مرکزی صفحہ / علمی حال / نوشکی کے دس ہزار طلبا درسی کتب سے محروم، بی ایس او کا احتجاج

نوشکی کے دس ہزار طلبا درسی کتب سے محروم، بی ایس او کا احتجاج

نیوز ڈیسک

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نوشکی زون کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ نوشکی کے اسکولوں میں تا حال درسی کتب کا نہ پہنچنا سرکاری ناکامی اور تعلیمی ایمرجنسی کے دعوؤں کی نفی ہے۔ سرکاری وسائل کو صرف کرپشن، کمیشن اور اقربا پروری کے لیے استمعال کیا جا رہا ہے۔ تا حال 10 ہزار بچوں کو درسی کتب نہیں مل سکیں جب کہ ایک طرف تو داخلہ مہم کے نام پر آفیسران ریلیاں نکالتے ہیں لیکن دوسری جانب سرکاری اسکولوں میں مختلف طریقوں سے طلبا کے داخلے میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔

بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ دور دراز کے اسکولوں کے حالت زار کی اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر کے اندر اسکولوں میں پریکٹیکل سمیت تمام سائنسی سامان کا فقدان ہے۔ میٹرک کے پریکٹیکل کسی اسکول میں بھی نہیں کروائے جا رہے ہیں۔ تعلیم کے نام پر محض وقت گزاری کا سلسلہ جاری ہے۔

ترجمان کے مطابق آفیسران کی جانب سے اسکولوں کی حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ تعلیمی شعبہ منفی سیاسی مداخلت کی وجہ سے مکمل یرغمال ہو چکا ہے۔ نوشکی کے سرکاری اسکولوں میں سیکڑوں اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں، ضرورت اس سے کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجود موجودہ آسامیوں کو بھی پُر نہیں کیا جا رہا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر طلبا کو جلد درسی کتب فراہم نہ کر کے داخلوں میں رکاوٹ کا سلسلہ نہیں روکا گیا اور اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئیےاقدامات نہیں کیے گئے تو ڈی ای او آفس کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا جائے گا اور اسکولوں میں کلاسز کا بائیکاٹ کیا جائے گا ۔

Facebook Comments
(Visited 22 times, 1 visits today)

متعلق نیوزڈیسک

نیوزڈیسک
حال حوال بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔ نیوز ڈیسک سے شائع ہونے والی خبریں مختلف ذرائع سے حاصل کی جاتی ہیں، جن کی مکمل ذمہ داری ادارہ پہ عائد نہیں ہوتی۔