اپنے اندر ایک اور کہانی کی داستان سنا رہا ہوتا ہے۔ انسان کی حقیقت جانوروں پر آشکار کرنے کا داستان۔ انسان سے انسانیت چھن جانے کی داستان کہنے کی یہ جرات ایک پاگل آدمی ہی کر سکتا ہے۔ جسے سماجی تعلقات سے نہ کوئی غرض اور نہ کوئی طمع۔۔ ’’تم جانور ہو جانوروں کی طرح پیار اور محبت سے رہو۔۔‘‘

تمہیں کیسے پتہ ہے میں شاہ جی ہوں۔۔ تم جاسوس ہو؟۔۔ نہیں میں کسی اخبار کے لیے کام نہیں کرتا۔۔ پوری صحافت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دروازے کھل جاتے ہیں۔ ایک ہی جملہ پورہ صحافت کو بیچ سڑک پر لاکر کھڑا کر دیتا ہے۔

شاہ جی عام آدمی کے جیب کو ٹٹولتا ہے۔ اس میں سے چیزیں نکالتا ہے, پوچھتا چلا جاتا ہے: یہ تم نے بنایا؟ آدمی نہیں۔۔ ’’تمہارا کیا ہے تمہارے پاس؟۔۔ بھیک مانگتے ہو‘‘

سماج تو پورا کا پورا ننگا ہے۔ مگر جو اس ننگے پن کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں انہیں اس مختصر فلم میں ننگا پن کو لفظوں کے ذریعے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

Facebook Comments
(Visited 76 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔