مرکزی صفحہ / حال حوال / میئر تربت، قاضی غلام رسول سے خصوصی نشست

میئر تربت، قاضی غلام رسول سے خصوصی نشست

ترتیب و تزئین : اسد بلوچ

میونسپل کارپوریشن تربت کے موجودہ میئر قاضی غلام رسول کا تعلق تربت کے معروف ادبی علاقہ سنگانی سر سے ہے۔ وہ 1955 میں تربت میں پیدا ہوئے. ابتدائی تعلیم بوائز ہائی اسکول تربت میں حاصل کی. پھر ڈگری کالج تربت سے گریجویشن اور بلوچستان یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی میں انہیں سیاست سے لگاؤ اور دل چسپی تھی۔ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایم ایس ایف ( مکران اسٹوڈنٹس فیڈریشن) کی بنیاد ڈالی. پھر بی ایس او کی سیاست کی اور بعد میں نیپ جیسی منظم سیاسی قوت سے منسلک رہے. اس کے بعد بی این وائی ایم اور پھر نیشنل پارٹی تک ایک اصول پرست اور آزاد منش متحرک رہنما کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اپنے کمٹ منٹ پر ڈٹے رہنے، اصولی پرستی اور عوامی جذبات کی صحیح ترجمانی پر انہیں ایک فوجی حکمران کی فوجی عدالت سے قید و بند کے علاوہ کوڑوں کی سزا سہنا پڑتی ہے۔ نیشنل پارٹی نے جب میونسپل کارپوریشن تربت کے لیے آپ کو اپنا امیدوار نامزد کیا تو آپ کی مخالفت میں کوئی سامنے نہیں آیا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ اپنا امیدوار بنا کر بلا مقابلہ اس منصب پر فائز کردیا. وہ اس وقت میونسپل کارپوریشن تربت کے میئر ہیں مگر خود کو کسی مخصوص سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں کہتے۔ ایک نشست میں ہم نے ان سے سیاسی و ذاتی اور سماجی حالات و واقعات پر ایک طویل نشست کی جو پیش خدمت ہے۔

سوال: سیاست میں کس طرح آئے، کسی واقعہ نے متاثر کیا؟
جواب: جب میں جماعت نہم اور دہم کا طالب علم تھا غالباََ 1969 کا زمانہ تھا چند دوستوں کے ساتھ مل کر مکران اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد ڈالی۔ اس کا مقصد تعلیمی ایشوز کو اٹھانا تھا کیوں کہ ہمارے ہاں تعلیمی مسائل زیادہ تھے. اسکولوں میں ٹاٹ، کرسیاں، ٹیبل وغیرہ جیسے مسائل کا ہمیں سامنا تھا۔ ہمارے ہاں طلبا کو اسٹڈی ٹور پر لے جانے کا تصور نہیں تھا. غریب طلبا کے پاس درسی کتب یا وردی اور بوٹ وغیرہ نہیں تھے. یہ سب ایسے مسائل تھے جنہوں نے ہمیں متحرک کیا. انہی کو بنیاد بنا کر سیاست شروع کی. اسی زمانے میں ون یونٹ خاتمے کی تحریک چل رہی تھی، سیاست کے عروج کا زمانہ تھا سو اس میں بھی شامل رہے. ہمارے پاس سلوگن تھے کہ ’’پروشاں پروشاں ون یونٹ ءَ پروشاں‘‘ ، ’’خدا ایک رسول ایک تنخواہ دو‘‘. چونکہ پنجاب کے ملازمین کی تنخواہ ہماری نسبت زیادہ تھی اس لیے تنخواہ والا نعرہ بھی ہمارا سلوگن بن گیا۔

اسی طرح شہر میں ایک دفعہ سیاسی مظاہرے کے دوران حکمرانوں کا پتلا بھی جلا دیا۔ ہم ایم ایس ایف میں رہ کر کام کر رہے تھے جبکہ بی ایس او بھی دو حصوں میں منقسم ہوا. پھر ہم نے ایم ایس ایف ختم کر کے کچھ ساتھیوں نے بی ایس او اور مجھ سمیت کچھ نے اینٹی سردار گروپ میں شمولیت اختیار کی. بعد ازاں انتخابات ہوئے تو ہم نے نیپ کو سپورٹ کیا. شاید یہ عمل فیملی سیاست کے اثر پر کیا تھا کیوں کہ ہماری فیملی نیپ کی حمایتی تھی. ہماری ہاں اس زمانے میں نیپ اور پیپلز پارٹی متحرک تھیں اس کے علاوہ جماعت اسلامی کا نام بھی تھا جس کی محدود سیاست تھی۔ پھر نیپ پر پابندی لگی اور رد عمل میں عوامی بغاوت ابھری. کچھ لوگ اس کے خلاف پہاڑوں پر چلے گئے اس سے بی ایس او منظم ہوا اور یہ تحریک مذید پھیل گئی. ہماری سیاسی بلوغت کا زمانہ تھا، سیاست سیکھتے رہے۔ 1965 کو بی ایس او کا مرکزی کونسل سیشن تربت میں منعقد ہوا جس میں ایوب جتک چیئرمین منتخب ہوئے جبکہ ڈاکٹر مالک اسی زمانے بی ایس او میں شامل ہوئے۔ یہی کچھ ہماری سیاست کی ابتدا اور بلوغت کا باعث رہا۔

سوال: آپ میئر شپ سے پہلے منظر سے غائب تھے 80 کی سیاسی سرگرمیوں سے2015 تک 35 سال بنتے ہیں؟
جواب: ان 40 سالوں میں بھی میں منظر پر موجود سیاست سے منسلک رہا. 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں بطور امیدوار الیکشن لڑنے کی پیشکش ہوئی تھی مگر سنجیدہ دوستوں نے منع کیا۔ اس کے بعد 2008 کے الیکشن میں جب ہماری پارٹی بائیکاٹ کر رہی تھی تب بھی کچھ بہی خواہوں نے مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کر کے الیکشن لڑنے کی پیشکش کی تھی. اس وقت چونکہ ہماری پارٹی کے کچھ دوست پارٹی پلیٹ فارم سے ہٹ کر آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے تھے جن میں سے کچھ دوست کامیاب بھی ہوگئے لیکن چونکہ پارٹی نے اصولی بنیاد پر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا اس لیے اس فیصلے کا احترام کر کے میں الیکشن نہیں لڑا۔ یہ نہیں ہے کہ میں درمیانی عرصے میں مکمل خاموش رہا ہوں، میں چونکہ سیاسی آدمی ہوں اس لیے ہمیشہ سیاسی جدوجہد کا حصہ رہا۔ پارٹی نے مجھے موجودہ میئر شپ کا عہدہ ایک ایسے وقت میں دیا تھا جب حالا ت انتہائی خراب تھے. اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور خوش قسمتی سے اس میں کامیاب ہوگیا. البتہ اس کا فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ کارپوریشن کی کارکردگی کیا ہے۔

سوال: آئیڈیل سیاسی شخصیت کون رہا ہے؟
جواب: چونکہ ہم طلبا کی سیاست کر رہے تھے اس لیے ہمارے آئیڈیل بی ایس او کے چیئرمین ہی تھے. ان سے متاثر تھے البتہ سیاسی شخصیات میں میر غوث بخش بزنجو اور باقی بلوچ سے متاثر رہے ہیں. میر صاحب سے اس زمانے میں ملاقات کی خواہش رہی وہ تربت آئے تو ان سے ملاقات کی خواہش پوری ہوئی. اس کے علاوہ باقی بلوچ بھی متاثر کن سیاسی شخصیت رہے ہیں ان کی محفل میں بیٹھ کر بہت کچھ حاصل کیا۔

سوال: عالمی سطح پر کسی سیاسی شخصیت سے متاثر ہوئے؟
جواب: جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن مینڈیلا اور ترکی کے حکمران رجب طیب اردگان کو پسند کرتا ہوں۔ منڈیلا کی جدوجہد سے بہت متاثر ہوں جنہوں نے جنوبی افریقہ جیسے سماج میں رہ کر وہاں انسانی حقوق کی سیاسی تحریک منظم کی اور اپنے پسماندہ اور پستی کے شکار سماج کو ایک روشن مستقبل دیا جو قابل تعریف ہے. اسی طرح ترکی میں فوجی آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے لیے رجب طیب ادرگان قابل ذکر سیاسی شخصیت ہیں وہ دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آواز ہیں۔

سوال: نیشنل پارٹی کی سیاست سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
جواب: نیشنل پارٹی کو افریکن نیشنل کانگریس کی طرح دیکھنے کا متمنی ہوں. روایتی سیاست سے ہٹ کر ہمیں ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو مجموعی بلوچ خواہشات کی ترجمانی کرے۔ این پی کے علاوہ دوسری کسی سیاسی جماعت سے متاثر نہیں ہوا اس لیے مطمئن ہوں. البتہ پاکستانی سیاست میں سیاسی جدوجہد اور جمہوری طرز کی سیاست میں جماعت اسلامی کی بہت تعریف کی جاتی ہے. انٹرا پارٹی انتخابات اور جمہوری روایات میں جماعت اسلامی نیشنل پارٹی کے بعد دوسرے نمبر پر آتی ہے. نیشنل پارٹی میں موروثی سیاست یا روایتی طرز بالکل موجود نہیں ہے یہ ایک فعال اور فعال سیاسی جماعت ہے جو غریب، مظلوم اور عام طبقے کی بات کرتی ہے. اس میں جمہوریت کو اولیت حاصل ہے. اپنے قیام کے بعد سے این پی مسلسل جمہوری انداز میں پارٹی انتخابات کرتی رہی ہے اور مختصر مدت میں تین مرتبہ سیاسی قیادت کا انتخاب کرچکی ہے جو پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کے مقابلے میں امتیاز ہے. اس کے علاوہ ہر تین ماہ بعد سینٹرل کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس بھی منعقد ہوتا ہے۔

سوال: بلوچ شناخت اور بقا کو لے کر این پی کی سیاسی حکمت عملی کو کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب: این پی کی سیاست سے مطمئن ہوں. جمہوریت محض الیکشن کرانے کا نام نہیں ہے بلکہ مختلف سیاسی تحریکات اور سیاسی اندازِ جدوجہد کا نام ہے. حالات کیسے ہوں جمہوریت یا آمریت سیاسی تسلسل قائم رکھنا اور سیاسی عمل کا حصہ رہنا ضروری ہے. میں ذاتی طور پر پُر امن جمہوری جدوجہد کا قائل رہا ہوں. شروع سے بی این وائی ایم، پی وائی ایم اور جمہوری سیاست سے تعلق رکھا ہے۔ مختلف مارشل لاؤں کا مقابلہ کیا ان کے خلاف جدوجہد کا حصہ رہا. مظاہروں، ریلیوں، جلسوں، جلوسوں، جیل بھرو تحریکوں سمیت سیاسی عمل کے مختلف مدارج میں شامل رہا ہوں. یہ سب جمہوری جدوجہد کا حصہ ہیں. میرے نزدیک صرف ووٹ اور الیکشن کا نام جمہوریت نہیں ہے. اس وقت نیشنل پارٹی ایک تسلسل کے ساتھ جمہوری پروسس کا حصہ ہے اس سے امیدیں وابستہ ہیں۔

سوال: سیاست میں کریمنل شخصیات کو جگہ دینے یا این پی میں ایسے افراد کو ٹکٹ یا ذمہ داری دینے کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں؟
جواب: ہم چونکہ خود کو پڑھا لکھا باشعور سیاسی کارکن کہتے ہیں اور اپنی سیاسی پلیٹ فارم پر اس حوالے سے فخر بھی کرتے ہیں اس لیے کسی بھی ایسی شخصیت کو اسمبلی کا ٹکٹ یا پھر پارٹی کے اندر عہدہ دینے کے قطعاََ حق میں نہیں ہیں. پارٹی لیڈر شپ میں کریمنل شخصیات کے لیے کوئی جگہ نہ ہو، سیاست شفافیت کا نام ہے. عوامی نمائندگی کا حق پارٹی کے اندر ہو یا اسمبلی میں صرف شفاف اور ایمان دار افراد کے پاس ہو. البتہ پارٹی آئین کے مطابق گنجائش کی حد تک ووٹر یا ہمدرد کے طور پر ایسے لوگ قبول کیے جاسکتے ہیں اگر ایسے لوگوں کو ذمہ داری دی گئی تو پھر نیشنل پارٹی کا دوسروں سے امتیاز ختم ہو جائے گا۔

سوال: مستقبل میں این پی کی لیڈر شپ کیسی ہو، ان میں کیا صلاحیتیں ہوں؟
جواب: این پی چونکہ تعلیم یافتہ اور متحرک سیاسی کارکنوں کی منظم جماعت ہے اس لیے کبھی اس میں لیڈر شپ کا بحران پیدا نہیں ہوا. اس وقت بھی جمہوری سوچ کی حامل بولڈ اور متحرک سیاسی قیادت اس کو لیڈ کر ر ہی ہے۔ این پی میں سیاسی قائدین کی ایک بڑی کھیپ موجود ہے جو پارٹی قیادت کو چلانے اور قیادت سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے. آئندہ بھی جمہوری سوچ کی حامل، نڈر اور بے باک سیاسی قیادت ہی پارٹی کو لیڈ کرے گی۔

سوال: این پی قیام سے اب تک کیا کامیابی حاصل کرچکی ہے؟
جواب: تمام بلوچوں کو ہر علاقے سے منظم اور اکٹھا کر کے ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کرنا این پی کی بہت بڑی کامیابی کہی جاسکتی ہے. این پی نے بلوچ عوام کو امید دی ہے. نیپ کے بعد یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو ہر بلوچ ایریا میں پھیل گئی ہے حتیٰ کہ کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں نیپ نہیں جاسکی تھی این پی وہاں تک پہنچ گئی ہے۔ کام کرنے کا اب بھی بہت موقع ہے. اپنے محدود وسائل کے ساتھ این پی منتشر قوم کو یکجا کرنے کی جو کوشش کر رہی ہے وہ دراصل بڑی کامیابی ہے اور بہت جلد این پی مظلوم اور مقہور عوام کی منظم آواز کی صورت سامنے آئے گی۔

سوال: حقیقی میئر شپ میں حائل رکاوٹیں کیا ہیں؟
جواب: اے ٹو Z کوئی شخصیت پرفیکٹ نہیں ہوتی ہے. یہاں الزام تراشی معمولی بات ہے. ملک کے وزیراعظم کو دو تہائی اکثریت کے باوجود نکالا جا تا ہے. اس ملک میں کچھ بھی حیران کن نہیں ہے ہر چیز ممکن ہے۔ علاقے کی ترقی اور بہتری کے لیے کون کیا کرسکتا ہے یہی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے پاس اس وقت محدود وسائل تھے جب میئر شپ کا عہدہ مل گیا تھا مگر بطور میئر میں کم از کم کبھی بھی علاقہ اور یہاں لوگوں کی خدمت کے لیے وسائل اور فنڈز کی کمی کا رونا نہیں رویا. جتنے وسائل میسر تھے اسے بہتر انداز میں حکمت عملی کے ساتھ بروئے کار لایا، جتنے فنڈز ملے ان پر بچت بھی کی اور ترقیاتی کام بھی کیے. اس لیے جب پورے صوبہ میں بلدیاتی اداروں میں فنڈز کی کمی کے سبب تنخواہوں کا مسئلہ پیدا ہوا اور ہڑتالیں ہوئیں تو تربت واحد شہر تھا جہاں میں نے بطور میئر نہ صرف اپنے معمولات کا تسلسل برقرار رکھا بلکہ اسکیمیں جاری رکھیں حتیٰ کہ اپنے ملازمین کو وقت پر تنخواہ بھی ادا کرتا رہا. یہ ایک ریکارڈ ہے میڈیا اس کا گواہ ہے۔

میں خود کو پرفیکٹ نہیں سمجھتا مگر شہر میں تعمیر و ترقی کے علاوہ صفائی ستھرائی، سڑکوں کی مرمت، سیوریج کا بہتریں سسٹم، ملیریا بخار کے خلاف اسپرے مہم کے علاوہ پبلک کو کارپوریشن کے ذریعے پانی کی فراہمی کا بہتریں نظام وضح کیا ہے۔ ہمارے پاس بھی مکمل اختیارات نہیں تھے لیکن جتنے تھے ان کا بھر پور استعمال کیا. حتی الوسع کوشش کی کہ تمام علاقوں کو برابری کی بنیاد پر کسی سیاسی تفریق یا تعصب سے بالا ہو کر فنڈز فراہم کروں اور اس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوا. تین سالوں میں کسی وقت اپوزیشن نے رکاوٹ پیدا نہیں کی کیوں کہ بطور میئر خود کو علاقہ کا نمائندہ اور خدمت گزار سمجھ کر ضرورت کے مطابق ہر علاقہ کو فنڈز فراہم کیا. کوشش یہ ہے کہ مقررہ مدت تک شہر کے تمام مسائل حل کرسکوں مجھے یقین ہے کہ ٹیم ورک کے ساتھ 90 فیصد مسائل دور کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ کبھی کسی کو ناراض نہیں کیا کیوں کہ اگر ایک دن ایک شخص کو ناراض کروں توسال کے 365 دنوں میں اتنے افراد ناراض ہوں گے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چا ر سالوں میں شہر کا آدھا حصہ مجھ سے ناراض ہوا میں نے خود کو کبھی پارٹی کا نمائندہ نہیں بلکہ بطور میئر علاقہ کا نمائندہ سمجھ کر کا م کیا۔

سوال: بلدیاتی ادارے واقعی بااختیار ہیں، بطور میئر آپ کے پاس اختیارات ہیں؟
جواب: بلدیاتی اداروں کا براہ راست عوام سے تعلق ہے. پوری دنیا میں یہ ایک پاور فل ادارہ ہوتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں صبح سے دوپہر تک عوام کا ہجوم رہتا ہے ان کے مسائل ہوتے ہیں، کسی کو کوئی مشکل پیش آتی ہے، کسی کی نوکری کا مسئلہ ہے، کوئی ٹرانسفر پوسٹنگ کے چکر میں ہے، کہیں بجلی کے ٹرانس فارمر کا مسئلہ ہے. سیوریج اور سڑکوں کے مسائل اور شکایتیں غرض ہر طرح کے مسائل کے لیے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔ یہ عوامی نمائندگی کا موثر اور بہتریں ادارہ ہے۔ ہمارے پاس اس طرح کے اختیارات نہیں ہیں جیسا کہ کراچی یا دوسرے بڑے شہروں میں میئر کو حاصل ہوتے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ ایم پی کے فنڈز ڈسٹرکٹ چیئرمین اور کارپوریشن کے میئر کو تفویض کر کے انہیں ترقیاتی اسکیمیں اور پبلک انٹرسٹ پر کام کرنے کی مکمل اجازت دینی چاہیے تا کہ وہ بہتر وسائل کے ساتھ بہتر کام کرسکیں۔ ایم پی اے گو کہ ایک وسیع حلقے کا نمائندہ ہے مگر ان کا ذاتی رابطہ محض چند افراد کے ساتھ ہوتا ہے اس کے برعکس میئر کے پاس ہر طرح کے لوگ آتے جاتے ہیں وہ ہر ایک کو ذاتی حیثیت میں جانتا اور پہچانتا ہے. ان کے مسائل اور مشکلات کو بھی جان سکتا ہے. اسے علاے کی ضروریات اور مسائل و مشکلات کا بھی صحیح پتہ ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ کم از کم کارپوریشن کو مذید مضبوط اور منظم پبلک ادارہ بنا کر اسے زیادہ سے زیادہ اختیارات اور وسائل دیے جائیں تاکہ کام کرنے میں آسانی ہو۔

سوال: ادب کو معاشرے کا ترجمان کہا جاتا ہے. آپ متفق ہیں اور آپ زیادہ تر کون سی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں؟
جواب: میں نے دانش وری اور زانت کاری کا کبھی دعوی نہیں کیا. میرے زمانے میں کسی نے اگر مارکس، اسٹالن، خلیل جبران یا مارکسی فلسفہ نہیں پڑھا ہوتا تو اسے بہتر انسان تصور نہیں کیا جاتا تھا. یہ لازمی تھا کہ آپ ایک طالب علم اور سیاسی کارکن کی حیثیت سے ادب کا حصہ رہیں یا کم از کم ان شخصیات کا مطالعہ لازم کیا کریں. میں نے بھی طالب علمی میں ایسی کتابیں ٹچ کیں انہیں سمجھنے کی کوشش کی۔ اکنامکس میں ماسٹر کیا تو کورس کی کتابوں کے علاوہ سیاسی و ادبی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا جبکہ اسلامی کتب بالخصوص قرآن بھی پڑھا ہوں نماز بھی پڑھتا رہا۔

سوال: سیاست کیوں ضروری ہے، معاشرتی تبدیلی کے لیے سیاست کس قدر کردار کی حامل ہے؟
جواب: چونکہ ہر شے کا دارومدار سیاست پر ہے. سڑک کی تعمیر سے لے کر روزگار کے ذرائع تک یہ سب سیاست کی کرم فرمائی سے ممکن ہیں. اس لیے کسی بھی زندہ شخص کے لیے اپنے سماجی ماحول میں رہ کر سیاست کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بھی یہ ایک قومی ذمہ داری ہے. بلوچستان ایک وسیع رقبے پر پھیلا خطہ ہے جس میں وسائل کی بھرمار اور ایک خوبصورت ساحلی پٹی ہے. اگر یہاں سیاست سے دست کش ہو جائیں تو ان سب کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا بلکہ خطرات مذید بڑھ جائیں گے۔ اب تو سی پیک جیسے بڑے منصوبے کے لیے جو کوسٹل بیلٹ کے لیے اژدھا بن گیا ہے، میرے نزدیک سیاست اور بھی ضروری بن گیا ہے. ہر بلوچ بچہ سیاست کے ساتھ اپنے اردگرد کے ماحول سے واقف ہو. انہیں تبدیلیوں اور چیلنجز کا شعور ہو تاکہ وہ مقابلہ کرسکیں. سیاست صرف کسی نواب، سردار یا زردار کا حق نہیں ہے، مختلف عناصر کی موجودگی اور متحرک صورت ہی مثبت نتائج دے سکتی ہے۔

سوال: غیر سیاسی عناصر کس حد تک سیاست میں اثر پزیر ہیں؟
جواب: بدقسمتی سے اب تک ہم کسی پرفکیٹ سیاسی جماعت کے قیام میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ ایک منظم، فعال اور متحرک قومی جماعت کی موجودگی میں باہمی اتحاد اور مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر کے ہم غیر سیاسی عناصر کو شکست دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ہمیں اس وقت نیپ جیسی مضبوط سیاسی جماعت کی بہت ضرورت ہے جس میں نڈر، بے باک، سنجیدہ اور باصلاحیت لیڈر شپ موجود ہو۔

سوال: بلوچ جدوجہد میں مزاحمتی فیکٹر کس قدر اثر پزیر ہوا یا سیاست کو متاثر کیا؟
جواب: جو ادارہ جس طریقے سے سیاسی مزاحمت کرسکتی ہے اس کا حق بنتا ہے۔ سیاسی مزاحمت جس صورت میں ہو جائز ہے البتہ اگر کوئی جماعت یا سیاسی شخصیت مسلح مزاحمت سے اتفاق نہ کرے تو وہ قابل گردن زدنی نہیں ہے اسے اپنا سیاسی حق استعمال کرنے کا اسی طرح موقع ملنا چاہیے۔ مسلح مزاحتمی فیکٹر بلوچ سیاست میں نیا رجحان نہیں ہے اس سے قبل بھی مسلح جدوجہد ہوتی رہی ہے. البتہ آج کی جدوجہد میں کچھ تبدیلیاں ضرور دکھائی دیتی ہیں.

سوال: ذاتی اور سیاسی زندگی میں کبھی مشکلات کا سامنا کیا ہے؟
جواب: میں نا بہت غریب رہا اور نا میرا تعلق امیر زاد طبقے سے رہا ہے، لوئر میڈل کلاس فیملی سے تعلق ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد زرعی بینک میں مختصر مدت کے لیے ملازمت اختیار کی۔ اس کے بعد گوادر ٹو تربت روٹ پر پسنجرگاڑی چلائی. البتہ سیاست سے کبھی کنارہ کش نہ رہا۔ اسی زمانے میں حمید شہید کو پھانسی دی گئی تو اس کے خلاف احتجاجی عمل کا حصہ رہا. پھر ہمارے ہاں پٹرول کا بحران پیدا ہوا تھا اور اس پر بھی احتجاج کیاگیا جس میں متحرک کردار ادا کیا۔ اس کے بعد درمیانی عرصے میں امریکہ چلا گیا لیکن وہاں سے کچھ مدت کے بعد واپس آگیا اور یہاں تربت میں اپناگیرج کھول کر محنت کشی کی۔ پھر دوستوں کے ساتھ مل کر تاجر برادری کو درپیش مشکلات اور ان کے حقوق کے لیے تربت میں پہلی بار انجمن تاجران کی تنظیم بنائی اور تاجر برادری کو متحد کیا۔ جس دن انجمن تاجران بنائی گئی تھی اور مجھے اس کا صدر چنا گیا تھا اگلے روز شہر میں بی ایس او کی احتجاجی ریلی کے دوران میں گرفتار ہوگیا اور جیل چلا گیا. یہ 1983 کا زمانہ تھا فوجی حکومت نے مارشل لا دفعہ 33 کے تحت ایک سال جیل اور کوڑے کی سزا سنا دی۔ جس دن مجھے کوڑے مارنے کا حکم تھا اس دن تربت میں پہلی بار خواتین اور بچوں نے اس کے خلاف منظم ہو کر جلوس نکالی تھی اور احتجاج ریکارڈ کیا تھا۔

سوال: قوم پرستی کے نام لیوا سیاسی جماعتوں کا کردار کیا ہے اور آپ کے خیال میں ان میں کیا بہتری ہونی چاہیے؟
جواب: میں ذاتی طور پر کسی سیاسی جماعت پر تنقید کا قائل نہیں ہوں مگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو میرے نزدیک صرف نیشنل پارٹی کی ہی قوم پرستی کی سیاست کر رہی ہے۔ اس کی بڑی مثال موجودہ مردم شماری میں دیکھی جاسکتی ہے کس سیاسی جماعت کا کردار کتنا تھا، کون اس معاملے میں متحرک تھا اور کون زبانی جمع خرچ کرتا رہا۔ اس پر کسی کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے لیکن یہ ایک اہم قومی ایشو بلکہ قومی بقا اور شناخت کا مسئلہ تھا. بلوچ کو بہ حیثیت قوم اقلیت میں جانے کا چیلنج سامنے تھا. این پی اس پہ بہت زیادہ عملی طور پر فعال کردار ادا کر کے یہ سازش ناکام بنادی۔

سوال: موجودہ مردم شماری کے رزلٹ سے آپ مطمئن ہیں؟
جواب: مکمل مطمئن تو نہیں ہوں. اس میں ہماری کوششوں سے مذید بہتری لائی جاسکتی تھی لیکن اس کے باوجود بلوچوں کی آبادی کا شرح مجموعی آبادی میں اطمینان کا باعث ہے. اگر باقی جماعتیں این پی کے ساتھ مل کر کام کرتیں تو مردم شماری کا نتیجہ اس سے بھی بہتر صورت میں نکلتا. افسوس ہے کہ عملی طور پر کسی سیاسی جماعت نے ساتھ نہیں دیا تھا۔

سوال: غیر سیاسی مسلح عناصر کا کردار بلوچستان میں کیسا دیکھتے ہیں؟
جواب: یہ گروہ حقیقی سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات کے لیے بہت ساری مشکلات کا باعث بنے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے. سیاست دو فکری تضادات کا نام ہے، شَر اور شِر کا نام ہے۔ غیر سیاسی گروہ اپنی مداخلت کو مستحکم بنانے کی کوشش کررہے ہیں. وہ کرپٹ اور غیر سنجیدہ عناصر کو سیاست پر حاوی رکھنے کی کوشش میں ہیں لیکن جو سنجیدہ سیاسی گروہ یا جماعتیں ہیں وہ بھی خاموش نہیں بلکہ وہ بھی اپنے تئیں کوشش کر رہی ہیں کہ ان کا مقام بلند ہو اور وہ فتح یاب ہوں۔ سیاسی جماعتوں نے نااہلی کر کے غیر سیاسی عناصر کو ڈیفنڈ کیا۔ سابقہ ادوار میں عوامی فنڈز کو مال کمائی اور بنک بیلنس بڑھانے کا ذریعہ بنایاگیا مگر ہماری حکومت کو جب موقع ملا تو ہم نے عوام کے فنڈز عوام ہی پر خرچ کیے. اسکولز، ہسپتال، تعلیمی ادارے، سڑکوں اور سیوریج پر بہتر انداز میں کام کیا. یقیناً یہ عوامل عام شہریوں کو غیر سیاسی گروہوں کے مقابلے میں حقیقی سیاسی جماعتوں کے قریب تر کرنے کا باعث بنیں گے۔

سوال: صوبے میں بہت بڑا تعلیمی بحران ہے، اسکولوں کی حالت زار قابل رحم ہے. این پی کی حکومت نے اس متعلق کیا اہم کام کیا ہے؟
جواب: تعلیم ایک بنیادی ضرورت ہے. آپ دیکھیں کہ 80 اور90 کے زمانے میں یا 2000 تک آتے آتے تعلیمی صورت حال کیا تھی اور آج کیا ہے۔ جب ڈاکٹر مالک پہلی بار وزیر تعلیم بنے تو انہوں نے بھر پور انداز میں تعلیم پر توجہ دی. خواتین سیکٹر میں بالخصوص ڈاکٹر مالک نے سب سے زیادہ کام کیا. ہمارے ہاں اس سے قبل خواتین کی تعلیم عیب سمجھی جاتی تھی مگر ڈاکٹر مالک نے گرلز اسکول کھولے اور لوگوں کو متوجہ کیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلائیں جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔گو کہ تعلیم کی تیز رفتار ترقی کے مقابلے میں حکومت کا کردار کوئی خاص نہیں رہا ہے بلکہ پرائیوٹ اسکولوں نے تعلیمی بہتری میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جس کا اعتراف لازمی ہے کیوں کہ پرائیوٹ سیکٹر میں ایجوکیشن کی سرگرمیوں کے بعد ہمارے ہاں بڑی تبدیلیاں نظر آرہی ہیں. نوجوان مقابلے کے امتحانات میں ٹاپ پوزیشن پر آرہے ہیں جو بلاشبہ انقلابی تبدیلی ہے۔ موجودہ حکومت میں نیشنل پارٹی نے اپنے اڑھائی سالہ دور میں بالخصوص مکران میں یونیورسٹی، میڈیکل کالج، ٹیکنیکل کالج سمیت کئی ادارے قائم کیے، اسکولوں کو اپ گریڈ کیا اور پہلی بار محکمہ تعلیم میں میرٹ کو ترجیح دے کر این ٹی ایس متعارف کرایا. یہ سب تعلیمی بہتری کے لیے اہم کارنامے ہیں۔

سوال: صحت کی صورت حال پر کچھ روشنی ڈالیے؟
جواب: نیشنل پارٹی حکومت کی اگر بات کی جائے تو کم از کم تربت میں صحت کے شعبے میں کافی کام کیا گیا ہے. بہت سی خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود اس وقت تربت کے سول ہسپتال میں سرجری، ڈائیلاسز اور مختلف بیماریوں کے علاج اور ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ تربت ہر لحاظ سے بلوچستان کا دوسرا بڑا شہر بن گیا ہے. تعلیم، صحت سمیت دیگر شعبوں میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے. میونسپل کارپوریشن تربت کوئٹہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے. اڑھائی سالوں کے دوران این پی نے اربوں روپے تک صحت کی مد میں خرچ کیے ہیں. اگر سابقہ ادوار کا موجودہ دور سے مقابلہ کیا جائے تو فرق واضح ہے جسے ہر آنکھ دیکھ سکتی ہے۔

سوال: مطالعے کے لیے کون سا وقت مقرر ہے؟
جواب: اس زمانے میں کام کا بوجھ، عوام سے میل ملاقات، مختلف سرگرمیاں یوں پورا دن گزر جاتا ہے. دن میں مطالعہ کا کوئی وقت نہیں ملتا کبھی رات کو اگر وقت مل جائے تو کچھ نا کچھ پڑھتا ہوں. البتہ اخبارات باقاعدگی کے ساتھ دیکھتا ہوں، ٹی وی چینل میں خبریں بھی دیکھتا ہوں. سوشل میڈیا کو وقت نکال کر دیکھتا ہوں مگر اس کا تسلسل نہیں ہے. جب وقت بچ جائے تو سوشل میڈیا پہ گزارتا ہوں۔

سوال: پسندیدہ ادبی شخصیت کون ہے؟
جواب: عطا شاد پسندیدہ ادبی شخصیت ہے. ایک تو وہ میرا ہمسایہ تھا شاید اس وجہ سے انہیں پسند کرتا ہوں دوسری وجہ ان کی شاعری سے بھی متاثر ہوا ہوں۔

سوال: پی بی 48 کیچ تربت کا اہم تریں انتخابی حلقہ ہے. اس نشست پر پارٹی کی طرف سے اگر آپ کو عوامی نمائندگی کا موقع دیاگیا تو کیا پوزیشن اختیار کریں گے؟
جواب: جو بھی امیدوار ہو وہ بااصول اور مدبر سیاسی شخصیت ہو، ایماندار اور غیر متعصب پڑھا لکھا سلجھا ہوا سنجیدہ شخصیت جسے عوامی تائید بھی حاصل ہو جو عام آدمی کے ساتھ اٹھتا بیھٹتا ہو، ان کے مسائل میں دل چسپی رکھتا ہو۔ ایسی نڈر و بے باک شخصیت جسے کسی کا خوف دامن گیر نہ ہو پارٹی کو اصولی بنیاد پر اس کا فیصلہ کرنا چاہیے. اس میں پارٹی کارکنان کی رائے کااحترام بھی کیا جائے۔ اگر عوام اور پارٹی قیادت نے مجھے اس قابل سمجھا اور امیدوار بنایا تو کوئی مشکل نہیں ہے۔ میں پارٹی فیصلے کا پابند ہوں، پارٹی نے مشکل حالات میں میئر نامزد کیا جسے میں نے قبول کیا. اگر پارٹی نے اس نشست پر صوبائی اسمبلی کا امیدوار نامزد کیا یا کوئی اور ذمہ داری سونپ دی اسے پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا کیوں کہ میں ایک سیاسی آدمی ہوں سیاست میرا اوڑھنا بچھونا ہے راہ فرار اختیار نہیں کرتا. اگر پارٹی فیصلے سے جیل جانا پڑا تو تیار ہوں۔

سوال: کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: کوئی بڑی شخصیت نہیں ہوں مگر عوام سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے ارد گرد سیاسی ماحول اور تبدیلیوں سے باخبر رہیں، بہتری کے ساتھ برائی کو روکنے کے شعوری عمل کا حصہ بنیں۔ کسی کی باتوں میں آکر جذباتی ہونے کی بجائے کو ن کیا کر رہا ہے اس کو عملی صورت میں دیکھیں. تمام سیاسی و سماجی معاملات کو صحیح معنوں میں پرکھ کر عقل کے مطابق فیصلہ کریں۔

Facebook Comments
(Visited 82 times, 1 visits today)

متعلق اسد بلوچ

اسد بلوچ
تربت میں مقیم اسد بلوچ صحافت اور انسانی حقوق کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق کمیشن کے ضلعی نمایندہ بھی ہیں، اور بیک وقت مختلف صحافتی اداروں کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ علاقائی مسائل پہ تبصرہ اور تجزیہ ان خاص میدان ہیں۔