مرکزی صفحہ / اداریہ / متحدہ پشتون صوبہ کی بحث

متحدہ پشتون صوبہ کی بحث

ایڈیٹر

پشتون رہنماؤں نے ایک عرصے بعد بلوچستان کے پشتون اضلاع کے علاقوں‌ پر مشتمل ایک علیحدہ صوبے کا معاملہ چھیڑا ہے، جس سے اس معاملے پر ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے، سینئر بلوچ صحافی اور دانش ور لالہ صدیق بلوچ نے اپنے اخبار روزنامہ آزادی کا اداریہ میں بھی اس مطالبے کی تائید کی ہے.

بلوچستان میں آباد پشتون قبائل کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ نوآبادیاتی دور میں انہیں ان کے تاریخی وطن سے کاٹ کر ایک الگ سرزمین کا حصہ بنا دیا گیا، اس لیے انہیں‌ ان کے تاریخی وطن پر مشتمل الگ صوبہ دیا جائے. اپنے تاریخی تناظر میں یہ ایک جائز سیاسی مطالبہ ہے، جس کی حمایت بلوچ سیاسی قیادت بھی کرتی رہی ہے.

برصغیر کی تقسیم انگریز سامراج نے کچھ اس انداز میں کی کہ اس خطے کی ہمسایہ برادر اقوام ہمیشہ باہم دست و گریبان رہیں. افغانستان سمیت، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کی غیرفطری تقسیم عمل میں‌لائی گئی، جسے ایک بڑی اکثریت نے آج تک تسلیم نہیں کیا. یہ سامراج کی بھڑکائی ہوئی وہ آگ ہے جس کی تپش آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے.

پاکستان کی تشکیل کے فورا بعد ون یونٹ کی صورت ان اقوام اور ان تاریخی اوطان کا بنیادی تشخص ہی ختم ہو کر رہ گیا. خطے کے سیاسی رہنماؤں کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں ان کی صوبائی حیثیت تو بحال ہوئی لیکن ایک بار پھر غیرفطری تقسیم ان اقوام پر مسلط کر دی گئی، جس کا خمیازہ یہاں کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں.

ون یونٹ کے خاتمے کے بعد پشتون عوام نے اپنی سرزمین کی بلوچ صوبے میں شمولیت کو رد کر دیا تھا، بلوچ قیادت نے بھی ان کے اس مؤقف پر صاد کیا تھا. لیکن مقتدرہ نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی سامراجی پالیسی کے تحت ان علاقوں‌کو کچھ یوں تقسیم کر دیا کہ یہاں کے عوام باہم دست و گریبان ہو کر رہ جائیں.

خوش قسمتی سے یہاں کی سیاسی قیادت کی معاملہ فہمی اور عوام کے صدیوں کے برادرانہ روابط کے باعث اس دوران یہاں اس معاملے پر کوئی بڑا تنازع دیکھنے میں نہیں آیا. البتہ نوے کی دہائی کے اواخر میں پشتون قوم پرستوں نے اپنی سرزمین کو بلوچ صوبے سے الگ کرنے کا مؤقف ایک بار پھر اپنایا جو بالخصوص گزشتہ ایک دہائی سے ان کے انتخابی نعرے کی صورت اختیار کر گیا ہے.

اب ایک بار پھر ان کی جانب سے اس نعرے پر عمل درآمد کی بازگشت خوش آئند ہے. اس میں اچھا پہلو یہ ہے پشتونوں کی الگ قومی شناخت کی دعوے دار جماعت اس وقت نہ صرف صوبائی اسمبلی میں موجود ہے بلکہ ایک واضح اکثریت رکھتی ہے. صوبے کا ایک بڑا انتظامی عہدہ (گورنر) بھی ان کا ہے. تاریخ میں پہلی بار پشتون عوام نے ان پہ اعتماد کر کے انہیں‌ واضح برتری کے ساتھ اسمبلی پہنچایا ہے. اس لیے ان پر قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اب اس ضمن میں‌ عملی پیش رفت کریں اور اسمبلی میں ایک قرارداد لے آئیں. جس پہ کھل کر بحث ہو، جسے نتیجہ خیز بنانے کی ہرممکن کوشش کی جائے.

بلوچ قیادت پہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بردار اقوام کے جائز مطالبے کو عملی جامعہ پہنانے میں ان کا ساتھ دے اور اس اہم مسئلے کو مقتدرہ کے ہاتھوں پامال ہونے سے پہلے کسی منطقی انجام تک پہنچائے. یہ ایک تاریخی فریضہ ہو گا جو دونوں اطراف کی قیادت کے لیے ایک کڑا سیاسی امتحان بھی ہے.

اس ضمن میں بعض حلقوں کی جانب جغرافیائی تقسیم پہ تنازع کا سوال بھی اٹھایا جاتا ہے. عرض یہ ہے کہ اس بابت اکثر بلوچ، پشتون سیاسی قیادت واضح طور پر کہتی رہی ہے کہ دونوں اقوام اپنے اپنے تاریخی علاقوں میں آباد ہیں، اس لیے اس بابت کسی تنازع کا امکان کم ہی ہے. بالفرض اگر کسی علاقے کی ملکیت پر تنازع ہو بھی تو پارلیمنٹ میں بحث کے ذریعے اسے پُرامن طور پر دلائل سے نمٹایا جا سکتا ہے. لیکن اگر اس بابت مزید غفلت کا مظاہرہ کیا گیا تو متقدر قوتیں اور نیز اپنے مفادات کے لیے عوام کو تقسیم رکھنے والی قوتیں‌ اسے کسی خون خرابے کی طرف بھی لے جا سکتی ہیں جو کسی صورت عوام کے حق میں نہیں.

اس لیے بہتر یہ ہے کہ دونوں طرف کی قیادت سیاسی فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیش قدمی کرے، بالخصوص پشتون قوم پرست قیادت جس کا یہ نہ صرف انتخابی نعرہ رہا ہے بلکہ پارٹی آئین کا بھی حصہ ہے، آگے بڑھ کر اپنا فریضہ ادا کرے. آج اگر وہ اس بابت کوئی عملی پیش رفت نہیں‌ کرتے تو آئندہ ان کے اس مؤقف کو بلوچ پشتون عوام محض سیاسی نعرہ بازی سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے.

Facebook Comments
(Visited 276 times, 1 visits today)

متعلق ایڈیٹر