درد مندوں کے دیس سے!

ندیم اعوان

صحافت کو ملک کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے۔ میڈیا معاشرے کا آئینہ کہلاتا ہے جو وہ معاشرے میں د یکھتا، محسوس کرتا اور سنتا ہے وہ اسے عوام تک پہنچاتا ہے۔ لیکن جس معاشرے میں گھروں کے باہر کیاریوں اور پھولوں کی جگہ مورچے بنانے کی مجبوری ہو اور روز مرہ زندگی میں بے اعتباری، بداعتمادی، ظلم اور سفاکی کی داستانیں صبح و شام سننے اور دیکھنے کو ملیں، اس طرح کے معاشروں میں شہید ارشاد مستوئی جیسے سچے اور بے باک، نڈر صحافیوں کے نصیب میں کوئی ایوارڈ یا میڈل نہیں صرف اور صرف گولی ہوتی ہے، جو اسے نصیب ہوئی۔

میری شہید ارشاد مستوئی سے آشنائی کئی سالوں سے تھی لیکن این ایف سی ایوارڈ جو گوادر میں دسمبر2010ء میں منعقد ہوا تھا، اس روز ایک دلخراش واقع پیش آیا۔ سگریٹ کھڑکی سے باہر پھینکتے ہوئے شہید ارشاد مستوئی کا ہاتھ 11 ہزار کے وی کی لائن سے چھو گیا اوراس کا بایاں ہاتھ ضائع ہو گیا۔ اس کے باوجود اس نے اپنے مشن کو آگے بڑھای. وہ صحافت کو کام یا روزگار نہیں سمجھتا تھا بلکہ اس نے ہمیشہ صحافت کو مقدس صحیفے کی تحریر سمجھا۔ اس واقعہ کے بعد میری اس سے دوستی عقیدت میں تبدیل ہوگئی۔

وہ ہمیشہ صحافت کو وقت گزاری یا روزگار کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ہمیشہ یہی کہتا کہ یہ میرا مشن ہے اور کم از کم میں اپنے مشن کو جھوٹ، فریب، دھوکے اور لوگوں کی خواہشات کو اپنے مقصد اور مشن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دوں گا۔ نہایت دلیری اور ہمت سے وہ اپنی جدوجہد میں لگا رہا۔ کبھی موت کی دیوی اس کی دہلیز پر بجلی کے کرنٹ کی صورت میں حملہ آور ہوئی تو کہیں بم دھماکے کی کوریج کرتے ہوئے سامنا ہوتا رہا تو کبھی اس کے مشن میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش میں اس کے آفس میں ہینڈ گرینڈ متعارف کرایا جاتا رہا، تو کہیں اسے گولیوں کے ساتھ پریس ریلیز جاری کرنے کی روایت پڑی۔

کبھی کسی آزادی پسند کا دھمکی آمیز فون ریسیو ہوتا ہے، تو کبھی ملک کے اہم ذمہ داروں کی جانب سے جناح روڈ کے اے ٹی ایم سے اٹھا کر کئی گھنٹوں کے لیے مغوی بنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان کی بعض سیاسی جماعتوں کی ناراضی اپنی جگہ لیکن وہ اپنے مشن میں کسی رکاوٹ کو آڑے نہیں آنے دیتا تھا۔ طاقت ور قوتیں مختلف حربے استعمال کرتی رہیں لیکن اس نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور اپنے قدموں کو مزید مضبوطی سے جمائے ہوئے اپنی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بخوبی عبور کیا۔ دھونس دھمکیاں اس کے لیے ایندھن کا کام کرتیں۔

اس نے ذہن میں یہ سو چ رکھا تھا کہ بنا مقصد کے زندگی ادھوری ہے۔ آج میرا حال کل میری تاریخ ہوگی اور جو کوئی بھی تاریخ لکھے گا کم از کم مجھے اس سے سکون اور راحت ملے گی کہ میرا ماضی، میری تاریخ کسی جھوٹ، فریب، فرقہ پرستی، نسل پرستی یا علاقائیت پر مبنی نہیں تھی۔ اپنے پیشے سے اس نے کبھی کسی بھی دباؤ، دھمکی یا لالچ میں آ کر غداری نہیں کی۔ وہ یہ جانتا تھا کہ ایسا کرنے سے میرے مشن کو بہت بڑا نقصان پہنچے گا۔ وہ اپنے پیشے اور سچائی کے ساتھ کبھی بھی غداری نہیں کر سکتا تھا۔

اپنی سرزمین سے محبت اور لگن کی وجہ سے اسے اکثر دھماکوں اور خاص کر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر اس قدر افسوس ہوتا اور اس کا دل دُ کھتا تھا۔ جیسے کہ حادثے کے شکار افراد کے لواحقین سے اس کا کوئی رشتہ ہو۔ اس کے چہرے پر اکثر سنجیدگی ہوتی، جیسے وہ کسی پریشانی کا حل نکال رہا ہو اور وہ اپنے آپ کو اس دوغلے معاشرے سے دور رکھنے کا سوچ رہا ہو۔ آخر اس نے اس کا حل نکال لیا؛ اس نے بکنے، جھکنے اور ڈرنے سے بہتر حل نکالا، شہادت کو قبول کیا اور موت کی دیوی اسے گلے لگانے میں کامیاب ہوگئی۔

شہید ارشاد مستوئی کو جس نے بھی شہید کیا، اگر وہ شخص ایک کپ چائے اور ایک سگریٹ پینے کے دورانیے کے تک اس کے ساتھ بیٹھ جاتا تو مجھے یقین ہے وہ اسے کبھی نہ مارتا۔ اس بدبخت شخص کو کیا پتہ تھا کہ میں جس شخص کو مارنے لگا ہوں، اس کے دماغ اور ہاتھ میں لفظوں اور قلم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لفظ بھی وہ جو دلوں کو جنھجھوڑتے ہوں تو کبھی کوہساروں، وادیوں، جھیلوں، پہاڑوں، جھرنوں اور رنگ بھرے پھولوں کی صورت میں ہوں۔

جب کبھی اس کے ساتھ بیٹھک ہوئی تو وہ انسان کو کسی اور جزیرے پر لے جاتا اور یوں محسوس ہوتا کہ یہاں کی تو ہر چیز کتنی خوب صورت اور نایاب ہے۔ اس جزیرے میں کہیں خوب صورت بلبلے ہیں تو کہیں ہجر و وصال کے قصے نظر آتے ہیں۔ شہید نے اپنا اور اپنی سرزمین کا ہمیشہ ایک ہی تعارف کرایا؛ درمندوں کے دیس سے۔

اُس نے اپنی سرزمین سے قتل و غارت، دہشت گردی کے خاتمے کا خواب دیکھا اور اب یہ ہر صحافی کی ذمہ داری ہے کہ اس کے مشن کو اسی سچائی اور ایمانداری سے جاری رکھے، معاشرے کی فلاح و بہبود میں اپنا حصہ ایمان داری اور دیانت داری سے ڈالے اور کچھ نہ سہی کم از کم ہم اپنا تعارف تو یہ کہہ کر کروا سکتے ہیں کہ ہمار ا تعلق دردمندوں کے دیس سے ہے!!۔

Facebook Comments
(Visited 62 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔