مرکزی صفحہ / مباحث / روھنگیا کے افتادگانِ خاک

روھنگیا کے افتادگانِ خاک

اقبال زہیر بلوچ

سب سے ہہلے تو بطورِ ابتدائیہ ایک تمہید باندھنی پڑے گی کہ من حیث الانسان ہمارے لیے انسانیت مقدم و اولین ہونی چاہیے۔ ایک انسان کا قتل پورے انسانیت کے قتل کے مقولے پر من و عن لبیک کہنا چاہیے۔ کہیں پر، کسی بھی طور انسان سے روا رکھے جانے والے غیرانسانی سلوک کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

اس مختصر سی تمہید کے بعد آتے ہیں اپنی ایک عام سی روش کی طرف، جس کا شکار غالباً ہمارے معاشرے کی ایک غالب اکثریت ہے۔ ہم کسی بھی مسئلے کی جڑ یا معلومات کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے پہ فیصلہ صادر کرتے ہیں کہ کون غلط اور کون صحیح ہے اور اس پر بنا کسی پس و پیش کے اپنی رائے بھی قائم کر لیتے ہیں۔

بنیادی طور پر یہ وہی روش ہے جو معاشرے میں جذباتیت، انتہاپسندی، نرگسیت (وسیع تر معنوں میں)، تفرقہ جیسی کئی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔

اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف۔ پچھلے کئی ہفتوں سے میانمار کے روھنگیا موضوعِ بحث ہیں۔

یہ روھنگیا کون ہیں؟ ان کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے؟ یہ وہ چیدہ چیدہ نکات ہیں جن پر ہم اس کالم میں بات کریں گے اور مسئلے کو سمجھنے کی سعی کریں گے۔

آرکائنی یا روھنگیا بیس لاکھ نفوس پر مشتمل ایک کمیونٹی ہے جو میانمار کے راکھائن اسٹیٹ میں رہتے ہیں۔ اس تاثر کے برعکس کہ سارے روھنگیا مسلمان ہیں، ان میں ہندومت کے پیروکاروں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے۔

ماضی میں راکھائن کی چٹاکانگ سے نسبت اور بنگلہ دیش سے قدرتی وابستگی کی بنا پر ان کو عموماََ بنگالی تصور کیا جاتا ہے۔ اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو "روھنگیا” کی اصطلاح جس کے معنی آراکائن، (یہ اَمر دلچسپی سے خالی نہیں کہ میانمار میں کئی تاریخ نوعیت کے ناموں کو تبدیل کیا گیا ہے، جیسے برما اب میانمار، رنگون ینگون اور آراکائن راکھائن بن چکے ہیں) یا راکھائن کے باشندے ہیں، قریبا پچھلے پچاس سالوں سے زیر استعمال ہے۔ اس سے پہلے اس لفظ کا ذکر کسی بھی تاریخی کتاب میں نہیں ملتا۔

میانمار میں شروع سے صورت حال ایسی نہیں تھی۔ 1948 میں میانمار کی آزادی کے بعد روھنگیا وہاں کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور ان کو شہری حقوق حاصل تھے۔ وہاں 1962 میں فوجی حکومت کے بعد نسلی تعصب کی داغ بیل ڈالی گئی۔ 1982 میں جنرل نیون کی سرکار نے میانمار میں برما قومی قانون پاس کیا جس کی رو سے روھنگیا برما کی 8 نسلوں میں شمار نہیں ہوتے۔ بامار، چن، کاچن، کیاہ، مون، راکھائن، کائن اور شان کے علاوہ باقی سب نسلیں غیر برمی ہیں۔ روھنگیا کے علاوہ برمی گرکھا، برمی چینی اور برمی پاکستانیوں کو بھی وہاں حقِ شہریت حاصل نہیں۔

1982 کے اس قانون کے مطابق ان کو میانمار کا شہری تصور نہیں کیا جاتا۔ قومی نسل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی نقل و حمل، تعلیم وتربیت اور سول سروس نوکریوں پر پابندی ہے۔ شاید انہی وجوہات کو بنیاد بنا کر 2013 میں اقوام متحدہ نے ان کو سب سے زیادہ ستائی ہوئی قوم قرار دیا۔

میانمار کی 2014 میں ہونے والی مردم شماری میں 1,206,353 افراد کو شمار نہیں کیا گیا، جن میں روھنگیا سمیت وہ تمام نسلیں شامل ہیں جن کو شہریت کا حق حاصل نہیں۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی انوسٹی گیٹر برائے میانمار یانجی لی کے مطابق میانمار اپنی تمام روھنگیا آبادی کو نکالنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں اگر روھنگیا نسل کشی کا جائزہ لیا جائے تو قبل از آزادی 1942 میں دوسری عالمی جنگ کے دوران روھنگیاؤں کی بڑی تعداد میں نسل کشی کی گئی اور بعدازاں 1978، 1991، 1992، 2012، 2015، 2016 اور 2017 میں بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے۔ روھنگیا آبادی کا ایک بڑا حصہ ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں خصوصا اور بھارت میں عموما پناہ لینے پر مجبور ہوگیا۔

اب یہ تو واضح ہوگیا کہ میانمار کسی بھی طور ان کو اپنا شہری تصور کرنے کو تیار نہیں، نسلی تعصب کو ملک میں قانونی حیثیت دی گئی ہے اور مزید یہ کہ بدھ مت کے پیروکاروں کا رویہ بھی اس مسئلے کو لے کر کافی اشتعال انگیز ہے۔ بدھا اور بدھ مت کی تعلیمات کے برعکس دنیا کے سب سے پُرامن ترین مذھب میں تشدد غالباً ڈاکٹر مبارک علی کے اس نقطے کی عکاسی کرتا ہے کہ مذھب سیاست کے شانہ بہ شانہ اپنی روایات و نظریات یا بنیادی اساس میں تبدیلی کرتا رہتا ہے۔

خیر! اب کچھ باتیں اس بحث کے ایک اور پہلو پر۔ روھنگیا مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہم نے کافی نکات کا جائزہ لیا۔ بلاشبہ یہ ایک سنگین نوعیت کا انسانی مسئلہ ہے، جسے سمجھنے کے لیے ہمیں دنیا کے ان بدنصیوں کا تذکرہ بھی کرنا پڑے گا جن کو عام زبان میں "بےوطن” یا stateless کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک کی شہریت نہیں ہے۔ اب بہت سوں کو حیرانی ہوگی کہ اس قسم کے افتادگانِ خاک ہمیں کئی اسلامی و غیراسلامی ممالک میں ملیں گے۔

یورپ میں سابق یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد وہاں کئی نسلی اکائیوں کو بنیادی شہریت دینے سے انکار کیا گیا۔ جنونی ایشیا میں بھوٹان نے نوے کی دہائی میں کئی بھوٹانیوں کو نیپالی کہہ کر شہریت دینے سے انکار کر دیا۔ تھائی لینڈ نے کئی نسلی اقلیتوں کو شہریت دینے سے انکار کیا ہوا ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ وہاں ایسے لوگوں کو "مخصوص شناختی دستاویز” دی گئی ہیں۔ ایتھوپیا نے ارٹروی نسل سے تعلق رکھنے والے تقریباً ستر ہزار لوگوں کی شہریت منسوخ کر رکھی ہے۔ کویت نے 120000 بدوؤں کو شہریت دینے سے انکار کیا ہوا ہے، جن کی کئی نسلیں کویت میں صدیوں سے رہ رہی ہیں۔
شام نے 150000 کردوں کو شہریت دینے سے انکار کیا ہوا ہے۔

عالمی قوانین کے مطابق جن لوگوں کو حقِ شہریت حاصل نہیں ان کو stateless کہا جاتا ہے۔ جداگانہ قومی حیثیت بے وطنی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مختلف ممالک میں اس کو پرکھنے کی مختلف اقسام ہیں مگر دو بنیادی اقسام سب سے زیادہ مقبول ہیں: زمین کی بنیاد پر (Jus Soli) یا خون کی بنیاد پر (Jus Sanguinis) حقِ قومیت۔

اس کے علاوہ کئی ممالک میں قانونی، جنسی یا تعصب کی بنیاد پر بھی شہریت سلب کی جاتی ہے۔

نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے بنائی گئی اقوامِ متحدہ کی کمیٹی نے اپنے یکم اکتوبر 2014 کے اعلامیے میں واضح طور پر کہا ہے کہ کسی کو رنگ، نسل یا لسانی بنیادوں پر شہریت نہ دینا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

یو این ایچ سی آر نے 04 نومبر 2014 کو ایک عالمی مہم کا آغاز کیا تاکہ آئندہ دس سالوں میں statelessness کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ بے وطنی کے خاتمے کے لیے ایک عالمی ایکشن پلان بھی مرتب کیا گیا۔ اس پلان میں دس ضروری اقدامات درج ہیں جن کی بنیاد پر 2024 تک statelessness کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ موجودہ بےوطنی کی صورت حال پر قابو پانا، آنے والے وقتوں میں بے وطنی کے ابھار کو روکنا، بے وطن لوگوں کو بہتر شناخت و تحفظ کی فراہمی اس پلان کے چیدہ نکات ہیں۔

عالمی قوانین و اقدامات اپنی جگہ مگر حالیہ روھنگیا مسئلے نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ انسانیت کو درپیش اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کرائی ہے۔ بلاشبہ آنگ سان سوچی نوبل امن انعام یافتہ اور جمہوریت کے لیے ایک طویل جدوجہد کرنے والے انسان ہیں مگر ان کے ملک میں فوج کو اہم ملکی فیصلے کرنے کا قانونی حق حاصل ہے اور وہ بے بس ہیں۔

سوچی نے اپنے ابتدائی دور میں مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی سعی کی تھی، اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی سربراہی میں سفارشات پیش کی گئیں مگر ارسا کی مہمات نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ عالمی طور پر جہاں اردگان سمیت کئی رہنماؤں نے میانمار کی صورت حال پر کھل کر مذمت کی تو دوسری طرف ارسا جیسی شدت پسند تنظیم مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ میانمار کی کئی مسلمان تنظیموں نے ارسا کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اپنے 2014 کے ایکشن پلان کے مطابق عملی اقدامات اٹھائے، میانمار سے قطع نظر اس مسئلے کا عالمی بنیادوں پر ایک مؤثر حل نکالے۔ وگرنہ سوشل میڈیا پر پوسٹ شئیر کرنے یا اردگان کی ڈی پیز لگانے سے اور نہ ہی عامر لیاقت اور وقار ذکا کی مہمات سے یہ عالمی نوعیت کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

Facebook Comments
(Visited 65 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔