ایک عام آدمی کی خاص باتیں

عابدہ رحمان

کتاب : عبداللہ جان جمالدینی
مصنف: ڈاکٹر شاہ محمد مری
صفحا ت: 252
قیمت : 300 روپے

اپنی والدہ کے عبدَ کو جان، ڈاکٹر شاہ محمد مری اور دوسرے سنگتوں کا ماما لیکن میرا بابا عبداللہ جان سامراج دشمن کمانڈرگل بی بی کے نوشکی میں ، خان جہاں کے گھر 8 مئی1922 کو پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم قاعدہ بغدادی، قران مجید اور پنج کتاب کی تعلیم والد صاحب نے دلائی۔ اور پھر کیا سعدی ، کیا مولانا روم، خواجہ فرید اور رحمان بابا جیسے سارے ہی میناروں کو چھو لیا۔ اور اس تعلیم کی پہلی سیڑھی سوتگان ثابت ہوئی۔

جس طرح کسی بندے کی پہچان اس کی صحبت سے ہوتی ہے ،اسی طرح اس انسان کو اپنے اساتذہ سے بھی اسے پہچانا جاتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اساتذہ کو بھی اچھے شاگرد کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے بابا جمالدینی کی شخصیت ، کام اور جدوجہد پر بات کرنے سے پہلے اس کے اساتذہ کے بارے میں بات کر کے گویا کہ قاری کو تنبیہ کی کہ دیکھ لیجیے بابا عبداللہ جان ایسے بلند پایہ لوگوں کا شاگرد رہا۔ وہ کاہان کا میر مٹھا خان مری ہو یا کوئٹہ کا ہاشم خان غلزئی یا غوث بخش بزنجو، پشاور کا صاحبزادہ ادریس ہو یا پھر کاکاجی صنوبر حسین، بس بابا عبداللہ جان تھا جو ایک روشن مشعل کی مانند ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جاتا رہا اور اپنے حصے کی علم کی روشنی وصول کر کے آگے بڑھتا رہا۔

تعلیم مکمل ہوئی۔ واپسی ہوئی۔ بابا عبداللہ جان اور اس کے بہت قریبی دوست کمال خان شیرانی کو تحصیل داری کی نوکری ملی تو بابا عبداللہ جان کو پٹ فیڈر کے نہری علاقے نصیر آباد ڈوژن بھیجا گیا، جہاں اس نے بہت قریب سے انسانیت کی تذلیل دیکھی۔ شاہ محمد مری لکھتا ہے کہ ’پٹ فیڈر کا یہ نہری علاقہ عبداللہ جان کے لیے ایک بالکل نئی دنیا تھی۔ وہ خود تو بے آب و گیاہ نوشکی کے قبائلی سماج کا فرزند تھا۔ ایسی سخت جان قبائلیت جسے جدید سائنس نے اندر سے تو کھوکھلا کر کے رکھ دیا تھا مگر اس کے نخرے ابھی سلامت تھے۔ وہ قبائلیت تو آج بھی اکڑی گردن کے ساتھ موجود ہے۔ اور نامردی کی دوا کی ملاوٹ کے شبہ میںپولیو ویکسین مسترد کر کے لنگڑے لولے بچے جنتی رہتی ہے۔ مگر وہاں نہری جاگیرداریت میں تو ظلمت و اندھیر، محکومی اور توہم پرستی دس گنا گہری پائی‘۔

لہٰذا وہاں کے بدترین فیوڈل ازم اور ظلم و جبر کو وہ نہ سہار سکا اور اپنے دل میں فیوڈل ازم کی نفرت لیے وہ لوٹا اور آتے ساتھ ہی تحصیل داری کی نوکری پر لعنت بھیج دی۔ اور جناب اس کا یہی فیصلہ ہمارے حق میں بہتر ثابت ہوا۔ کیوں کہ اس نے اپنے یارِ غار کمال خان شیرانی اور ڈاکٹر خدائداد کے ساتھ علم و دانش اور روشنی کی ایک کٹیا ’لٹ خانہ‘ سجائی۔ جہاں سے محبتوں، انسان دوستی، رواداری، علم و دانش کا فیض جھولی بھر بھر سپلائی ہوتا رہا، وصول ہوتا رہا۔ جس جس نے خواہش کی اس نے اپنے نصیب کا فیض یہاں سے پایا۔

اس دانش کدے کو چلانے کا ایندھن ’ فی الحال سٹیشنری مارٹ‘ ثابت ہوئی۔ جہاں سے انھوں نے غمِ روزگار کا مداوا بھی کیا اور مارکس، اینگلز، اور لینن کی کتابیں رکھ کرنا صرف اپنی زخمی روحوں پر مرہم رکھا بلکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی فلاح کی یہ راہ سُجھائی۔ کراچی اور لاہور کے انقلابی دوست انھیں سوشلسٹ لٹریچر اور نایاب کُتب بھیجتے۔ مٹی کی اسی کٹیا ہی سے انھوں نے بلوچوں اور پشتونوں کو منظم کر کے’ پشتو ادب ٹولی‘ اور ’ بلوچی زبان و ادب ئے دیوان‘ کے نام سے انجمنیں بنائیں۔ گل خان نصیر کی گل بانگ اسی دور کی اشاعت ہے۔ اسی دور میں ’ مجلہ پشتو‘ اور ’ نوائے وطن ‘ کی اشاعت کی ابتدا ہوئی۔

سبزی کی ریڑھی بھی بابا عبداللہ جان کے غمِ روزگار کی ساتھی بنی اور پھر بابا سوویت کے ’طلوع‘ کے جوائنٹ ایڈیٹر بنے۔ جب کہ 1971 میں بلوچستان یونیورسٹی میں استاد مقرر ہوئے۔ پھر تو علم کے بے شمار پروانے اس شمع کے گرد طواف کرنے لگے، جس سے وہ پروانے منظم بھی ہوئے اور علم کی روشنی بھی بھرپور طریقے سے حاصل کی۔ پشتو ، براہوی اور بلوچی ڈپارٹمنٹ کی بنیادوں میںب ابا کی محنت کا پسینہ شامل ہے۔ بابا عبداللہ جان ان نوجوانوں کے سامنے افغان انقلاب کی پرتیں کھول کھول کر بیان کرتے تھے۔ انھوں نے سندھ اور بلوچستان کے نہری علاقوں میں کسانوں کو منظم کیا، تنظیمیں بنائیں اور باقاعدہ مزدور تحریک میں شامل ہوئے۔ عورتوں کے حقوق کی جدوجہدکرتے رہے۔ ہمیشہ انھوں نے عورتوں کی زندگی کے ہر شعبے میں شمولیت کی تلقین کی۔انھیں منظم کرنے کی تلقین کی۔

بابا عبداللہ جان نے کئی ممالک جا کر لیکچر دیے۔ جس طرح شمعِ فروزاں ان کی پہلی کتاب ’لٹ خانہ‘ کا تسلسل ہے، اسی طرح ’بلوچستان سنڈے پارٹ‘ لٹ خانہ کی محفلوں کا تسلسل ہے۔ جہاں علم ودانش کی باتیں بڑے ہلکے پھلکے ماحول میں ہوتی تھیں، دوست اور نوجوان ساتھی جمع ہوا کرتے۔ بالکل یہی کچھ بلوچستان سنڈے پارٹی جو ان کے بیماری کے ایام سے شروع ہوئی اور آج ان کی وفات کے بعد تک بھی جاری و ساری ہے۔

کتاب میں ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب نے بابا عبداللہ جان کے خاندان کے بارے میں بھی مختصراً لکھا اور ان کی تصانیف کے بارے میں بھی۔ بات ان کے قلم کی کی جائے تو انہوں نے ’سرداری قبائلی نظام کا سیاسی منظر‘ کا نظارہ کر کے’مُرگِ مینا‘ پر قیام کیا اور پھر ’ہمارا بلوچستان‘ کا کونا کونا چھان کر’مختلف شخصیات پر مضامین‘ لکھتے رہے اور ’ فوک شاعری‘ کی مالا پروتے رہے۔ ’کتابوں پر تبصرے‘ اور ’متفرق مضامین‘ پر پڑاﺅ ڈال کر ’تراجم‘ کے پُل سے ہوتے ہوئے وہ کھلم کھلا ’ناپسندیدہ باتیں‘ کرتے رہے اور پھر علم و روشنی کی کٹیا ’لٹ خانہ‘ کا حال لکھ کروہ ہمیشہ کے لیے ’شمع فروزاں‘ بن گئے۔

سرداری قبائلی نظام کے سیاسی پس منظر میں بلوچستان کے سرداری نظام اور یہاں کے طبقاتی نظام کے وجودمیں آنے کی داستان ہے۔ یہ اس موضوع پر ان کا ایک بہت اہم تحقیقی کام ہے۔ مُرگِ مینا بھی ان کی ایک تحقیقی کتاب ہے جو شاعر شیر جان کی شاعری کا مجموعہ ہے۔ بلوچستان کی مشرقی اور مغربی شاعری اکٹھی کر کے انھوں نے ’فوک شاعری‘ کو ترتیب دیا۔ ہمارا بلوچستان پمفلٹ جو بلوچستان کے مستقبل کے بارے میں لکھا گیا ہے، اس میں جس ایک ترقی پسند اور جمہوری بلوچستان کے قیام کی بات کی گئی۔

انھوں نے میر مٹھا خان مری، میر غوث بخش بزنجو،غلام محمد شاہوانی، آزات جمالدینی، پروفیسر کرار حسین، ملا فاضل، بالاچ گورگیژ، فقیر شیر جان، قاضی نذرالاسلام اور چینی افسانہ نگار لوہسون پر مضامین لکھے۔ بابا عبداللہ جان نے لینن کی کتاب To The Rural Poor کا اردو ترجمہ ’ دیہات کے غریب‘ کے نام سے کیا۔ ’ ناپسندیدہ باتیں ‘ کے عنوان سے انھوں مختلف مضامین لکھے۔

بابا عبداللہ جان کی شخصیت کے بارے میں پڑھنے سے پتہ چلا کہ وہ ہم میں سے ہی ایک عام انسان تھے، عام انسان ہی طرح کا ان کا ردِعمل ہوتا تھا۔ ان خاص انسان کو خاص بننے کا خبط کبھی نہیں رہا۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا کہ ’ کیا آپ نے محبت کی؟‘بے چین ہوئے بغیر چیخ کر اس نے کہا، ’ہاں محبت بہت ضروری ہے، یہ آپ کو روشن فکری عطا کرتی ہے، جرات اور اطمینان دیتی ہے۔ محبت میرے ذائقے کی چیز ہے۔ یہ مجھے لٹریچر اور آرٹ کی طرف اکساتی رہتی ہے‘۔ لہٰذا میں یہ کہوں گی کہ ایسے عام انسان تو ہمارے لیے بہت خاص ہوتے ہیں۔

کتاب کے آخر میں ’سنگت بیلیوں نے کہا تھا‘ کے عنوان سے بابا عبداللہ جان کے ہم عصروں اور دوستوں کا خراجِ تحسین شامل ہے۔ 19 ستمبر 2016 کو رات سوا آٹھ بجے ہمہ وقت متحرک شخصیت اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اسی رات کی صبح کو بابا کی زندگی کی ساتھی زبیدہ جمالدینی بھی ان کے اس طویل سفر میں بھی ان کی ہمراہی، ان کی ہم سفر بن گئیں۔ دونوں محبوب بزرگوں کو ان کے آبائی گاؤں کلی بٹو نوشکی میں ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Facebook Comments
(Visited 36 times, 1 visits today)

متعلق عابدہ رحمان

عابدہ رحمان کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔ بنیادی طور پر فکشن نگار ہیں۔ ان کا پہلا ناول "صرف ایک پُل" 2016 میں شائع ہوا ہے۔ ماہنامہ "سنگت" میں افسانے اور مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مطالعہ اور موسیقی سے انہیں خاص لگاؤ ہے۔ Email:ento_abida@hotmail.com