مرکزی صفحہ / مباحث / سماج کا ارتقا، سوشلزم اور مغالطے

سماج کا ارتقا، سوشلزم اور مغالطے

ضیغم اسماعیل

انسانی سماج میں طبقات کا وجود ہمیشہ سے نہیں رہا بلکہ یہ تاریخ کے ایک خاص دور میں ابھرا ہے۔ ابتدا میں قدرتی وسائل کو انسان مشترکہ محنت سے قابلِ استعمال بنا کر اجتماعیت کی زندگی گزارتے تھے۔ اس موضوع پر امریکی ماہرِ بشریات لوئس ہنری مارگن کی تحقیقاتی تصنیف "قدیم سماج” اور اس کی بنیاد اینگلز کی شہرہ آفاق تصنیف "خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز” میں انسانی سماج کے ارتقا کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ مارگن کی زندگی کا بیشتر حصہ امریکی ریڈ انڈین لوگوں میں گزرا۔ مارگن کی تحقیق ایروکواس لوگوں کے سماجی ارتقا اور خاندان کی شیرازہ بندی کی تحقیق ہے۔ مارگن نے انسانی سماج کے ارتقا کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے: (1) عہد وحشت، (2) عہد بربریت اور (3) عہد تمدن (عہد تمدن جو آج بھی جاری ہے)۔ اینگلز نے ان اصطلاحات کو اسی طرح استعمال کیا ہے۔

قدیم سماج جو عہد وحشت سے شروع ہوا ایک قدیم اشتراکی سماج تھا جسے قدیم پنچائتی سماج بھی کہا جاتا ہے۔ اس سماج کی خصوصیت یہ تھی کہ ذرائع پیداوار اور قدرتی وسائل پورے قبیلے کی مشترکہ ملکیت تھے اور وسائل کو انسانی اجتماعی محنت سے بروئے کار لا کر پورے قبیلے کے افراد میں برابری کی بنیاد پہ تقسیم کیا جاتا تھا۔ ایسے سماج میں ذاتی ملکیت ناپید تھی اور ذاتی ملکیت کی عدم موجودگی میں طبقات کا وجود ناپید تھا۔ سماج کا ارتقا آلات پیدوار کی تبدیلی سے منسلک ہوتا ہے. جیسے جیسے آلات پیدوار تبدیل ہوتے ہیں سماج میں تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے بالکل اسی طرح آلات پیداوار کی ترقی نے انسانی سماج کو عہد وحشت سے عہد بربریت میں داخل کیا۔

نیچر کے جبر کو توڑتے ہوئے انسان موسم، جغرافیے اور خام غذا کی غلامی سے آزاد ہوگیا۔ انسان نے شکار کرنا سیکھ لیا اور آگے چل کے گلہ بانی اور پھر زراعت پہ عبور حاصل کرلیا۔ زراعت کے آغاز سے ذاتی ملکیت کا بھی آغاز ہوا۔ انسان کو اب ایک خاص علاقے میں مستقل پڑاؤ کی ضرورت پڑی اور بعد ازاں زمینوں پہ کام کرنے کے لیے غلاموں کی بھی ضرورت شروع ہوئی اور یوں کمزور قبائل کے باشندوں کو غلام بنایا جانے لگا اور قدیم پنچائتی نظام کا اختتام ہو گیا۔ اب سماج غلام داری نظام میں داخل ہو چکا تھا اور پہلی بار انسانی سماج میں آقا اور غلام کا طبقہ بمعہ طبقاتی نظام کے نمودار ہوا جو کسان وجاگیردار اور مزدور وسرمایہ دار کی شکل میں جاری ہے۔

مورخین نے انسانی سماج کے ارتقا کے مطالعہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ طبقاتی نظام غیر متبدل وجامد یا ازلی صداقت نہیں جیسا کے سرمایہ دار اور ان کے کاسہ لیس دانشور کہتے ہیں۔ مارکس اور اینگلز نے اپنے بیش بہا مطالعہ، علم وتحقیق سے نوع انسانی کو انقلابی جذبوں سےسرشار کیا۔ ہے ان کےانقلابی افکار کی بدولت طبقات میں منقسم دنیا میں کئی ایک انقلابات پیرس کمیون سے سوویت یونین، چین، کیوبا، شمالی کوریا، ویت نام اور افریقہ تک برپا ہوئے۔ رجعتی بورژوا دانشوروں نے پراپیگنڈہ کے تحت لوگوں میں سوشلزم اور کمیونزم کے خلاف الجھن اور ابہام پیدا کیے ہیں تاکہ محنت کش سوشلزم اور کمیونزم سے متنفر ہو جائیں اور استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کو طول مل پائے۔ کچھ اس قسم کا ابہام کہ سوشلسٹ ریاست میں ذاتی ملکیت کی اجازت ہوتی ہے اور کمیونسٹ ریاست میں نہیں، یا سوشلزم اور کمیونزم کے درمیانی فرق کو گڈ مڈ کر دیا جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشلزم اور کمیونزم کی تشریح خالصتاً مارکسی بنیادوں پہ کی جائے تاکہ عوام میں پھیلی الجھن اور ابہام کو ختم کیا جا سکے. سرمایہ دار طبقے کی سوشلزم کی تشریح مسخ کرنے کو بے نقاب کیا جا سکے۔ ہم استاد عظیم کارل مارکس، اینگلزاور کامریڈ لینن کی تصانیف کے حوالہ جات سے سوشلزم اور کمیونزم کی تشریح کریں گے۔ مارکس "گوتھا پروگرام کی تنقید”میں لکھتے ہیں: "سرمایہ دارانہ سماج کمیونسٹ سماج کے درمیان ایک ایسا دور پڑتا ہے جو پہلے کے دور میں انقلابی طور پر تبدیل ہو جانے کا دور ہے۔ اسی دور کے مطابق سیاسی عبوری دور بھی ہوتا ہے جس میں ریاست پرولتاریہ کی انقلابی آمریت کے سوا اور کچھ ہو ہی نہیں سکتی.” مارکس یہاں واضح طور پہ بتاتے ہیں کہ سماج سرمایہ داری سے کمیونزم میں یکلخت تبدیل نہیں ہوتا بلکہ سماج کو لازم طور پر ایک انقلابی عبوری دور سے گزرنا پڑتا ہے جسے مارکس نے کمیونزم کا پہلا مرحلہ کہا ہے اور پرولتاریہ کی آمریت کا عبوری دور کہا ہے۔ یہاں پرولتاریہ کی آمریت کی وضاحت کرنا نہایت ضروری ہے۔ سرمایہ داری انقلابات نے قدیم بادشاہتوں کو ختم کر کے ایک نیا بورژوا جمہوری سیاسی نظام رائج کیا جو آج تک رائج ہے۔ بورژوا جمہوری نظام بظاہر تو جمہوری ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ طبقاتی نظام میں حکمران طبقے کے مفادات کسی ایک طبقے سے جوڑے ہوتے ہیں۔ چوں کہ سرمایہ داری نظام میں حکمران طبقہ سرمایہ دار ہیں اس لیے بورژوا جمہوریت بھی سرمایہ دار طبقے کے مفادات کی حفاظت کرتی ہے چنانچہ بورژوا جمہوریت دراصل بورژوازی یعنی سرمایہ دار طبقے کی آمریت کے سوا کچھ نہیں۔ اسی وجہ سے جب اشتراکی انقلابات رونما ہوتے ہیں تو بورژوازی کی آمریت (جو کہ اقلیتی طبقے کی آمریت ہے) کو پرولتاریہ کی آمریت (جو اکثریتی طبقے کی آمریت ہے) سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پرولتاریہ کی آمریت بورژوا جمہوریت سے زیادہ جمہوری ہوتی ہے۔ اس عبوری دور جسے مارکس نے کمیونزم کا پہلا مرحلہ کہا ہے، لینن اسے سوشلزم کہتے ہیں۔ کامریڈ لینن اپنی تصنیف "ریاست اور انقلاب” میں لکھتے ہیں: "اسی سماجی نظام کو نظر میں رکھتے ہوئے جسے عام طور سے سوشلزم کہا جاتا ہے، لیکن جسے مارکس نے کمیونزم کا پہلا مرحلہ قرار دیا ہے”۔گویا سوشلزم کمیونزم کا ابتدائی اور عبوری دور ہے جہاں سماج رفتہ رفتہ کمیونزم کی طرف ترقی کرتا ہے۔ایک ابہام یہ پایا جاتا ہے کہ سوشلسٹ ریاست میں جبر مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے یہ بھی غلط ہے۔ جیسا کے مارکس نے پہلے ہی بتا دیا ہے کہ سوشلزم ایک عبوری دور ہے اس میں جبر کی کچھ نا کچھ شکل باقی رہتی ہے۔ کامریڈ لینن کے بقول ریاست جبر کا ایک آلہ ہے۔ ظاہر ہے یہ کسی ایک طبقے کے مفادات کا پاسدار ہوتا ہے۔ بورژوا ریاست اقلیتی طبقے یعنی سرمایہ دار طبقے کے مفادات کی محافظ ہوتی ہے جو اکثریتی طبقے یعنی محنت کش طبقے کو دبانے کا آلہِ کار ہے۔ کمیونزم میں ریاست کا وجود نہیں رہتا اور یہ ممکن نہیں کہ ریاست کو یکلخت ختم کر دیا جائے لہٰذا پرولتاری انقلاب کی حاصلات کی حفاظت کے لیے ریاست کی ضرورت رہتی ہے چنانچہ عبوری دور یعنی سوشلزم میں جبر کی ایک شکل باقی رہتی ہے جس میں اکثریتی طبقے کے استحصال کے بجائے اقلیتی طبقےیعنی سرمایہ دار طبقے پر جبر ہوتا ہے اور اسے محنت کشوں کی محنت کے استحصال کی اجازت نہیں دی جاتی، ذاتی ملکیت کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے اور ذرائع پیداوار کی ذاتی ملکیت کو سماج کی اجتماعی ملکیت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

کامریڈ لینن "ریاست اور انقلاب” میں اس کی مکمل وضاحت کرتے ہیں۔ "جب سرمایہ داری سے کمیونزم میں آنے کا عبوری دور ہوتا ہے تب بھی زور زبردستی کی ضرورت باقی رہتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ اس وقت لوٹی جانے والی اکثریت لوٹنے والی اقلیت کو دبا کر رکھتی ہے۔” یہاں کامریڈ لینن لوٹی گئی اکثریت سے مراد محنت کش طبقہ بتاتے ہیں اور لوٹنے والی اقلیت سرمایہ دار طبقہ۔ ایک طبقہ دوسرے کو کیسے دبا کر رکھ سکتا ہے؟ اس کام کے لیے کسی خاص مشینری، کسی خاص ادارے کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ادارہ ریاست کہلاتا ہے۔ اکثریت ریاست کی مدد سے اقلیت کو دبا کر رکھتی ہے۔ کامریڈ لینن مزید لکھتے ہیں:” ایک خاص قسم کا ڈھانچہ، ایک خاص طرح کی مشین جو دبانے کے کام آتی ہے،”ریاست”تب بھی ضروری ہوتی ہے، لیکن اب وہ ایک عبوری ریاست ہوتی ہے، اب وہ صحیح معنوں میں ریاست نہیں ہوتی” آگے چل کے کامریڈ لینن لکھتے ہیں: "آخر میں صرف کمیونزم ہے جو ریاست کو قطعی غیر ضروری بنا دیتا ہے کیوں کہ کمیونزم میں کسی کو بھی دبانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ "کسی کو” سے مطلب یہ کہ کسی طبقے کو، آبادی کے کسی مخصوص حصے سے باقاعدہ جدوجہد نہیں کرنی پڑتی.” گویا واضح ہوا کہ کمیونزم میں ریاست کا وجود نہیں رہتا اور یہ ابہام کہ کمیونسٹ ریاست ایک استحصالی یا جابرانہ ریاست ہے دور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ کمیونزم اور ریاست دو متضاد چیزیں ہیں۔ ایک الجھن یہ بھی پائی جاتی ہے کہ سوشلزم میں زائد پیداوار کا کیا ہوگا، چیزوں کی خرید و فروخت کن اصولوں کے تحت ہوگی، محنت کشوں کی اجرتوں کا معمہ کیسے حل ہوگا؟

آئیے دیکھتے ہیں کہ کامریڈ لینن سوشلسٹ معیشت کے بارے کیا لکھتے ہیں: "سوشلزم میں ہوتا یہ ہے کہ پیداوار کے ذرائع افراد کی ذاتی ملکیت نہیں رہتے، پورے سماج کی ملکیت ہو جاتے ہیں۔ سماج کا ہر فرد جو سماجی ضرورت کے کاموں میں سے اپنے حصے کی کوئی خدمت انجام دیتا ہے، سماج ہی سے اس کی سند پاتا ہے کہ اس نے اتنا کام کیا ہے۔ اور یہ سند دکھا کر وہ سامان ضرورت کے پبلک اسٹوروں سے کام کی مناسبت سے مقررہ سامان حاصل کرتا ہے۔ اس کی محنت کا جتنا صلہ ہونا چاہیے اسی کا حصہ پبلک فنڈ کے لیے منہا کر لیا جاتا ہے۔ لہذا ہر ایک کام کرنے والے کو اس کام کے بقدر جو اس نے سماج کے لئے انجام دیا ہے، معاوضہ مل جاتا ہے.” اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ہر شخص اپنے حصے کی محنت سماج کے لیے کرتا ہے اور اس کے عوض معاوضہ پاتا ہے یا یوں سمجھ لیجیے کہ اشیا کی فروخت قدر اصل سے کچھ زیادہ ادا کر کے کی جاتی ہے۔ قدر اصل یعنی لاگت۔ لاگت سے زیادہ کیوں ادا کرنا پڑتا ہے یا کچھ قیمت پبلک فنڈ میں کیوں جمع کرانی پڑتی ہے؟ اس کی وجوہات یہ ہیں: 1- پیداوار کو بڑھایا اور پھیلایا جا سکے۔ 2- مشین کی گھسائی اور ٹوٹ پھوٹ کا خرچ پورا کیا جا سکے۔ 3- انتظامی محکموں، اسکولوں، اسپتالوں، بوڑھوں کے بسر اوقات کے لیے مکان وغیرہ کے خرچ چلائے جا سکیں۔ 4- سوشل سکیورٹی کا نظام چلایا جا سکے۔

اب دیکھتے ہیں کہ کمیونسٹ سماج کیا ہے۔ ایک چیز تو واضح ہو چکی کہ کمیونسٹ سماج میں استحصال کا خاتمہ ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں ریاست تحلیل ہو جاتی ہے۔ مارکس لکھتے ہیں: "کمیونسٹ سماج کا اعلیٰ مرحلہ یہ ہے کہ جب فرد تقسیمِ محنت کے غلامانہ بندھنوں سے آزاد ہو چکا ہو، اور اسی کے ساتھ ذہنی و جسمانی محنت کے درمیان جو تضاد ہے وہ دور ہو چکا ہو، جب محنت صرف زندگی بسر کرنے کا ایک ذریعہ نہیں، بلکہ زندگی کا اولین تقاضا بن چکی ہو، جب فرد کے ہر پہلو سے ترقی یافتہ ہو جانے کے ساتھ ساتھ پیداواری قوتیں بھی بڑھ چکی ہوں، اور سماجی دولت کے سارے سرچشمے رواں ہوں، اس دولت کی افراط ہو رہی ہو، تب جاکر بورژوا حق کی تنگ سرحدیں پوری طرح پار کی جا سکتی ہیں اور سماج اس قابل ہو سکتا ہے کہ اپنے پرچم پر یہ لکھ دے: "ہر ایک سے اس کی قابلیت کے مطابق اور ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق”۔ تقسیمِ محنت کے غلامانہ بندھنوں سے آزادی کیا ہے؟ سرمایہ دارانہ سماج میں میں محنت کی تقسیم کی جاتی ہے ہر فرد ایک خاص تقسیم کے تحت کام کرتا ہے، کوئی ہاتھ کی محنت کرتا ہے تو کوئی ذہنی محنت اور پھر اس تقسیم کے اندر مزید تقسیم پائی جاتی ہے، ہاتھ سے محنت کرنے والوں میں کوئی غیر تکنیکی کام کرتا ہے تو کوئی تکنیکی کام کرتا، کوئی ہتھوڑے سے پتھر توڑتا ہے تو کوئی کرشر مشین چلاتا ہے۔ اس تقسیم کی بنیاد پہ اجرتوں میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ کمیونسٹ سماج اس تقسیم سے پاک ہو چکا ہوتا ہے۔ کمیونسٹ سماج کا اعلیٰ مرحلہ یعنی سوشلزم سے آگے کا دور جسے صحیح معنوں میں کمیونسٹ سماج کہا جا سکتا ہے ایک ہی فقرے میں مرکوز ہے، "ہر ایک سے اس کی قابلیت کے مطابق اور ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق "یعنی ہر فرد اپنی قابلیت کے مطابق سماج میں اپنی محنت کا حصہ ڈالے گا خواہ وہ جسمانی محنت ہو یا ذہنی محنت، اور اپنی ضروریات کے مطابق پیداوار سے لے لے گا۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ سماج کی دولت اتنی وافر مقدار میں ہو کہ ہر شخص کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ پیداوار کی اتنی وافر مقدار میں ہونا ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ فرد کی محنت کا فرد کے ہاتھوں استحصال مکمل طور پر ختم ہو جائے اور محنت کی حاصلات سماج کے مشترکہ خزانے میں جمع ہوں جو کہ سماج کی مشترکہ ملکیت ہو۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ کمیونزم کے پہلے مرحلے یعنی سوشلزم سے گزرا جائے اور کمیونزم تک پہنچنے سے پہلے استحصالی عناصر کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔ آخر میں کامریڈ لینن کے الفاظ میں "سوشلزم اور کمیونزم کا علمی فرق بہت صاف ہے۔ جسے عام طور سے سوشلزم کہا جاتا ہے، یہ وہی ہے جس کو مارکس نے کمیونسٹ سماج کے "پہلے” یا نیچے کے مرحلے سے تعبیر کیا تھا۔ جہاں تک کہ ذرائع پیداوار کے عام مشترکہ ملکیت ہو جانے کا تعلق ہے، لفظ "کمیونزم” ہی اس پر صادق آتا ہے. اگر ہم یہ نہ بھول جائیں کہ اس حد میں پہنچ کر مکمل کمیونزم قائم نہیں ہوتا”

Facebook Comments
(Visited 27 times, 1 visits today)

متعلق ضیغم اسماعیل خان

ضیغم اسماعیل خان
اسلام آباد میں مقیم ضیغم اسماعیل سماجی علوم کے مطالعہ اور تحریر و تقریر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔