ایسے تھے بابا عبداللہ جان!

محمد خان داؤد

بی بی فاطمہ نے فرمایا، "انسان تو بس عمل ہے، جو باقی رہتا ہے، اور جو دفن کیے جاتے ہیں وہ انسان نہیں وہ تو محض ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوتا ہے، جو زیرزمیں چلا جاتا ہے!”

تو کیا 19 ستمبر کو ہم نے ایک انسان کو مٹی میں جاتے دیکھا؟ ہڈیوں کو دفن ہوتے دیکھا؟ یا 19 ستمبر کو ہمارے پاس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہ انسان رہ گیا جو سراسر عمل تھا، سر تا پاؤں عمل تھا، اپنی باتوں میں عمل تھا، اپنے کردار میں عمل تھا، اپنی زباں و بیاں میں عمل تھا، اپنی تحریر میں عمل تھا، وہ انسان اس انسان سے جدا ہو کر ہمارے پاس رہ گیا، اور وہ انسان جو اپنی زندگی میں اس انسان کے ساتھ جڑا رہا وہ انسان باقی انسانوں کے کاندھے پر سوار ہو کر وادی حیراں میں اپنی فکر کے ساتھ جا لیٹا!

جی ہاں، میں بات بابا عبدللہ جمال دینی، صاحبِ علم و عمل کی کر رہا ہوں، جسے اس وادی ء سے جاتے ہوئے ایک سال ہوگیا اور ہم اس کی راہ تکتے رہے۔ سنڈے پارٹیوں میں اس کا انتظار کرتے رہے، پر وہ نہیں آتے۔ وہ کاندھے اب بھی اس کا انتظار کر رہے ہیں جن کندھوں کا وہ سہارا لے کر اس چارپائی پر تشریف فرما ہوتے تھے، جس چارپائی پر وہ بیٹھ کر علم کی باتیں آساں زباں میں فرمایا کرتے تھے۔ وہ چار پائی اب بھی ہے، وہ سنڈے پارٹی بھی ہے، وہ لوگ بھی ہیں جو اس دانش ور کو سنا کرتے تھے، اور ایک دوسرے سے پوچھا کرتے تھے کہ، "بابا اتنا آسان کیوں بولتا ہے، وہ عالم ہے تو ہمیں مشکل میں کیوں نہیں گرفتار کرتا؟!”

اور وہ کندھے بھی موجود ہیں جن کا سہارا لیے بابا عبدللہ جمال دینی اس پروگرام میں تشریف لاتے تھے۔ اگر لاہور میں بیٹھ کر صوفی دانش ور اشفاق احمد فلاسفیانہ ادبی پروگرام کریں تو دنیا اسے ٹی وی پہ لے آئے، وہی پروگرام اگر وادیء حیراں میں بیٹھ کر ایک بابا کرے جو صوفی بھی تھا اور عاشق بھی تو اسے کوئی ٹی وی والے اپنے پاس نہ بُلائیں، حیرت کی بات ہے!!۔

یہ اہم سوال بن سکتا ہے کہ اصل زاویہ بابا جمال دینی کیا کرتے تھے، یا نام نہاد صوفی دانش ور؟ وہ "بابا صاحبا” تھے، عالم تھے، صوفی دانش ور تھے…. تو کیا بابا جمال دینی کچھ بھی نہ تھے؟ اگر کچھ تھے تو یہ ظلم کیوں کہ ان کے علم اور فہم سے پاکستانی عوام کو محروم رکھا گیا۔

"زاویہ” جیسا پروگرام وہ بھی کیا کرتے تھے،جس کی کوئی اقساط نہیں تھیں۔ جن کی کوئی ریکارڈنگ نہیں تھے۔ بس سامعین ہوتے اور جو بات ہوتی وہ براہِ راست کی جاتی۔ محبت کی زبان محبت کی بات کی جاتی،اور جو لوگ آتے ان کے پاس تو جب جانے لگتے تو حیرت میں ہوتے کہ بابا کیا کہہ گئے ہیں۔
اور بابا ہوتے جو کہتے جاتے، کہتے جاتے، بس کہتے جاتے!!

19 ستمبر کو تو ایک بابا کو وادیء حیراں کی نذر کر دیا گیا۔ وہ بابا جو ہڈیوں کا ڈھانچہ تھے۔ پر وہ بابا جو علم بھی تھے تو عمل بھی، وہ تو وہیں موجود ہیں جہاں وہ سنڈے پارٹی ہوتی ہے، جہاں علم کی باتیں ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا سبق سکھایا جاتا ہے۔

ایک شام وہاں محفل سجی ہوئی ہے؛ دو لوگ خدا کے وجود پر بحث کر رہے ہیں۔ پھر الجھنے لگتے ہیں۔ ایسے میں اچانک بابا عبداللہ جمال دینی کسی کے کندھوں کا سہارا لیے تشریف فرما ہوتے ہیں۔اس محفل میں خاموشی چھا جاتی ہے، سب بابا کو دیکھنے میں محو ہو جاتے ہیں۔

بابا پوچھتے ہیں، "کس بات پر شور ہو رہا تھا؟”، تو وہ صاحب اُٹھتے ہیں جن کا چہرہ باریش ہوتا ہے، اور جو ان سے الجھ رہا تھا، وہ کلین شیو ہوتا ہے۔وہ صاحب کہتے ہیں بابا میں ان سے کہہ رہا ہوں خدا ہے اور یہ کہہ رہا ہے خدا نہیں ہے، تو وہ صاحب بھی اُٹھتے ہیں اور کہتے ہیں بابا خدا اگر ہوتا تو یہ ناانصافیاں قتل و غارت پھر کیوں؟

بابا ان دونوں کی باتیں سن کر مسکراتے ہیں اور گویا ہوتے ہیں:
"میرے بچوں! برداشت کرو ایک دوسرے کو برداشت کرو اور سنو!
میں نہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا نہیں ہے اور ہے بھی!”
تو وہ دونوں صاحب حیرت میں آ جاتے ہیں۔
تب بابا مزید فرماتے ہیں: ایک بار نبی خیرﷺ ایک جگہ تشریف فرما تھا کہ ایک یہودی وفد آیا اور آ کر نبی خیر ﷺ سے کہنے لگا کہ آپﷺ بھی فرماتے ہیں کہ اللہ نہیں ہے؟!!”
نبی ﷺ نے فرمایا، "جی ہاں، میں تو بس یہ کہتا ہوں کہ اللہ بس اپنا اپنا تجربہ ہے!”

سو، اللہ تو محض ایک تجربہ ہے، اور تجربہ بھی وہ جو انسان کے دل پر گزرے۔ ہمارے آس پاس لوگ بیمار ہو جاتے ہیں، ہمیں کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی۔ ہمارے آس پاس لوگ مر رہے ہیں، ہمیں کوئی فکر نہیں۔ پر،جب ہم بیمار ہوتے ہیں اور یہ تجربہ ہم پر گرزتا ہے، اور جب ہمارا کوئی عزیز مر جاتا ہے تو وہ تجربہ ہم پر اور ہمارے دل پر وارد ہوتا ہے۔۔۔ وہی اللہ ہے!!۔

میاں اور تم سنو۔۔۔ روز لوگوں کے دل عشق میں گرفتار ہو رہے ہیں، ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ پر جب ہمارے دل عشق میں ڈوبنے لگتے ہیں تو اللہ یاد آتا ہے۔۔۔ یہی اللہ ہے۔۔۔ تو میاں اللہ اپنا اپنا تجربہ ہے!
اس لیے تجربے سے گزرو
آپس میں نہیں لڑو
جاؤ کسی سے دل لگاؤ، اللہ کو پا جاؤ گے!”

تو ایسے تھے ہمارے بابا عبداللہ جان جمال دینی، جس کا جسم تو وادیء حیراں میں 19 ستمبر کو کئی کندھوں پر سوار ہو کر جا چکا، پر وہ بابا جو بس علم تھے، اور عمل تھے، دانشن تھے، حکمت تھے، وہ یہیں ہیں ہمارے آس پاس موجود ہیں۔ ہم جب چاہتے ہیں ان سے ان کی لکھی کتابوں کے توسط سے بات کرتے ہیں اور خوش ہو جاتے ہیں!

Facebook Comments
(Visited 42 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com