مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / ملیر: تلاشِ گم شدہ!

ملیر: تلاشِ گم شدہ!

محمد خان داؤد

آؤ اس ملیر کو تلاش کریں
جو کسی میلے میں
کسی جواں ماں سے
اس کے پہلے بچے کی طرح
کھو گیا ہے
اور وہ ماں اس میلے میں
پاگلوں کی طرح
اس ملیر کو ڈھونڈ رہی ہے
اور اس ملیر میں بچے جیسا ملیر کہیں نہیں

آؤ اس ملیر کو تلاش کریں
اس اندھے فقیر کی طرح
جس کے بوڑھے کانپتے ہاتھوں میں
چند سکے تھے
وہ ان سکوں کو جیب میں
رکھ ہی رہا تھا
کہ اس کا ہاتھ کانپ گیا
اور وہ سکے اس کی جیب میں نہ جا سکے
وہ زمین پر گر گئے
اور اب وہ بوڑھا فقیر اپنی اندھی آنکھوں سے
ان سکوں کو تلاش کر رہا ہے!

آؤ ملیر کو تلاش کریں!
اس شہرِ یاراں میں
ان لفظوں کی طرح
جو بولے بھی جاتے ہیں
سنے بھی جاتے ہیں
لکھے بھی جاتے ہیں
پر ان کی کوئی معنیٰ نہیں ہوتی!

آؤ ملیر کو تلاش کریں
ان وڈیروں کی طرح
جن کا کوئی سیاسی قبلہ نہیں ہوتا
جن کی کوئی سیاسی تعلیم نہیں ہوتی
جن کے کوئی آدرش نہیں ہوتے
پر وہ جانتے ہیں
کہ ان کی رعایا انہیں ہی ووٹ دے گی
اور وہ سیاسی تعلیم
سیاسی اصولوں
اور آدرشوں سے زنا کرتے ہیں
اور پھر بھی ووٹ انہیں ہی ملتے ہیں

آؤ ملیر کو تلاش کریں
جو کسی کالم میں لکھے لفظوں کی طرح کہیں کھو گیا ہے
اُس ملیر کو تلاش کریں جو کسی مریض کی طرح
شہر کے اسپتال گیا
اور اب تک گھر نہیں لوٹا
آؤ اس ملیر کو تلاش کریں
جس کے لیے غالب نے لکھا کہ
"مدت ہوئی کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا!”

آؤ اس ملیر کو تلاش کریں
جسے وڈیروں نے بیچا
جہاں سے منتخب نمائندوں نے ووٹ لیے
اور قبضہ مافیا سے مل کر
ملیر ہی کو گم کروا دیا

پر جو بھی ملیر کو ڈھونڈنے نکلے
اس سے گزارش ہے کہ
ملیر صرف میمن گوٹھ نہیں
ملیر بس کونکر اسٹاپ نہیں
کھوراپار نہیں
موکھی کی قبریں نہیں
چوکنڈی کی ہیبت نہیں
ملیر کے وہ باغ بھی نہیں جہاں ان کے مالک ان باغوں کو
لونڈیوں کی طرح بیچ رہے ہیں
اور چارپائی پر بیٹھ کر بلوچی گیت سن رہے ہیں
ملیر موئیدان نہیں
ملیر گھگھر کا پھاٹک نہیں
ملیر وہ لنک روڈ نہیں جہاں آئے دن لوگ مر رہے ہیں
ملیر وہ جگہ بھی نہیں جہاں تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ
یہاں سے لطیف گزرا تھا
اور اگر ہم لطیف سے پوچھتے ہیں کہ
سائیں کیا آپ یہاں سے گزرے تھے
تو لطیف جواب دیتے ہیں:
"اللہ ائیں م ھو جئین آؤں مران بند میں
جسو زنجیرن م راتوں ڈینھن رو ئے
پھریان ویان لوء پوہ مر پجن ڈیھن ڑا!”

اور ہم جو لطیف نے پوچھتے ہیں ہمیں چپ لگ جاتی ہے!!

ملیر وہ بھی نہیں جہاں ملیر کے منتخب چیئرمین بیٹھتے ہیں
اور بہت سا گٹکا کھا کر شام کو اپنے گھر چلے جاتے ہیں
ملیر وہ بھی نہیں جہاں کا وائیس چیئرمین
اس سے بھی زیادہ چورہ کھا کر خوش ہو جاتا ہے
ملیر وہاں بھی ہے جہاں ساحل کا کنارہ ہوا کرتا تھا
اب نہ تو ساحل ہے، نہ اس کا وہ کنارہ
ملیر وہ بھی ہے جہاں کے باشندے
اپنے سروں پر دودھ کے مٹکے رکھ کر
لیاری جاتے تھے
اور اپنے گھروں میں یہ کہہ جاتے تھے کہ،
وہ شہر جا رہے ہیں!
ملیر وہ بھی ہے جہاں کے لوگ صبح بیدار ہو کر
سمندر کو دیکھتے ہیں
تو ملیر صرف وہ نہیں ہے جہاں کاٹھوڑ ہے
پر ملیر وہاں بھی ہے جہاں لوگ گلابی اردو میں بات کرتے ہیں
اور جب انہیں کوئی پولیس والا روکتا ہے
تو وہ اپنی جیبوں سے کارڈ نکال کر انہیں بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ
وہ ملیر میں رہتے ہیں!!

تو اے ملیر کو تلاش کرنے والوں
اس ماں کا بچہ ضرور ڈھونڈو
جو میلے میں کھو گیا ہے
ماں جواں ہے، ناداں ہے
اور اس کا وہ بچہ بھی پہلا ہے
جو ہو بہو ملیر جیسا ہے
اب اسے میلے میں کون تلاش کرے گا؟!!

Facebook Comments
(Visited 35 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com