مرکزی صفحہ / خصوصی حال / آواران زلزلہ کے چار سال بعد__ دعوے، اعلانات اور زمینی حقائق

آواران زلزلہ کے چار سال بعد__ دعوے، اعلانات اور زمینی حقائق

شبیر حسین ساجدی

آواران ایک ایسا ضلع ہے جس کا نام سن کر ذہن میں فوری طور پر پسماندگی، غربت اور ناانصافی کی ایک بھیانک تصویر آ جاتی ہے۔ گویا آواران کا دوسرا نام جہالت ہے جس کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد عوام اکیسویں صدی میں بھی ناخواندگی، بے روزگاری اور ظلم و ذیادتیوں کا شکار ہیں۔

گو کہ ضلع آواران بلوچستان کے دیگر اضلاع کی طرح زرخیز جب کہ اپنی محل وقوع کے لحاظ سے منفرد اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے مگر ہر دور میں یہاں کے عوام کو وفاقی اداروں اور صوبائی سرکار کی طرف سے ناروا سلوک کا سامنا رہا ہے۔ جس کا ثبوت علاقے کی خستہ حال سڑکیں، تعلیم و صحت کے ناقص انتظامات، صفائی ستھرائی اور پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، بجلی و گیس اور دیگر انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی سمیت امن و امان کی حالیہ بدترین صورت حال ہے۔ جس کی وجہ سے تحصیل مشکے، تحصیل آواران، گیشکور اور کولواہ بھر سے سیکڑوں خاندانوں نے نقل مکانی کر لی ہے جو اپنے آبائی علاقوں سے سیکڑوں میل دُور رہ کر در بہ دری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

1997 تا 2004 کے طویل قحط اور 2007 کے سیلاب کے بعد آواران کی غیرفطری پسماندگی اور غربت کی لکیر ایک اور قدرتی آفت سے تب گہری ہوئی جب 24 ستمبر 2013 کے دن ایک طاقت ور زلزلے نے 7.8 کی شدت سے علاقے میں تباہی مچا دی۔ لوگ لمحوں میں اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔ ایک ہزار کے لگ بھگ افراد جاں بحق اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے جب کہ منہدم و ناقابلِ رہائش مکانات سمیت مجموعی طور پر تقریباً پچہتر ہزار گھرانے زلزلے سے متاثر ہوئے جو زیادہ تر کچی مٹی، پتھروں و اینٹوں، چھت چٹائیوں اور کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے۔

مذکورہ زلزلے نے آواران ضلع کو مکمل طور پر کھنڈرات میں تبدیل کر دیا تھا اور اس سے آواران کے لوگوں کی معاشرت پر جو اثرات پڑے وہ شاید برسوں تک نہ مٹ سکیں۔ زلزلے نے خود ہی قبریں کھودیں اور سیکڑوں کو خود ہی دفنا دیا، اس صدمے سے لوگ اب تک نہیں نکل پائے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز خضدار سے 150 کلومیٹر دور شمال مغرب میں تھا جس کی گہرائی زیر زمین 14 کلومیٹر تھی جس کے جھٹکے کوئٹہ، سبّی، خاران مستونگ سمیت سندھ کے متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے۔

متاثرہ علاقوں میں سرکاری سطح پر فوری ریسکیو آپریشن نہ ہونے اور لوگوں کی اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں تاخیر کے سبب متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔ کئی زخمی زندگی اور موت کی کشمکش میں بے بسی کی علامت بن کر زندگی کی جنگ ہار گئے، جو زندہ رہنے کی صورت میں یقیناً اس پسماندہ علاقے کی قسمت بدلنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے تھے۔ جن میں میرے ایک قابلِ قدر استاد اور سوشل ورکر مرحوم سر ایوب عادل بھی شامل تھے جو اس سے پہلے کولواہ گیشکور میں 2007 کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے تھے ____اللہ جنت نصیب کرے۔

اہلِ آواران و کولواہ آج سے ٹھیک چار سال قبل ہولناک زلزلے میں بچھڑنے والے اپنے پیاروں کی چوتھی برسی منا رہے ہیں۔

زلزلہ کو 4 سال بیت گئے مگر آواران کے باسیوں کے زخم اب تک نہیں بھرے۔ جو حالت چار سال قبل ضلع کے عوام کی تھی، آج وہ اس سے بدتر حالات کا شکار ہوگئے ہیں۔ مشکے و کولواہ کے عوام آج بھی بے بسی و لاچارگی کی زندہ تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ وہ آج بھی اپنی حالت کو بدلنے والے خدا ترس لوگوں کی راہ تک رہے ہیں۔

زلزلے کے باعث کولواہ گیشکور، ہور اور ڈنڈار کےعلاقوں میں پہلے ہی سے محدود صحت اور تعلیم کی سہولیات بری طرح متاثر ہوئیں جن میں اسکول اور صحت کے مراکز کی عمارتوں کو انتہائی نقصان پہنچا۔

چار سال بعد اب سرکار سطح پر تمام تر ہونے والے اعلانات کے غباروں سے تقریباً ہوا نکل چکی ہے۔ زمینی حقائق یہی بتاتے ہیں کہ وزیراعظم سے لے کر وزیر اعلیٰ کی سطح تک کیے گئے وعدے وفا نہیں ہوئے بلکہ ان کے خالی خولی اعلانات اور ڈھونگ دعوؤں کے بعد بدامنی کی ایک نہ ختم ہونے والی خونی لہر نے علاقے کو آگ کی طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، جس سے کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

یاد رہے حکومت کی جانب سے گھر، اسکول و اسپتال بنانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ بالخصوص مشکے کولواہ گیشکور و ڈنڈار کے تمام بنیادی مسائل جوں کے تُوں ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اُن دنوں دیگر اہم سیاسی و عسکری شخصیات کے ہمراہ آواران پہنچے تھے اور ان کی جانب سے اعلان کیا گیا شہر کو "ماڈل سٹی” بنانا تو اپنی جگہ اب تو آرام و سکون سے زندگی بسر کرنے کا حق بھی لوگوں سے چھینا جا رہا ہے جب کہ مالی امداد اور مکمل طور پر بحالی زندگی کے منتظر زخم خوردہ لوگ آج مزید بدحال زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے بلوچستان کے زلزلہ زدگان کے لیے فوری طور پر ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں تمام شیڈول بینکوں میں وزیر اعظم ریلیف فنڈ کے اکاؤنٹ کھول دیے گئے جہاں ملکی شہری اپنے عطیات جمع کرا سکتے تھے۔ نواز شریف نے متاثرین کو گھروں کی جلد تعمیر، شمسی توانائی کی فراہمی اور سڑکوں کا جال بچھانے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی اور ساتھ میں موجود اس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک کو ہدایت کی تھی کہ وہ پاکستان آرمی اورمقامی عمائدین سے معلوم کریں کہ سڑکیں کہاں کہاں بنائی جائیں۔

لیکن چار سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد یہی پتہ چلتا ہے کہ ماسوائے کرپشن، وسائل کی لُوٹ کھسوٹ اور ناانصافیوں کے، اس مملکت خداداد میں بلوچستان کے حصے میں کچھ نہیں آیا ہے۔ یہ تو کل ہی کی بات ہے کہ ملک کے باقی اضلاع کی نسبت آواران کی ٹوٹل آبادی کو 1998 کی مردم شماری کی اعداد و شمار سے بھی کم ظاہر کیا گیا ہے، یعنی ضلع کی پوری آبادی کو ایک لاکھ اکیس ہزار سے گھٹا کر ایک لاکھ اٹھارہ ہزار پیش کیا گیا ہے جو 1998 کے مقابلے میں 3 ہزار نفوس کم ہے۔ گویا آواران کی آبادی میں انیس سال بعد بھی ایک فرد کا اضافہ نہیں ہوا ہے اور ڈسٹرکٹ کی آبادی مسلسل منفی سمت کی جانب گامزن ہے۔

اکتوبر 2013 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی یہاں پہنچے تھے انہوں نے آواران میں جدید ہسپتال کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن باقی اعلانات کی طرح اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ اسی طرح پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے انٹرنیز کو مستقل کرنے کے امکانات مستقبل قریب میں دُور دُور تک نظر نہیں آتے۔

آواران شہر کو جنریٹر سے 24 گھنٹوں میں صرف 3 گھنٹے بجلی کی دستیابی ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت نے اس وقت ملکی گرڈ اسٹیشن سے بجلی کی فراہمی اور شمسی توانائی متعارف کرانے کے اعلانات کیے تھے مگر تاحال عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

حکومتی دعوے اور وعدے صرف میڈیا اور عالمی اداروں کے لیے تھے، زلزلہ متاثرین تک حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کا عشر عشیر بھی نہیں پہنچ پایا۔

زلزلے کے بعد ریسکیو آپریشن زیادہ تر لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سرانجام دیا جب کہ ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے کئی مقامی اور غیرملکی تنظیموں نے درخواستیں دیں لیکن انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حکومت نے یہ کہہ کر این جی اوز کو بحالی اور امداد کا کام کرنے کے لیے این او سی دینے سے انکار کر دیا کہ حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ آواران کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دے سکیں۔

بین الاقوامی اداروں کے نہ آنے کے باوجود چند ملکی این جی اوز نے آواران میں سرگرمیاں دکھائیں لیکن ان تنظیموں کی سرگرمیاں آواران کی ڈیڑھ لاکھ سے زائد آبادی کو ریلیف دینے اور انہیں ان کا گھر بسانے میں معاون ثابت نہ ہوسکیں۔ جماعت الدعوہ، جماعت اسلامی اور جیش محمد کے فلاحی ادارے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، الخدمت اور الرحمت ٹرسٹ کئی ماہ تک ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔ اس کے علاوہ ہینڈز اور این آر ایس پی کی جانب سے خوردونوش کی اشیا سمیت بانس اور مقامی پیش (مزری) فراہم کیے گئے تاکہ لوگ اپنے سائبان بنا سکیں۔

ناکافی امداد پر آواران کے عوام بارہا شکایات کر چکے ہیں لیکن پنجاب اور سندھ میں آنے والے سیلاب اور خیبرپختونخوا و کشمیر میں آنے والے زلزلے کے برعکس نہ تو میڈیا کی جانب سے توجہ دی گئی اور نہ ہی اقتدار کے ایوانوں تک احتجاجی صدائیں پہنچ پائیں۔

زلزلے کے بعد کیے جانے والے سروے میں چالیس ہزار سے زائد گھرانوں کی فہرست بنائی گئی تھی، جس کی مختلف وجوہ کی بنا پر سولہ ہزار خاندانوں تک تخفیف کر دی گئی۔ فہرست سے نکالے جانے والے بعض مستحق خاندانوں کی حق تلفی ہوئی جن کے گھر انتہائی مخدوش ہو چکے تھے یا پھر مکمل منہدم ہوگئے تھے۔

زلزلہ متاثرین کی بحالی کے کام کو تین سالہ پراجیکٹ کی شکل دینے سے خطیر رقم متاثرین کی امداد کے بجائے پراجیکٹ عملہ کی تنخواہوں اور دفاتر پر خرچ ہونے سے بحالی کا کام وسائل کی کمی کا شکار ہے۔ پراجیکٹ کی تشکیل کے بعد اہم پوزیشنز پر غیر مقامی افراد کی تعیناتی بھی علاقے کے عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے اسی رویہ کی مظہر ہے جو مقامی باشندوں کو کئی دہائیوں سے پسماندہ رکھنے کا باعث ہے۔

آفت زدہ عوام کی خواہش کے مطابق رقم کی یکمشت ادائیگی کی صورت میں وہ اپنے گھروں کی تعمیر بہتر انداز میں کر سکتے تھے لیکن متاثرین سے مشاورت کیے بغیر بحالی اور امداد کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے زلزلہ متاثرین کو نظرانداز کیے جانے کے باعث ان کے احساسِ محرومی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جسے کم کرنا وفاق کی سلامتی کے لیے ضروری ہے جب کہ 16 ہزار متاثرہ گھرانوں کے اندراج کا مناسب نظام نہ ہونے کے باعث سرکاری اداروں کی جانب سے امدادی رقوم کی تقسیم کے عمل میں بے قاعدگی اور بدعنوانی کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

Facebook Comments
(Visited 63 times, 1 visits today)

متعلق شبیر ساجدی