مرکزی صفحہ / مباحث / متحدہ پشتون صوبہ، عملی پیش رفت کیا ہو؟

متحدہ پشتون صوبہ، عملی پیش رفت کیا ہو؟

فرید مینگل

"طاقت ور اور کمزور کے بیچ کوئی بات چیت کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے، انگریز پہلے ہمارا ملک چھوڑ دیں ہم پھر مذاکرات کریں گے.” یہ ڈائیلاگ ہے جناب اجے دیوگن صاحب کے جب وہ ایک ہندوستانی فلم میں بر صغیر کے عظیم سوشلسٹ کامریڈ بھگت سنگھ کا کردار ادا کر رہے تھے. کامریڈ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے انگریز سامراج سے مذاکرات کے لیے ایک شرط رکھی، اور وہ شرط تھی برصغیر سے انگریز سامراج کی بے دخلی کی.

اب سامراج اتنا سیدھا سادھا تو نہیں ہوتا نا کہ اسے وطن کے فرزندوں کی بات سیدھے سے  سمجھ آ جائے چاہے وہ بلوچستان کے حمید شہید ہوں، ہندوستان کے سکھ دیو ہوں یا پھر ویت نام کے ہوچی منہ، سبھی وطن پرست سامراج سے اس کی زبان میں بات کرنے کی کوشش کرتے رہے. سامراج، سامراج بنتے بنتے لاکھوں کروڑوں انسانوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈال چکا ہوتا ہے. لاکھوں مزدوروں کا خون پسینہ اور محنت غصب کر چکا ہوتا ہے. ہزاروں سیاسی تنظیموں کو اپنے رستے سے ہٹا چکا ہوتا ہے اور درجنوں ملکوں کو غلام بنا کر دنیا کا طاقت ور ترین سامراج بنا ہوتا ہے جسے ہم جیسے عام انسان سپر پاور کے نام سے جان رہے ہوتے ہیں.

سپر پاور کا نام سن کر موجودہ دجّال امریکہ کا نام ذہن میں آتا ہے. جس نے کیوبا، ویتنام، افغانستان، عراق، شام جیسے ملکوں کو قبرستان بنانے کی کوشش کی. بہت سوں کو بنا بھی دیا. اس کی شیطانی فہرست میں شمالی کوریا جیسے ملکوں کو قبرستان بنانے کا ابلیسی پروگرام بھی ہے. مگر کامریڈ بھگت سنگھ اپنے وقت یعنی بیسویں صدی کے دجال انگریز سامراج برطانیہ کو اپنے دیش سے نکلنے کا کہہ رہا تھا. اس دیس سے نکلنے کا کہہ رہا تھا جسے ہر لٹیرا لوٹنے کی کوشش  کرتا تھا. کبھی وہ لٹیرے محمد بن قاسم بنتا تو کبھی غازی غزنوی. اور تو اور اور دو ہزار سال پہلے کا سکندر مقدونی بھی یہیں آیا تھا اپنی سکندری آزمانے. وہ تو بھلا ہو میرے بلوچستان کے سخت ترین موسم اور سخت جان سپوتوں کا جنہوں نے اس سامراج سکندر اور اس کے لشکر پر جاتے جاتے کاری ضرب لگا دی.

مگر انگریز سامراج کافی چالاک اور مکار تھا. اسے لوٹ مار کرنے اور غلام بنانے کے سارے گر سارے ہنر آتے تھے. فرنگیوں کی تو مشہورِ زمانہ حکمتِ عملی ہی یہی تھی کہ divide  and rule یعنی تقسیم کرو اور حکومت کرو.

ہمارے خطے میں سب سے پہلے انگریز سامراج کی اس حکمت عملی کا نشانہ افغانستان بنا. جب سامراج نے افغان دھرتی کے سینے پر ایک زہریلی لکیر کھینچ کر افغانستان کو تقسیم کر دیا. یعنی افغان وطن کا بٹوارہ. اس تقسیم کے کچھ حصہ جات ریاست قلات میں شامل کر کے انہیں برٹش بلوچستان کا نام دے دیا گیا، یعنی ہمارے پشتون بھائیوں کی شناخت تک ان سے چھین لی گئی. اور ہم غمِ دوراں میں غلطاں کہ اس بٹوارے کو اپنا مقدر مان بیٹھے.

سامراج کی جتنی بساط تھی، لوٹ مار کی، قتل کیا، قبضہ کرتا گیا اور ہمارے وطن اور اس کے سپوتوں کی توہین کرتا گیا. جاتے جاتے 1947 میں اس نے پھر سے زہریلے خنجر سے وار کیا، ایک اور تقسیم کی تاکہ اس کی invisible حکومت اور سامراجیت قائم و دائم رہے. یعنی زمین تقسیم، عوام تقسیم، انسان تقسیم؛ سامراج یکتا، سامراج متحد.

جناب سر ریڈ کلف نے انیسویں صدی کے اواخر میں جو موجودہ پشتون اضلاع افغانستان سے کاٹ کوٹ کر بلوچستان میں ڈالے تھے وہ کچھ اس طرح ہیں؛
ژوب، پشین، لورالائی، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، دکی.

مندرجہ بالا اضلاع میں پشتون آبادی حالیہ مردم شماری کے مطابق تقریبا 35 لاکھ ہے،جن میں افغانستان کے جنگ زدہ افغان مہاجرین کی موجودگی بھی یقینی ہے.

بلوچ اور پشتون صدیوں پرانے رفیق اور ہمسایہ رہے ہیں. چاہے وہ نوری نصیر خان اور احمد شاہ ابدالی کی رفاقتیں ہوں یا پھر لعل شہید محراب خان اور تیمور شاہ کے روابط. اس صدیوں پرانی دوستی، خیر خواہی اور ہم سفری کو بلوچ اور پشتون قیادت نے ہمیشہ بہترین طریقے سے نبھایا ہے اور اپنی اپنی وحدتوں میں رہ کر اپنے حقوق کی کبھی مشترکہ تو کبھی الگ الگ جدوجہد کرتے رہے ہیں.

مگر حالیہ کچھ عرصے سے سیاسی بیان بازی اور بلوچ قیادت کے منتشر ہونے اور بلوچستان کے حالات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے بعض پشتون قوم پرست بلوچستان کا نام اور جغرافیہ ہی تبدیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں. ایک ایسی صورت حال میں جب بلوچستان کے طول و عرض سے مسخ شدہ لاشیں برآمد ہو رہی ہوں، ہر گھر سے کوئی نہ کوئی شخص غائب ہو، بلوچ سیاسی کارکن، دانش ور اور بلوچ طلبا یہاں تک کہ خواتین اور بوڑھے بزرگ قتل ہو رہے ہوں، پشتون قیادت کا یہ اخلاقی فرض تھا کہ وہ حقِ ہمسائیگی ادا کرتے. اسمبلی فلور پر حقیقی بلوچ قیادت کی غیر حاضری اور منتشری کا خلا پُر کرتے اور بلوچ قوم جو ماتمی کونٹ بچھائے بیٹھی ہے اس کے اس ماتمی کونٹ پر بیٹھے ہوئے سوگواروں کو دلاسہ دیتے، حوصلہ دیتے جو بلوچ اور پشتون قیادت کی روایت رہی ہے مگر وہ بلوچستان کی وحدت اور بلوچ قوم کے جذبات پر نمک چھڑکنے کے لیے نعرہ بازی اور ووٹ کی سیاست کر رہے ہیں.

پشتون قوم پرستوں کے اس نعرے (پشتون علاقوں کو ان کی قومی پہچان دی جائے) کی حمایت بلوچ قوم ہمیشہ کرتی آ رہی ہے. چاہے وہ پارلیمانی بلوچ قیادت ہو یا پھر آزادی پسند بلوچ قیادت سب نے حقِ ہمسائیگی کا لحاظ رکھا ہے اور  پشتون قیادت کو ہر ممکنہ مدد کی یقین دہانی کرائی ہے.

مگر بدقسمتی سے پشتون قیادت اس معاملے میں صرف الیکشن کیمپین تک محدود رہی ہے. 2013 کا الیکشن پشتون قوم پرست جیتے ہی اس بنا پر تھے کہ ان کی ساری مہم اس الگ شناخت والے نعرے پر تھی. مگر پچھلے پانچ سالوں میں اپنی مرضی کی اور پسندیدہ حکومتوں میں ہونے کے باوجود پشتون قیادت نے اس معاملے میں حقیقی اور عملی اقدام نہیں اٹھائے. شاید وہ ایک مرتبہ پھر 2018 کے الیکشن میں اسی نعرے کو کیش کرانا چاہتی ہے.

اگر پشتون قیادت، غیور پشتون عوام سے مخلص ہے اور حقیقت میں بلوچستان میں رہنے والے پشتونوں کو پشتون شناخت دینا چاہتے ہیں تو پھر مندرجہ ذیل نقاط کسی بحث و مباحث اور مثبت قدم کی طرف اشارہ کر سکیں گے:

1) بلوچ، پشتون دانش ور اس معاملے پر قومی کمیٹیاں تشکیل دیں.
2) دونوں کمیٹیاں باہمی ملاقاتوں کے ذریعے اس مسئلے پر  مثبت بحث و مباحثہ کریں اور اس کے حل کے لیے کوئی ممکنہ ٹائم پیریڈ مقرر کریں.
3) دونوں کمیٹیاں اپنی اپنی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے کر متفقہ سفارشات پیش کریں.
4) دونوں کمیٹیاں سوشل میڈیا، تحریروں اور آگاہی مہم کے ذریعے اپنے اپنے عوام میں شعور بیدار کریں تاکہ عوام سیاسی قیادت پر عملی اقدام اٹھانے کے لیے دباؤ ڈال سکیں.
5) دانش ور کمیٹیاں ایک دوسرے کے علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگراموں کے ذریعے طلبا کو اس بنیادی مسئلے کے حل، طریقہِ کار اور اہمیت پر بارہا آگاہ کرتے رہیں تاکہ کسی جذباتی پن کا شکار ہوکر (بالخصوص کوئٹہ میں) طلبا کسی باہمہ چلقپش کا شکار نہ ہوں.

Facebook Comments
(Visited 34 times, 1 visits today)

متعلق فرید مینگل

فرید مینگل
خضدار کے نوجوان فرد مینگل اب کوئٹہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مطالعے کے رسیا ہیں۔ کتابیں شوق سے پڑھتے ہیں۔ ہم عصر مسائل پہ بولتے اور لکھتے بھی ہیں۔