مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / گیت خونی تلوار کے!

گیت خونی تلوار کے!

محمد خان داؤد

وہ اس صبح معمول سے جلدی اُٹھتا ہے، ایک نظر شہر کے اخبارات پہ ڈالتا ہے۔ پھر شاہ جو رسالو لے کر اس میں سے سُر کیڈارو پڑھنے لگتا ہے۔ وہ جانتا کہ اسے سندھی نہیں آتی۔ وہ وہ انگریزی میں سوچتا ہے،گلابی اردو میں بات کرتا ہے، اور اپنے محبوب سے نزار قابانی کی بولی میں بات کرتا ہے۔ پر اس کے سینے میں موجود دل ان لوگوں کے لیے دھڑکتا ہے جو پڑھے لکھے نہیں، جو ریاست کی چال بازیاں نہیں سمجھ پاتے۔ پر ان کے سینوں میں لطیف ایسے محفوظ ہو چکا ہے جیسے ایک قاری کے سینے میں قرآن!

وہ شاہ جو رسالو لے کر ایک طرف بیٹھ جاتا ہے۔ اس میں سے سندھی رسم الخط دیکھتا رہتا ہے۔ وہ کچھ نہیں سمجھ پاتا۔ پھر وہ اس رسالو کا انگریزی ورژن اُٹھا لیتا ہے۔ اور سُر کیڈارو پڑھنے لگتا ہے۔

اور بھٹائی کے ہر شعر پر "او بھٹائی، او بھٹائی، او بھٹائی، او بھٹائی!” کہتا رہتا ہے۔ جب اس کا سینہ درد سے بھر جاتا ہے، تو اسے یاد آتے ہیں وہ لوگ جن کے لیے بھٹائی نے کہا تھا کہ:

تم مجھے ایسے یاد آتے ہو
جیسے ٹوٹی ہڈی کا درد!

وہ اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے۔۔۔

وہ جان جاتا ہے کہ یہ لوگ بظاہر تو بہت سکھ میں ہیں، ان کے پاس سب کچھ ہے، پر ریاست نے انہیں جکڑ رکھا ہے، ان کے سب حق سلب کیے ہوئے ہیں۔

تیار ہو کر وہ پنڈال میں آتا ہے ان لوگوں کے سامنے زور دار تقریر کرتا ہے، جذبات میں آ کر اپنے سینے سے قمیض کھول لیتا ہے اور ریاست سے کہتا ہے، "میں نے کوئی بُلٹ پروف جیکٹ نہیں پہن رکھی، یہ دیکھو میرا ننگا سینہ جس میں ایک دل ہے جو ان لوگوں کے ساتھ دھڑک رہا ہے۔ تم مجھے خاموش نہیں کرا سکتے، آؤ اور مجھے گولیاں مارو تو میرا یہ دھڑکتا دل خاموش ہو جائے!”

جلسہ ختم ہوجاتا ہے۔ لوگ اس پر پتنگوں کی طرح رقصاں ہیں۔ اسے پھر بھٹائی یاد آتا ہے اور وہ اس بات کو جان پاتا ہے کہ یہی عوام ہیں جو اسے مرنے نہیں دیں گے اور اگر وہ مر بھی گیا تو پھر بھی ان کے سینوں میں ان کی یاد بن کر دھڑکتا رہے گا!

جلسہ ختم ہوتا ہے۔ اسے خیال آتا ہے کہ بچے گھر پر اکیلے ہیں اور نزار قابانی کے دیس کی محبوبہ بھی گھر میں اکیلی ہے۔ وہ اپنے دوستوں اور رفیقوں سے کہتا ہے اب بہت دیر ہو چکی ہے، واپس چلنا چاہیے!

گاڑی سُرجانی سے چلنا شروع ہوتی ہے،گاڑی میں خاموشی ہوتی ہے، پر اس کے دل میں بھٹائی کے طنبورو کے ساز بجنے لگتے ہیں اور وہ آنکھیں بند کیے شاہ کا کلام ان فقیروں سے سنتا رہتا ہے جو شاہ کے مزار پر شاہ کا کلام گا رہے ہوتے ہیں، اور بے ساختہ اس کی زباں سے نکلتا ہے: "او بھٹائی، او بھٹائی!” اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں!

گاڑی چلتی رہتی ہے، اسے اپنے بچے یاد آ رہے ہیں۔ اب بھوک بھی لگ رہی ہے اور وہ محبوبہ بھی یاد آ رہی ہے جو نزار قابانی کے دیس کی ہے اور وہ اپنے گھر میں ایک موم بتی جلا کر اپنے محبوب کا انتظار کر رہی ہے۔

آسماں پر محرم کا چاند ماتمی لباس پہن کر خاموش رُکا ہوا ہے، کیوں کہ وہ ستم گر ستمبر کے علاوہ محرم کا بھی مہینہ ہے۔ اب گاڑی ستر کلفٹن کے آس پاس پہنچ چکی ہے، سڑک کے دونوں جانب اداس درخت ان پرندوں کے ساتھ سو رہے ہیں، جو پرندے دن بھر شہر میں گھومتے رہے تھے۔ دور ایک کلیسا میں ایک راہبن مسیح کو یاد کر رہی ہے، اس کے لیے گیت گا رہی ہے، اس سے فریاد کر رہی ہے اور اسے کہہ رہی ہے کہ،

اے خداوندِ خدا
سب کو خوش رکھ
سب کو خوشیاں دے
کسی کا دل نہ توڑ
اگر کسی کا دل ٹوٹ گیا
تو وہ جی نہ پائے گا!

اور اپنے جسم پہ بار بار کراس کا نشان بنا کر، مسیح کے اسٹیچو کو دیکھتی ہے!

وہ گاڑی اب ستر کلفٹن کے پاس ہے۔ ریاست نمودار ہوتی ہے، اسے روکتی ہے۔ وہ رک جاتا ہے۔ وہ اس سے کچھ پوچھتی ہے، وہ بتاتا ہے، اور وہ کہتی ہے ٹھیک ہے جاؤ، وہ جیسے ہی اپنے گاڑی میں بیٹھنے لگتا ہے تو ریاست کا منہ کھل جاتا ہے جس سے بارود نکلتا ہے۔ بارود سب کو خون میں نہلا دیتا ہے،
گاڑی کو بھی، اس کے دوستوں کو بھی۔ اس کے وجود کو بھی۔ اور اس دل کو بھی جس دل میں بھٹائی کا ڈیرہ ہوتا ہے…. وہ بارود اس بھٹائی کو بھی مار دیتا ہے۔ اس گاڑی میں ایک تلوار بھی رکھی ہوتی ہے، وہ بھی اس جرم سے خون آلود ہو جاتی ہے۔ جب کہ وہ تلوار کسی جسم پر نہیں چلی ہوتی۔ پھر بھی سرخ ہو جاتی ہے!

چاند ماتمی لباس پہنے سب کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے!

گھر میں وہ موم بتی بجھ جاتی ہے جو ایک محبوبہ ایک محبوب کے لیے جلا کر انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ صبح کا کھانا وہیں پڑا رہ جاتا ہے۔ جس دن اس دیوانے کے سینے میں گولیاں ماری گئی تھیں، اس دن اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا، بس بھٹائی کو پڑھا تھا۔

پھر اسے اسپتال لایا جاتا ہے، پر اس کی لاش شہر کے کسی بھی اسپتال میں نہیں ملتی۔ جب ایک بہن کو اطلاع ہوتی ہے، جو اس وقت ملک کی وزیراعظم ہوتی ہے، ننگے پاؤں بھائی کے گم میں اپنے گھر سے دوڑتی ہے۔ پر اس کا زخمی وجود کہیں نہیں ملتا۔ آج بھی وہ تصویریں گواہ ہیں کہ ایک بہن اپنے بھائی کے غم میں کیسے چور چور ہے!

پھر اس کی اگلی صبح اسے شہیدوں کے قبرستان میں دفن کر دیا جاتا ہے، اور ایک اور کیس کھل جاتا ہے۔ وہ کیس چلتا رہتا ہے۔ وہ کیس اٹھارہ سال تک چلتا ہے۔ اور جب فیصلہ آتا ہے تو اسے میں لکھا جاتا ہے اسے کسی نے نہیں مارا!

پھر اس کی بیٹی کچھ سمجھدار ہوتی ہے؛ وہ اسے شعور آتا ہے تو وہ اپنے بابا کی وہ خونی تلوار دیکھتی ہے تو اسے الفاظ میں ڈھال دیتی ہے اور اس خون آلود تلوار سے گیت جنم لینے گلتے ہیں:

SONGS BLOOD SWORD!
گیت خونی تلوار کے!

وہ موم بتی بجھ گئی! وہ کھانا کہاں گیا؟ وہ مٹی میں دفن ہو کر ایک پھول بھی بن چکا!

پر انصاف نہیں ہوا!

اور چاند آج بھی ماتمی لباس میں وہیں ستر کلفٹن پر اس بارود کو دیکھ رہا ہے…..
اب وہ نہیں اور نہ وہ کہتا ہے: "او بھٹائی! او بھٹائی! او بھٹائی!”
اب بھٹائی کہتا ہے: "او میر! او میر! او میر!”

اور دُور، بہت دور، وہ گیت آج بھی کسی نوحہ کی طرح بج رہے ہیں جو گیت خونی تلوار کے ہیں!!۔

Facebook Comments
(Visited 36 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com