مرکزی صفحہ / مباحث / اصل ایشو نواز شریف نہیں!

اصل ایشو نواز شریف نہیں!

عبدالباری مندوخیل

نوازشریف نے جمہوری نظام کی آڑ میں کیسے اریوں روپے کمائے، یہ اپنی جگہ ایک افسوس ناک کہانی ہے۔ اور اس پر اس کا کڑا احتساب ہونا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے اکثر پارلمینٹرین جمہوری نمائندے بن کر اپنا اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان میں بمشکل ایک آدھ نمائندہ کروڑ پتی یا ارب پتی نہیں ہو گا۔ یا اس کے اس ملک کے اندر یا باہر اپنی کمپنی یا دوسرے کی کمپنی میں شیئرز نہیں ہوں گے۔ جمہوری نمائندگان کی راتوں رات اپنے اپنے کاروبار میں حیران کن وسعت کسی معجزے سے کم نہیں۔ یہ لوگ سیاست کو کاروبار اور عوامی نمائندگی کو اپنا فطری حق سمجھ کر قوم کے حقوق اور وسائل اپنے اہل و عیال کی جاگیر سمجھ رہے ہیں۔ ریاستی مشینری اور وسائل کو اپنے والد کی پراپرٹی سمجھ رہے ہیں۔

مقصد یہ کہ سیاسی پارٹیاں عوام کو اتنے بھولے بھی نہ سمجھیں کہ وہ ان کی غیرجمہوری حرکتوں سے ناواقف ہیں۔ یا عوام ان کی سیاست اور جمہوریت کے لبادے میں غیر سیاسی اور غیر جمہوری رویوں سے ناآشنا ہیں۔

لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم اس نظام کے ہی خلاف ہو جائیں۔ اگر دو اکتوبر کے الیکشن ریفارمز بل 2017 کی منظوری سے نااہل کیے گئے۔ وزیراعظم نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کا قانونی و آئینی حق ملتا ہے تو اس کی مخالفت کرنے کا مقصد اس پر ایک ناکام سیاست کرنے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ اس بل کی منظوری ایک عوامی نمائندگی کی علامت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ہوکر ہوئی ہے۔ اور اس ادارے کو قانون سازی کا یہ اختیار پاکستان کا 1973 کا آئین دیتا ہے۔ ایسے میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے 2000ء میں سیاسی پارٹیوں کو دباؤ میں رکھنے کے لیے بنائے گئے قانون کا خاتمہ کرنے میں کون سی ایسی غلط بات ہے جس پر بعض لوگ اس اقدام کو اس نظام کے لیے خطرہ قرار دے کر شور مچا رہے ہیں۔

یہ نہ کوئی ایشو ہے اور نہ ہی اس میں نواز لیگ کی مخالف سیاسی جماعتوں کو وقت ضائع کرنا چاہیے۔ اس ریاست کا سب سے بڑا مسئلہ نواز شریف کا صدر ہونا یا نہ ہونا نہیں بلکہ اس کے 21 کروڑ عوام کا سہارا بن کر ان کو یہ یقین دلانا ہے کہ ان کی زندگیوں میں شدت سے سرائیت کی گئی غربت وافلاس سے کیسے چھٹکارا دلانا ہے نہ کہ ان کو نان ایشوز کی طرف دھکیلنا ہے۔

ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جمہوریت باقاعدہ ایک سماجی فلسفہ کا نام ہے۔ اس میں نسل، خاندان، پیدائش اور امیر و غریب سے بڑھ کر ہر شہری کو مساوی بنیادوں پر بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا چاہیے۔ لیکن یہاں پر حالات بالکل اس کے برعکس ہیں۔ سیاست اسں ملک میں ایک بااثر سردار، چوہدری، نواب اور وڈیرہ کا کاروبار اور ذریعہ معاش بن چکی ہے۔ اس میں غریب لوگوں کے لیے ان لوگوں کے صرف جوتے چاٹنے کی جگہ رہ گئی ہے۔

آج اگر کسی سیاست دان یا سیاسی پارٹی کے احتساب کی بات کی جاتی ہے تو اپنی جان چھڑانے کی خاطر بلاامتیاز ہر ایک کے احتساب کا ڈھول پیٹتے ہیں۔ اگرچہ وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں لیکن ان کا اولین مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالیں۔ جو انہوں نے عوامی رائے سے منتخب ہونے کے باوجود عوام سے کیے گئے وعدوں کو وفا نہ کرتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال اپنی ذات کے مفاد میں کیا۔

اب اگر کسی غیر عوامی نمائندہ پر کوئی اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام آتا ہے تو اس سے عوام کی امیدوں کو اتنی ٹھیس نہیں پہنچتی، جتنا ایک عوامی نمائندے کے اختیارات کے ناجائز استعمال سے ووٹرز کا دل ٹوٹتا ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ جمہوری لوگوں کو اپنا قبلہ درست کرنا چاہیے۔ مسئلہ نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر منتخب ہونے میں نہیں بلکہ اس ریاست کو سب سے بڑا چیلنج جمہوری کلچر کو فروغ دے کر عوام کو ان کا بنیادی سیاسی، معاشرتی اور سماجی حق دینا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری نظام کا ہر صورت میں تحفظ کرتے ہوئے بلاتفریق ہر ایک کا احتساب ہونا چاہیے تاکہ کہیں بھی کسی بھی صف میں، کسی بھی شکل میں اور کسی بھی لباس میں ملبوس کالی بھیڑوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔ اسی میں ہماری بقا ہے۔ اسی میں ہماری عزت ہے۔ اسی میں ہماری خوش حالی اور استحکام ہے۔ اور اس کے ضروری ہے کہ پارلمینٹ کے ساتھ ساتھ تمام ریاستی ادارے اپنی اپنی حدود میں مکمل بااختیار اور مضبوط ہوں۔

Facebook Comments
(Visited 69 times, 1 visits today)

متعلق عبدالباری مندوخیل

عبدالباری مندوخیل
عبدالباری مندوخیل ایم اے جرنلزم ہیں۔ سماجی اور سیاسی علوم میں دلچسپی رکھتے اور لکھتے رہتے ہیں۔ bari_mandokhail@yahoo.com