مرکزی صفحہ / اداریہ / جسم مٹ جانے سے انسان نہیں مر جاتے!

جسم مٹ جانے سے انسان نہیں مر جاتے!

ایڈیٹر

یہ بات محض شعر نہیں، صرف شاعرانہ خیال نہیں، کوئی تعلی نہیں، دعویٰ نہیں، انسانی تاریخ اس حقیقت پہ مہرِتصدیق ثبت کرتی ہے کہ محض‌ انسانوں کا جسمانی وصال ان کا دائمی خاتمہ ثابت نہیں ہوتا. ہاں مگر وہ لوگ جو جسم سے اوپر اٹھ جاتے ہیں، جو جسمانی و عارضی فوائد سے بالاتر ہو جاتے ہیں، ان کا جسم مٹ کر مٹی میں مل جاتا ہے مگر ان کا نام دائمی ابدیت پا جاتا ہے. یوں نہ ہوتا تو الگ بھگ چار سو سال قبل از مسیح میں زہر کا پیالہ پی جانے والا سقراط کب کا مر چکا ہوتا!!.

ہمارے خطے میں بھی اُن نیک انسانوں کا تسلسل موجود رہا ہے جو اپنے کردار کے باوصف نہ صرف اپنی حیات میں واجب احترام پا جاتے ہیں بلکہ جو بعد از مرگ بھی دائمی حیات پا لیتے ہیں. ایسا ہی ایک نام ہم سب کے قابلِ احترام عبداللہ جان جمالدینی کا تھا جو گزشتہ برس اسی روز 19 ستمبر کو ہم سے جدا ہوئے. اور اپنا 94 سالہ دنیاوی سفر مکمل کر نوشکی کی کلی بٹو کے قبرستان میں پیوندِ خاک ہوئے.

سال بھر گزر جانے کے باوجود اُن کی یاد اب تک بلوچستان کے اہلِ علم و اہلِ قلم اور اہلِ دانش کے مابین تازہ ہے. ان کی فکر کا سلسلہ آج بھی تھما نہیں. جس قافلے کی انہوں نے قیادت کی، وہ رکا نہیں. جس گروہ کی انہوں نے رہنمائی کی، وہ اب تک کہیں جھکا نہیں، اور اُس شجرِ سایہ دار کے بنا گزرے ایک برس کو محض اسی بنا پر ہی قابلِ اطمینان قرار دیا جا سکتا ہے.

جس طرح چوٹ کا احساس فوری نہیں بلکہ زخم ٹھنڈا پڑ جانے کے بعد ہوتا ہے، اسی طرح برگد کے کٹ جانے کے بعد اس کی چھاؤں کا احساس تب ہوتا ہے جب آپ کا واسطہ پہلی بار دھوپ سے پڑتا ہے. عبداللہ جان کی وفات کا اصل احساس اب ہونا شروع ہوا ہے. وہ خلا جو ان کی برگد نما شخصیت کے جانے سے پیدا ہوا، وہ اب جا کر کہیں ظاہر ہونے لگا ہے. نظریاتی چھاؤں کے چھن جانے کا اصل احساس اب کہیں جا کر ہونے لگا ہے.

جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، یہ خلا مزید گہرا ہو گا، یہ تاثر مزید پختہ ہو گا. محرومی اور یتیمی کا احساس مزید ابھر کر سامنے آئے گا. نظریاتی ناپختگی کے ساتھ لاوارثی کا تاثر مزید نمایاں ہو گا. بلوچستان میں دانش کے فقدان کا اصل احساس اب کہیں جا کر ہو گا.

ایسے میں صرف ایک ہی راہ باقی رہ جاتی ہے ایمان بچائے رکھنے کی؛ کہ عبداللہ جان کا فکری راستہ کسی صورت نہ چھوڑا جائے. ان کا فکری عَلم بہرصورت تھامے رہیں. ان کی دانش مندانہ روایت کو کسی صورت ترک نہ کیا جائے. اور یہ سب کرنے کو لازم ہے کہ ان کے علمی ورثے کو سنبھالا جائے، ان کی کتابوں‌ کو بار بار پڑھا جائے، ان کے علم سے نہ صرف بار بار مستفید ہوا جائے بلکہ آنے والوں کو اس سنگِ میل سے آشنا کیا جائے.

بلوچستان میں علمی روایت کے روشن خیال مستقبل کو جانے والا یہی ایک راستہ ہے، جس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں.

Facebook Comments
(Visited 105 times, 1 visits today)

متعلق ایڈیٹر