مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / بخت تاجہ اپنے پیا سے مل گئی!

بخت تاجہ اپنے پیا سے مل گئی!

محمد خان داؤد

آج وہ دونوں کراچی کے بہت ہی پسماندہ علاقے شیر پاؤ کے ایک قبرستان مولا مدد میں ایک دو ہاتھ کے فرق سے سو رہے ہیں۔ ایک قبر میں بخت تاجہ ہے تو دوسری قبر میں غنی رحمان. بخت تاجہ اپنی قبر سے ہاتھ بڑھاتی ہے تو غنی رحمان ان ہاتھوں کو مہندی کے رنگوں سے لال کردیتا ہے. بخت تاجہ کا اگر گلے میں پڑا لاکٹ اُلٹ ہوجاتا ہے تو غنی رحمان اس لاکٹ کو سیدھا کر دیتا ہے، وہی کام جو شاعر گلزار نے خدا سے مانگا تھا کہ
’’اے خدا بس مجھے ایک کام دے دے
جب بھی چلتے میں میرے محبوب کا لاکٹ اُلٹ ہوجائے
میں ہاتھ بڑھا کر اُسے سیدھا کر دوں!‘‘
جب بھی بخت تاج کے کرتے کا بٹن تھوڑا کھل سا جاتا ہے تو اپنی قبر سے ہاتھ بڑھا کر غنی رحمان وہ بٹن بند کر دیتا ہے اور جب بخت تاجہ پوچھتی ہے کیوں؟! تو غنی رحمان کہتا ہے
’’مجھے کرتے کا بٹن بند کرنے دو
محبت کی باتوں کا مطلب نہ پوچھو!‘‘

غنی رحمان کو جب بھی پیاس لگتی ہے تو وہ اپنی قبر سے اُٹھ کر بخت تاجہ کی قبر سے اُس کے رس بھرے ہونٹ پی لیتا ہے اور اُسے کون روکتا ہے؟ اب وہ ہمیشہ ہمیشہ ایک ساتھ رہیں گے. انہیں کوئی بھی جدا نہیں کر پائے گا۔ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھتے ہیں۔ پھر اپنی اپنی قبر میں جا سوتے ہیں. وہ قبریں جو محبت کے جرم میں انہیں اپنے لوگوں نے دی ہیں، جن لوگوں میں ان کے بابا بھی شامل تھے، چاچا بھی شامل تھے اور بہت سے بھائی بھی. بخت تاجہ اور غنی رحمان آپس میں محبت کر بیٹھے تھے اور اب شیر پاؤ کے مولا مدد قبرستان میں دنیا کی نظروں سے اوجھل سو رہے ہیں. ان کا قصور بس اتنا تھا کہ ان دونوں نے اپنی پسند سے شادی کر لی تھی اور اب غیرت کی نظر ہو کر قتل کر دیے گئے. پر میں نے تو ان کی قبریں بھی دیکھی ہیں، وہ مرجانے کے بعد بھی آپس میں اتنے ہی قریب ہیں جتنے وہ زندگی میں تھے. ان دونوں کی قبریں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور بخت تاجہ اپنی قبر سے مہندی رنگے ہاتھ اپنے پیا غنی رحمان کو دکھاتی ہے اور غنی رحمان ان مہندی رنگے ہاتھوں کو چوم لیتا ہے۔ پر شہر کو خبر ہی نہیں کہ اس شہر میں کیا کچھ ہو چکا ہے۔ یہ شہر تو بس روہنگیا مسلمانوں کے غم میں ہلکان ہو رہا ہے اسے کچھ خبر نہیں کہ اس جدید دور اور اس تیز شہر میں بھی کوئی محبت کے جرم میں قتل ہو سکتا ہے جب کہ اسی شہر میں ایک کال پر کال گرلز بھی اپنے چہرے پر بہت سا میک اپ کر کے اپنے ریٹ بڑھا کر آن دھمکتی ہیں تو پھر محبت کا قتل کیوں؟

اسی شہر میں ریپ پوتے ہیں۔ اسی شہر میں گینگ ریپ پوتے ہیں. اسی شہر میں ٹرانس جینڈر کو پہلے ریپ کیا جاتا ہے پھر قتل کردیا جاتا ہے۔ اسی شہر میں جنسی کاروبار ہوتا ہے۔ اسی شہر میں جسم بار بی کیو کی طرح بکتے ہیں پھر محبت کا قتل کیوں؟ اسی شہر میں وائٹ میریجز کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ لڑکے لڑکیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اسی شہر میں بوائے فرینڈز کا کلچر عام ہو چکا ہے۔ اسی شہر میں اب جنس کاروبار بن چکا ہے تو پھر محبت کا قتل کیوں؟! اسی شہر میں لڑکیاں اب بیا کر پیا کے گھر نہیں جاتیں۔ پر لڑکے ان لڑکیوں کے پلوں سے بندھ کر ان کے گھر آجاتے ہیں اور پیچھے ماں کے آنسو ان کے دوپٹوں میں جذب ہو جاتے ہیں اور وہ کوئی شکایت بھی نہیں کرتیں۔ پھر محبت کا قتل کیوں؟ اسی شہر میں ایک آدمی ایک بیگم کو چھوڑ کر دوسری سے شادی کر لیتا ہے دوسری کو چھوڑ کر تیسری سے کر لیتا ہے، تیسری کو چھوڑ کر چوتھی سے کر لیتا ہے۔ اور ان سے پیدا بچے اپنے نام کے ساتھ اس مرد کا ولدیت لگا کر ان گلیوں میں کھیلتے کھیلتے بڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر محبت کا قتل کیوں!؟

اسی شہر کے اخبار میں ہر خبر لگ جاتی ہے ایان علی کہاں ہے، اخبار سے معلوم ہو جاتا ہے کہ باکسر عامر خان اپنی بیگم کو چھوڑ رہا ہے یا نہیں. ان بے ہودہ اخبارات سے معلوم ہو جاتا ہے، عمران خان کی سابقہ اہلیہ کہاں ہے؟ سب کچھ معلوم ہو جاتا ہے۔ پر جب محبت قتل ہوئی تو کوئی اخبار یہ نہیں جان پایا کہ محبت کہاں قتل ہوئی؟ کس نے قتل کی؟ کس جرم میں قتل ہوئی؟ ان اخبارات میں اس محبت کے قتل کی کوئی خبر شائع نہیں ہو پائی۔
پھر بھی وہ اخبار بہت گیلے گیلے تھے
بہت اُداس اُداس تھے!

یہ بے ہودہ شہر، برما مردہ باد روہنگیا زندہ باد اور مولویوں کے اسلام کے حق میں اور برما مخالف نعروں سے گونجتا رہا۔ اس شہر کو کچھ معلوم ہی نہیں ہوپایا کہ شیر پاؤ قبرستان میں ۱۶ اگست کو کون دفن ہو رہا تھا. انہیں کون دفن کر رہا تھا، ان کا جرم کیا تھا اور وہ کون تھے اور وہ کیوں قتل کر دیے گئے؟ میں اس بے ہودہ شہر اور اُس کے گندے کلچر کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ
’’یہ داغ تمہارے چہرے پر لگا ہے کسی تلک کی طرح نہیں پر کالک کی طرح!
جس میں محبت قتل ہوئی ہے، محبت کے جرم میں!
جسے جرگہ نے سزا وار کیا
جنہیں کوئی پھانسی نہ دی گئی
کوئی گولیوں کا برسٹ نہیں مارا گیا
انہیں کوئی زہر نہیں دیا گیا
انہیں سنگسار نہیں کیا گیا
ان کے سر نہیں کچلے گئے
ان تو اس بجلی سے مارا گیا ہے
جو ملک میں ناپید ہے
جو اچھے نصیب کی طرح آتی نہیں
اور برے حال کی طرح جاتی نہیں
اے بے ہودہ شہر
تم نہیں جان پاؤ گے کہ محبت کا درد کیا ہوتا ہے
وہ دونوں محبت کے درد میں مارے گئے ہیں!
تم تو یہی دیکھ کے خوش ہو کہ اب تمہارے
شہر کی لڑکیاں کال اٹینڈ کر تی ہیں
اور ان کے بتائے ہوئے ایڈریس پر
ٹیکسی پکڑ کر پہنچ جاتی ہیں
اور بہت لُٹی لُٹی آتی ہیں
کسی موسم کی طرح
تو نہ تم جان پاؤ گے اور نہ تمہارے باسی
کہ محبت کا درد کیا ہوتا ہے
جاؤ تم جاؤ اور روہنگیا کو گلے لگاؤ
اور فلک شگاف نعرے لگاؤ
برما مردہ باد۔۔۔۔۔۔روہنگیا زندہ باد
تم محبت کا درد نہیں جانے پاؤ گے
اے وائیٹ میرجز کے حامی شہر
ٹرانس جینڈروں کے قتل شہر!
تمہارے چہرے پر ایک داغ لگ چکا ہے
کوئی تلک نہیں پر کالک کا داغ!‘‘

وہ بخت تاجہ اور غنی رحمان کراچی جیسے شہر میں محبت کے جرم میں جرگے کے ہاتھوں موت قبول کر کے مولا مدد قبرستان میں سو رہے ہیں۔ یہ مولا مدد کیسے قبرستان ہے کہ انہیں مولا بھی نہیں بچا پایا؟!
ان دونوں کو مولا بھی جب ملا جب ان کی محبت تو باقی رہی پر زندگی چلی گئی یہ کیسا مولا ہے؟ مولا تو کیسا مولا ہے؟!!!!
اب تو وہ واپس نہیں آئیں گے اور ان کی قبروں پر کوئی سرخ پھول بھی نہیں کھلیں گے، پر یہ بات کہ ان کی قبریں آپس میں ایسے ملی ہوئی ہیں کہ اب بھی ۔۔۔
بند کرتے کے بٹن کھولتا ہے غنی رحمان!
رس بھرے ہونٹ پی لیتا ہے!
گلے میں پڑا لاکٹ سیدھا کر لیتا ہے
اور بخت تاجہ اپنے مہندی رنگے ہاتھ دکھا رہی ہو تی ہے غنی رحمان کو
تو ہم کیوں نہ کہیں کہ
بخت تاجہ اپنے پیا سے جا ملی!
اور یہ شہر، شہرِ شور بن چکا ہے آوارہ آوارہ!!!!

Facebook Comments
(Visited 20 times, 1 visits today)

متعلق Story

Story