مرکزی صفحہ / فلم ریویو / تین نیگرو عورتوں کی زندگی پر مبنی فلم

تین نیگرو عورتوں کی زندگی پر مبنی فلم

طارق مراد

یہ حال حوال پہ میری پہلی تحریر ہے۔ اس پہلے میں پاکستان کی سب سے بڑی اردو ویب سائٹ پہ لکھ چکا تھا۔ میرا شعبہ شارٹ فلم اور ڈاکیومینٹری بنانا اور تھیٹر پہ ساتھ ساتھ کبھی کبھی ہدایت دینا البتہ لکھنا مگر میرا کام نہیں ہے۔

آج میں جس فلم کے بارے میں لکھ رہا ہوں، اس فلم نے بہت ہی یوں کہیے بہت ہی زیادہ متاثر کیا۔ فلم کی کہانی ایسی تین نیگرو عورتیں جو 1961 میں امریکہ کے سب برے ادارے ناسا ورجینیا میں کام کرتی ہیں اور اسی دور میں امریکہ میں نسل پرستی کی جنگ عروج پہ ہوتی تھی۔ مگر کس طرح یہ تین بہادر اور ذہین عورتیں گوروں کے درمیان میں رہ کر اپنی صلاحیت کو منواتی ہیں اور مجبورآ گوروں کو ان کی صلاحیت کو ماننا پڑتا ہے۔

1961 میں ناسا، کام کرنے والوں کے لیے دو حصوں پر مشمتل ہوتا تھا۔ ایک حصہ سیاہ (نیگرو) اور دوسرا حصہ گوروں کا۔ گوروں کو گوارا نہ تھا نیگرو کے ایریا پہ جانا، کیوں کہ گورے نیگروز کو کم نسل سمجھتے تھے۔

فلم کی مرکزی کردار کیتھرین جانسن جو ریاضی میں جیومیٹری میں ماہر تھی اور اس دور میں حساب کے لیے لوگوں کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ کیوں کہ 1961 میں کمپیوٹر نہیں تھا، اس لیے زمین سے خلا تک درمیان میں کس رفتار اور کلومیٹر جانے کے لیے لوگوں کا سہارا لینا پڑتا تھا اور اس دور میں ریاضی میں جیومیٹری کے ماہر کو انسانی کمپیوٹر کہا جاتا تھا۔

یہ تو آپ لوگ بھی جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلے خلا میں راکٹ روس نے بھیجا تھا۔ اسی وجہ سے امریکی صدر جان ایف کینڈی کی طرف سے زیادہ دباؤ تھا کہ روس سے پہلے ہمارا راکٹ خلا میں بھیجا جائے۔ مگر اس میں امریکہ ناکام ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ناسا میں ورکروں پہ کام کرنے کا زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔

ناسا کے ڈائریکٹر ہیرسن کو اپنے ادارے کے لیے ایک انسانی کمپیوٹر کی ضرورت پڑتی ہے، جو خلا سے زمیں تک فاصلے کی سہی طور پر جانچ پڑتال کر سکے مگر گوروں میں اتنی قابلیت نہیں تھی۔ مجبورآ ہیرسن کیتھرین جانسن کو اپنی ٹیم میں شامل کرتے ہیں۔ کیتھرین اپنے تیز دماغ اور اپنے قابلیت کی وجہ سے ہیرسن کو حوصلہ دیتی رہتی ہے، مگر ہیرسن کی ٹیم کے دوسرے لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں کیوں کہ یہ ایک نیگرو عورت ہے، جس کی سے کیتھرین کو کافی کے جگ اور ان کا واش روم تک استعمال کرنے نہیں دیا جاتا۔ کیتھرین واش روم کے لیے ناسا میں جو نیگرو کا شعبہ ہوتا ہے، وہیں جا کر واش روم استعمال کرتی ہے جو ہیرسن کے آفس سے آدھا کلو میٹر دور ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ہیرسن کے کام میں خلل پڑتا ہے۔

جب ہیرسن کو معلوم پڑتا ہے کہ کیتھرین کے ساتھ یہاں کے لوگ تعصب کرتے ہیں تو وہ اعلان کرتا ہے کہ جو واش روم گورا استمعال کرے اسی واش روم کو اب نیگرو بھی کرے گا کیوں کہ ناسا میں ہنر کو مانا جاتا ہے نہ کہ رنگ اور نسل کو۔ رنگ نسل کی بنیاد پر کوئی اونچا ہے اور نہ نیچا۔ بالاخر کیتھرین کے ہنر کی وجہ سے سب گورے لوگ اس کی عزت کرنے لگتے ہیں۔

اس فلم کا دوسرا کردار ڈورتھی وارن ہے، جو کہ ناسا کے ویسٹ ڈپارٹمنٹ (اس ڈپارٹ میں صرف نیگرو کام کر سکتے ہیں، گوروں کو اس ڈپارٹمنٹ میں آنا بھی گوارا نہیں) بحثیت سپروائزر کام کرتی ہے۔ مگر اسے سپروائزر جیسی تنخواہ اور نہ عزت دی جاتی ہے۔ ایسٹ ڈپارٹمنٹ میں (جہاں صرف گورے لوگ کام کرتے ہیں ) پھر بھی اس کے باوجود اپنے شاطر تیز دماغ کے سبب کام کرتی رہتی ہے اور اپنے نیگروز کو ہر وقت سمجھاتی رہتی ہے۔

فلم کے دوران آئی بی ایم کمپیوٹر ( IBM) لانچ کیا جاتا ہے۔ جب ڈورتھی وارن کو پتہ چلتا ہے کہ اس مشین کے آنے سے ہمارے نیگروز کو ناسا سے فارغ کر دیا جائے گا تو ڈورتھی وارن اس کمپیوٹر کے معتلق اسٹڈی کرتی ہے اور چوری سے جا کر اس مشین کو چلا دیتی ہے۔ جب کہ گوروں میں اتنی بھی قابلیت نہیں کہ اس مشین کو چلا سکیں۔

اچانک ایک رات وہ لیب میں پکڑی جاتی ہے۔ گورے انجینئر حیران ہو جاتے ہیں جو کمپیوٹر ہم سے نہیں چلایا جا سکا، وہ تم نے کیسے چلا لیا؟ مجبورآ لیب کے انجینئر اسے اپنی ٹیم میں آنے کی درخواست کرتے ہیں، مگر ڈورتھی وارن مطالبہ کرتی ہے کہ اگر مجھے اپنی ٹیم میں لینا تو میرے باقی نیگرو دوستوں کو بھی لیا جائے۔ چوں کہ ڈورتھی وارن یہ تعلیم اپنے نیگروز کو پڑھا چکی ہے، اور وہ اسے چلا سکتے ہیں۔ اس لیے کمپیوٹر لیب کے ورکر سب نیگروں کو اپنی ٹیم میں شامل کرتے ہیں۔ اور ڈورتھی وارن کو دنیا کی پہلی نیگرو عورت کا اعزاز مل جاتا ہے جو آئی ایم بی کمپیوٹر چلانا جانتی ہے۔

تیسری عورت میری جیکسن جو تیزطرار، ذہین اور منہ پھٹ عورت ہے، ناسا میں انجینئر ہوتی ہے۔ اپنے تیز دماغ کی وجہ سے ناسا کے راکٹ ٹیکنکل ڈپارٹمنٹ میں درخواست دیتی ہے مگر اس کے پاس ورجینیا یونورسٹی کی ایڈوانس ڈگری نہیں ہے، جس کی وجہ وہ اس پوزیشن کے قابل نہیں۔ جب کہ اس یونیورسٹی میں کسی بھی نیگرو مرد یا عورت کو پڑھنے کی اجازت نہیں۔

مگر میری جیکسن ہار ماننے والوں میں سے نہیں۔ کورٹ میں اپنے اس یونیورسٹی داخلے کے لیے عرضی دیتی ہے اور کامیاب ہو جاتی ہے۔ اس طرح میری جیکسن پہلی نیگرو عورت جن جاتی ہے جو امریکہ میں ڈگری حاصل کرتی ہے اور ناسا کی پہلی نیگرو انجینئر ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

یوں یہ کہانی بتاتی ہے کہ تین بہادر نیگرو عورتیں کس طرح 1961 میں ناثا میں اپنا لوہا منواتی ہیں۔

فلم کے ڈائیلاگ، اسکرین پلے اور ہداہت کاری سب کے سب قابلِ تعریف اور لائقِ تحسین ہیں مگر افسوس کی بات کہ 2016 میں اس فلم کو آسکر ایوارڈ سے دور رکھا گیا۔البتہ ناسا میں باقاعدہ ایک ڈپارٹمنٹ کو کیتھرین جانسن کا نام دے دیا گیا اور سابق صدر بارک حسین اوبامہ کی جانب سے کیتھرین جانسن پریسڈنل ایوارڈ بھی دیا گیا۔

یوں تو یہ فلم ایک سچی کہانی اور سچے کرداروں پر مبنی ہے، مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آسکر ایوارڈ میں بھی ابھی تک نسل پرستی ہے کہ اس فلم کو ایوارڈ سے دور رکھا گیا؟۔

Facebook Comments
(Visited 70 times, 1 visits today)

متعلق طارق مراد

طارق مراد کا تعلق لیاری سے ہے۔ شارٹ فلمز اینڈ ڈاکیومنٹری میکنگ ان کا بنیادی شعبہ ہے۔ اسی میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔