مرکزی صفحہ / بلاگ / بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے حوالے سے طلبا کے خدشات!

بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے حوالے سے طلبا کے خدشات!

عبدالباری مندوخیل

بلوچستان پبلک سروس کمیشن اس صوبے کے طلبا و طالبات کی اول و آخری امید ہے۔ اس سے تعلیم یافتہ طبقہ بہت سی امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جو میرٹ کا ضامن اور علامت ہے۔ اس ادرے کے سابق چیئرمین اشرف مگسی پر کرپشن اور ناانصافی کے شدید نوعیت کے الزامات اٹھنے کے بعد جسٹس ریٹائرڈ مہتا کیلاش ناتھ کوہلی کو تقریباً تین سال قبل اسی لیے تعینات کیا گیا تاکہ صوبے کے ایک باوقار ادارے کی گرتی ہوئی ساکھ کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ اس اقدام کو پورے صوبے میں پذیرائی ملی اور یقیناً کوہلی صاحب نے بلا امتیاز میرٹ کو اولین ترجیح بناتے ہوئے قابل اور باصلاحیت امیدواروں کو تعینات بھی کیا ہے۔ جس پر وہ خراجِ تحسین کے حقیقتاً مستحق ہیں۔

لیکن پچھلے کچھ عرصے سے لوگوں میں ایک تاثر ابھر رہا ہے کہ تعیناتی کے عمل میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو اپنی پالیسی پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ امیدواروں کی یہ رائے اس وقت عام طور پر دیکھی گئی جب اسسٹنٹ کمشنر اور سیکشن آفیسر کے نتائج کے بعد انٹرویو میں رہ جانے والے امیدواروں نے اپنی ڈیٹیلڈ مارک شیٹس نکالیں تو ان کے مطابق سب امیدواروں کو انٹرویو کے کل 200 نمبرز میں مبینہ طور پر اوسطاً 110 سے 120 مارکس دیے گئے ہیں اور کسی بھی امیدوار کی انٹرویو میں کامیابی یا ناکامی کا انحصار تحریری ٹیسٹ پر کیا گیا ہے۔

تو ایسے میں پھر انٹرویو کےان دو سو نمبرز کا کیا فائدہ جب سبھی کو ایک جیسے نمبرز دیے گئے۔ اس میں کوئی اگر 80 نمبر کا حق دار ہو اسے یہی نمبر دیے گئے۔ جو 150 نمبر کا حق دار ہو اور کسی لڑکے کی انٹرویو میں کوالٹی، قابلیت، صلاحیت اور فکری بلوغت کو بالکل بالائے طاق رکھ کر تحریری امتحان کو کامیابی کا ضامن قرار دیا گیا۔ حالاں کہ ضروری نہیں کہ کوئی لڑکا تحریری امتحان میں دیگر لڑکوں کی نسبت اچھے نمبروں سے پاس ہوا ہو، وہ انٹرویو میں بھی اتنا ہی باصلاحیت ہو۔ جو ایک طرح سے یہ عمل انصاف اور میرٹ کا معنی پر بھی پورا نہیں اترتا۔

دوسری اہم بات تحریری ٹیسٹ کے حوالے سے ایک رائے قائم ہو رہی ہے کہ ایک پیپر کے ٹیسٹ میں جنرل نالج کا پورشن حل کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ معلومات عامہ کا کوئی حد یا سلیبس نہیں ہوتا اور ایک ایک اسامی پر ایک ایک ہزار سے زائد لوگ اپلائی کرتے ہیں۔ جس کی وجہ پیپر بنانے والا اسے مشکل بنانے پر مجبور ہوتا ہے۔ تاکہ اسامیوں کی مناسبت سے فارمولے کے مطابق اتنے ہی امیدوار کامیاب ہوں جتنی اسامیاں ہیں۔

لیکن پھر بھی اگر ادارہ قابلِ حل سوالات کا پیپر بنائے اور انٹرنیٹ کے سرچ انجن گوگل سے مبینہ طور پر سوالات اٹھانے کی بجائے کسی کتاب سے ہی جنرل نالج دیا کرے تو اس سے ایک بڑا فائدہ ان امیدواروں کو مایوسی سے بچایا جا سکے گا جو دس دس سالوں سے انہی امتحانوں کی تیاری کر رہے ہیں اور پھر بھی منزل مقصود تک نہیں پہنچے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 178 times, 1 visits today)

متعلق عبدالباری مندوخیل

عبدالباری مندوخیل
عبدالباری مندوخیل ایم اے جرنلزم ہیں۔ سماجی اور سیاسی علوم میں دلچسپی رکھتے اور لکھتے رہتے ہیں۔ bari_mandokhail@yahoo.com