مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / مائی لارڈ، بلوچ ماؤں کی بھی سُنیں!

مائی لارڈ، بلوچ ماؤں کی بھی سُنیں!

محمد خان داؤد

مائی لارڈ!
بھارت کی بہادر ادیبہ جب بھارت کا مکرہ چہرہ دنیا کو دکھاتی ہے تو بھارت کے نام ور آدمی کہتے ہیں کہ اسے گاڑی سے باندھ کر اس کا وہ حشر کیا جائے جو بھارتی فوج کشمیری نوجوانوں کے ساتھ کرتی ہے۔ دوسری طرف وہ بہادر بیٹی وہ کچھ کہہ جاتی ہے جو اسے کہنا ہوتا ہے، پر بھارتی اسے کچھ نہیں کر سکتے۔ اس کے من میں جو کچھ آتا ہے، وہ کرتی جاتی ہے، بولتی جاتی ہے، لکھتی جاتی ہے۔

پر اس دیس میں ایسا کچھ نہیں۔ مست توکلی کے دیس میں تو بات اس سے بھی بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ یہاں کے ادیب، شاعر اور دانش ور ایسا کچھ نہیں لکھتے جو ملک مخالف ہو۔

یہاں ایسا تو کچھ نہیں۔ یہاں تو وہ ادیب، شاعر، دانش ور اپنی کویتائیں اس لیے لکھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی آواز ترنم کے ساتھ سنی جائے۔ لوگ انہیں پڑھیں اور ان کی وہ کویتائیں ان لوگوں کے پاس پہنچیں جو بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں پر کچھ نہیں کر پاتے!

ان کی وہ کویتائیں اخبارات کی زینت بنتی ہیں، میگزینوں میں چھپ جاتی ہیں۔ اور وہ میگزین دور دراز کا سفر کر کے وہاں پہنچتے ہیں جہاں وہ دل دھڑکتے ہیں جن دلوں میں دو محبت جنم لیتی ہے؛ ایک محبوب کی، دوسری دیس کی!

وہ نوجوان ان میگزینوں میں چھپے مضامین اور کویتائیں پڑھتے ہیں اور اپنے دیس کو ایسے ہی یاد کرتے ہیں جیسے وہ اپنی محبوبہ کو یاد کرتے ہیں! اور محبوبہ کو یاد ایسے کرتے ہیں جیسے وہ دیس کو یاد کرتے ہیں۔ وہی یاد اور وہی مضامین ان کا جرم بن جاتا ہے۔ پھر کہیں سے کوئی فرمان جاری ہوتا ہے۔ ان کے دور دارز کچے مکانوں میں وہ گاڑیاں آ کر رکتی ہیں جو پھر اس دھرتی پر نظر نہیں آتی۔ پھر وہ انہیں لے جاتے ہیں اپنے ساتھ کبھی واپس نہ آنے کے لیے۔ پر جاتے ہوئے ان مضامین، ان کویتاؤں کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔پیچھے رہ جاتا ہے بہت سا درد ان ماؤں کے لیے جن کی زندگی میں بس اس جاتی گاڑی کی دھول ہی رہ جاتی ہے!

ان کی زندگی میں پھر کبھی نئی صبح نہیں ہوتی۔ ان کی زندگی میں بس وہ رات ہی ٹھہر سی جاتی ہے جس رات ان کے عاشق بیٹے گاڑیوں میں ٹھونسے گئے، اور اب تک نہیں لوٹے۔

بلوچ صاحب! سوئیٹرز لینڈ کے شہر جنیوا میں فری بلوچستان کی مہم وہ مائیں نہیں چلا رہیں جو بلوچی میں سوچتی ہیں، بلوچی میں بولتی ہیں، بلوچی میں روتی ہیں۔ اور اب تو نہیں پر پہلے جب وہ خواب دیکھا کرتی تھی، اپنے بچوں کے دلہا بننے کے تو وہ بھی بلوچی میں ہی ہوا کرتے تھے۔ انہیں کچھ نہیں معلوم کہ حیربیا مری کون ہے؟ مہران بلوچ کون ہے؟ انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ سوئیٹرز لینڈ کہاں ہے؟ وہ تو بس اتنا جانتی ہیں کہ ان کے بیٹے کتابیں پڑھا کرتے تھے، ان کتابوں میں اپنے دیس کو دیکھا کرتے تھے، محبوبہ کی طرح!

وہ کچھ نہیں جانتیں کہ سوئیٹرز لینڈ میں یہ فری بلوچستان مہم کون چلا رہا ہے۔ وہ تو اپنے دکھ میں جینے کی سزا کاٹ رہی ہیں جن کی زندگی میں اب وہ سیاہ رات ٹھہر سی گئی ہے جس رات میں ان کے بچے ان کے کچے گھروں سے اُٹھا لیے گئے، اور ان کی یاد ان کی دلوں میں ایسے ٹھہر گئی جیسے موسیٰ کوہِ طور پر جائے اور وہیں ٹھہر جائے!

جیسے عیسیٰ مصلوب ہوئے اور وہیں اس دار پر ٹھہر گئے!
جیسے کنفیوشس اب تک یہ سوچ رہا ہو کہ، انہیں کیا کہوں؟
جیسے محمد علی باب یہ سوچ رہا ہو کہ اس کی باتوں کا لوگ یقیں کب کریں گے؟
جیسے قرۃ العین طاہرہ کچھ لکھ رہی ہو اور مٹا رہی ہو!

تو وہ مائیں بھی ابھی تک اسی کالی اماوس رات میں ٹھہر گئی ہیں جس رات ان کے وہ عاشق بیٹے اُٹھا لیے گئے اور لوٹے ہی نہیں۔

ان ماؤں کا نہ تو کسی نے درد سنا اور نہ لکھا، ان ماؤں کو تو کوئی جانتا ہی نہیں۔
کون جانتا ہے کہ ڈاکٹر دین محمد کی ماں کا نام کیا ہے؟
کون جانتا ہے ذاکر مجید کی اماں کا نام؟

جب ان ماؤں کے نام ہی کسی کو نہیں معلوم تو ان کا درد کون سنے اور کون رقم کرے؟

قومی اسمبلی اور سینٹ میں فری بلوچستان پوسٹر مہم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، اس پر لوگ بات بھی کر رہے ہیں۔ اس کا سختی سے نوٹس بھی لیا گیا ہے۔ لینا بھی چاہیے یہ کسی ملک کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ پر ان ماؤں کا کیا قصور ہے جو کیچ سے کچھی تک موجود ہیں، اور ان کے وہ بیٹے ایسے گم ہوگئے ہیں جیسے ان ماؤں نے انہیں جنا ہی نہیں تھا!۔

مائی لارڈ! ان ماؤں کے پاس جائیں اور ان سے پوچھیں کہ کیا انہوں نے وہ بچے نہیں جنے تھے جنہیں پاکستانی میڈیا اتنی بھی اہمیت نہیں دیتا جتنی اہمیت پاکستانی میڈیا ماڈل ٹاؤن سانحے کو دیتا ہے۔ ان عاشقوں کی گم شدگی کی بازگشت کب سنائی دے گی سینٹ میں اور قومی اسمبیلی میں؟ کون، کب، کسے بتائے گا کہ وہ مائیں اب بھی اسی سیاہ رات میں ٹھہری ہوئی ہیں جس رات ان کے گھروں پر ان کے دروں پر ان کی چادروں کا تقدس پامال ہوا اور ان کے دلوں کے وہ مندر ٹوٹ گئے جن مندروں میں وہ اپنے ان بچوں کے لیے پوجا کیا کرتی تھیں!

وہ اس رات بھی بلوچی میں رو رہی تھی اور اب بھی ان کے وہ گونگے آنسو بلوچی میں ماتم کرتے ان کے گولوں سے جاری رہتے ہیں۔

ان ماؤں کا کیا قصور وہ تو پڑھنا بھی نہیں جانتیں۔ انہیں کیا معلوم کہ کویتاؤں کا کیا درد ہوتا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ جب کوئی عاشق کسی کے عشق کے درد میں مبتلا ہو جائے تو وہ درد کیا ہوتا ہے؟

مائی لارڈ! ان ماؤں کی صداؤں کو ان ایوانوں تک لے جائیں…. جو اپنے گھروں سے باہر بھی نہیں جاتیں۔
مائی لارڈ، ان ماؤں کی زندگی میں آئی وہ کالی رات ختم کرائیں… اگر ختم نہیں کرا سکتے تو کم از کم دنیا کو یہ تو بتائیں کہ وہ مائیں اب تک اس سیاہ رات میں جی رہی ہیں۔

مائی لارڈ!
وہ مائیں جو پہاڑوں کے دامن میں بستی ہیں
جن کے دل روئی کی طرح
ملائم ہیں
جن کی آنکھیں کسی جھیل کی طرح
بہہ رہی ہیں
ان کی زندگی میں وہ رات ختم کرائیں
جو بہت سیاہ ہے، بہت کالی ہے!

Facebook Comments
(Visited 49 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com