مرکزی صفحہ / مباحث / خوابوں کی جدلیات

خوابوں کی جدلیات

چندن ساچ

آج ایک لیکچر سننے کا موقع ملا۔ لیکچر کا عنوان "انسان اور خواب” تھا۔ میں نے لیکچر کو بہت غور سے سنا۔ مگر لیکچر دینے والے کی منطق ابھی تک بھی میرے سمجھ میں نہیں آئی۔ ایک طرف وہ کہہ رہے تھے کہ یہ خواب ہی ہوتے ہیں جو ہماری زندگی کو جہنم اور دوزخ بناتے ہیں۔ پھر دوسری طرف یہ کہہ رہے تھے کہ خواب جب بھی دیکھو، اپنی اوقات کے مطابق دیکھو۔

"اپنی اوقات کے مطابق خواب دیکھو”، اس بات نے مجھے بڑی الجھن میں مبتلا کر دیا۔ کیوں کہ میرے کانوں میں دو عظیم استاد سرگوشی کر رہے تھے۔ ایک تھا رسول حمزہ توف اور دوسرا استاد صبا دشتیاری۔

رسول حمزہ توف کہہ رہے تھے کہ ” چھوٹے چھوٹے بچے بھی بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں”
اور صبا صاحب فرما رہے تھے کہ
من مہ باں بلے واب زندگ بنت۔
(میں رہوں یا نہ رہوں خوابوں کو زندہ رہنا چاہیے)۔

اصل میں صبا صاحب درست کہہ رہے ہیں۔ ہمارا ہونا ضروری نہیں۔ مگر خوابوں کو زندہ رہنا چاہیے۔ انھیں اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔ کیوں کہ جب خوابوں کا سفر تھم جائے تو یہ زندگی ایک سراب کے علاوہ اور کچھ نہیں رہ جائے گی۔

لیکچر دینے والے صاحب کہہ رہے تھے کہ ایک شخص کی تنخواہ 9 ہزار ہے، اس کی گزر بسر ہو رہی ہے۔ کیوں کہ اس نے اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ ہمیں بھی خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ اصل میں لیکچر دینے والا استاد جس نظریے کا تبلیغ کر رہا تھا، میں اس نظریے کو بینکنگ سسٹم ایجوکیشن کا دیا گیا تحفہ تصور کرتا ہوں۔ ارے بھئی ہم گزارے والی زندگی کیوں قبول کریں؟ کیوں مطمئن رہیں؟ سوچنا اور فکر کرنا کیوں چھوڑ دیں؟ اس بات پر مجھے ایک روایت یاد آئی جو میں نے "آساپ” میں پڑھی تھی۔

"کسی سے پوچھا گیا آپ ایک جنگل میں جا رہے ہوں اور سامنے سے ایک خونخوار درندہ آ جائے تو آپ کیا کریں گے؟ موصوف نے کہا جو کرنا ہے وہ درندہ ہی کرے گا، میں نے کیا کرنا ہے!۔ یہ روایت اس رویے کی عکاسی کرتی ہے کہ جب سامنے کوئی طاقت ور دشمن ہو تو بلاچوں و چرا اپنا مال و متاع پیش کر دینا چاہیے، "دانش مندی” کا تقاضا یہی ہے۔ لیکن کبھی کبھی حالات، روایات کے برعکس بھی ثابت ہوتے ہیں یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ ایک طاقت ور دشمن کو سامنے دیکھ کر بھی اپنا سب کچھ اسے پیش کرنے کی بجائے اپنی لامحدود طاقت کے ساتھ مزاحمت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ خانہ بدوش، جس کا کوئی مستقل ٹھانہ نہیں ہوتا، اس کے گدان میں کوئی چور گھس آئے تو وہ اپنی لاٹھی لہرا کر اپنے خزانے پر حقِ ملکیت کا اعلان کرتا ہے” (آساپ کتابی سلسلہ، عابد میر)

زندگی کا اصل فلسفہ چیلنجز کا سامنا کرنا ہے۔ اس لیے تو شاعر نے کہا تھا کہ "زندگی ہر قدم ایک نئی جنگ ہے” اگر اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہو تو حالات کی غلامی نہ کرو۔ بلکہ حالات کو غلام بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھو۔ دانش مندی کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ خون خوار درندہ کے سامنے کھڑے رہو کہ مجھے کیا کرنا ہے، جو کرنا ہے اسی درندے کو کرنا ہے۔

ایک اور اقتباس دیکھتے ہیں:

"انسانی وجود اور اس کی موجودگی کا اثبات ایک ایسا مسلسل عمل ہے جس کی ماہیئت معینہ فطرت نہیں رکھتی۔ اس لیے فکری سطع پر اس کی منطقی جوازیت تلاش کرتے ہوئے انسان اپنی ذات کی اس موجودگی کو ہستی سمجھتا ہے جو زمان و مکان کی ممکنہ حدوں میں اپنا اساسی کردار ادا کرتی رہتی ہے۔ یہ موجودگی اس وقت تک نیستی کے مترادف ہے جب تک انسان اپنی ذات کی تشکیلِ نو کے لیے دہشت کے اضطراب سے نہ گزرے۔ دہشت کا یہ تجربہ اس کی انا اور اس کے گرد پھیلی ہوئی کائنات کو ایک مخصوص معنوی شکل عطا کرتا ہے۔

انسانی لایعنیت اور کائناتی لایعنیت کے معانی تلاش کرنے کا یہ خلا بے مائیگی کا وہ تجربہ ہے جس کے بطن سے نئی معنویت جنم لیتی ہے۔ انسانی وجود موت کی دہشت سے فرار حاصل کرنے کی سوچی سمجھی خواہش کے مطابق لامکان کی دہشت کے سمندر میں بے آسرا تنکے کی طرح ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور پھر کوئی چارہ نہ پا کر کسی سزا یافتہ کی طرح شش جہت کی نظر آنے والی دہلیز پر نہیوڑا کر بیٹھ جاتا ہے۔ فکری فراریت اک جہانِ تازہ تک پرواز چاہتی ہے۔ چنانچہ کائنات کی جہالت کا یہ اسیر اپنے نجات دہندہ خواب دیکھتا ہے جو کسی دن آسمانوں سے اس زمین پر نازل ہوگا اور کائنات کے زندانیوں کی راندہ زندگیوں کو جنتِ گم گشتہ کی نعمت عطا کرے گا۔

پھر یہی نجات دہندگی کی واماندگی تاریخ، تہذیب، مذہب، نسل، زبان اور ارضی حدبندیوں کی دنیاوی پناہیں تراشتی ہے۔ اس طرح ایک تباہی سے ایک نیا استقلال اور ایک نئے استقلال سے ایک نئی تباہی کا راستہ استوار ہوتا ہے۔ اس انکار و اثبات کے سفر میں سب سے پہلے فرد اپنی جسمانی طاقت اور اس کے مزاحمتی نظام کو اپنی ڈھال بناتا ہے۔ جسمانی مزاحمت ایک معروضی طاقت ہے جس کے معنی ہیں اس دنیا میں انسان کے بطور فرد باقی چیزوں سے تعلقات کی نوعیت۔ اس معروضی طاقت کی کرشمہ سازیوں سے دنیاوی سطع پر کامل آزادی کا خواب تخلیق کرتا ہے اور پھر اس آزادی کی جہات کا تعین کرتا رہتا ہے۔ جس لمحے انفرادی طور پر جسمانی طاقت کا مزاحمتی نظام کزور پڑتا ہے۔ فرد اجتماع کی صورت اختیار کرتا ہے اور پھر بہت سارے غلام آزادی کے خواب کے جھنڈے تلے اکٹھے ہو کر اپنے مزاحمتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ یہ اجتماعی مزاحمتی نظام کاملیت absolute کی اصطلاح تراشتا ہے۔ جس کے اصل معنی ہیں شاید کسی دوسرے کے حصے کی وصولی کو اپنا مکمل حق سمجھنا، پھر کاملیت کا یہ مرض obsession تاریخ کا حصہ بنتا ہے۔ جو کوئی ایسی تاریخ کو اپنی سپردگی اور جانثاری پیش کرتا ہے، سمجھ لیجیے کہ وہ انصاف کی دیوانگی کے لیے اپنی عدمیت کو گلے لگانے پر آمادہ ہے۔

عدم انصاف اور اپنی مصیبتوں کے لیے روئیں روئیں سے چلاتا فردِ واحد کائنات کے اس مصیبت کدے کا نوالہ بنتے ہوئے "لا” کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس کی امید اور یقین بنا وضاحت کے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں اور اس کے حصے کی جنتِ ارضی و سماوی خیال خام ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس اجتماعی کاملیت کے ڈھونگ سے منحرف ہوتا ہے، سوسائٹی اسے باغی rebellion کا نام دیتی ہے۔ یہ باغی تاریخ، تہذیب اور جغرافیے پر یقین نہیں رکھتا اور کہتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے جیے گا جو اس کی طرح شرمندگی کے لیے زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس کا کہنا ہے کہ لحمہِ موجود ہی زندگی ہے اور زندگی کی گواہی دینے کے لیے اس لمحہِ موجود سے انکار ممکن نہیں۔ اس تصورِ عدمیت سے نئی روشنی پھوٹتی ہے جو اعلان کرتی ہے کہ یہ زمین انسانوں کی پہلی اور آخری محبت ہے جہاں ہمارے بھائی بند ایک آسمان تلے سانس لے رہے ہیں اور انصاف ایک زندہ قوت ہے۔”
(جدید اردو نظم میں وجودیت، از ڈاکٹر شاہین مفتی)

"اندھے لوگ” حوزے سارا ماگو کا ایک ناول ہے۔ یہ ناول ان لوگوں کی عجیب و غریب کہانی بیان کرتا ہے جو اچانک آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ ناول کے اختتام میں کچھ یوں تحریر ہے:

"ہم اندھے کیوں ہوئے تھے؟ میں نہیں جانتا شاید ایک دن ہمیں معلوم ہوجائے گا۔ کیا تم چاہتے ہو کہ جو میں سوچتی ہوں تمہیں بتاؤں۔ ہاں میں چاہتا ہوں۔ میرا نہیں خیال کہ ہم اندھے ہوئے تھے، میرا خیال ہے ہم اندھے ہیں۔ اندھے لیکن دیکھنے والے، اندھے لوگ جو دیکھ سکتے ہیں لیکن نہیں دیکھتے۔”

چمے بہ بیت پہ گندگ ءَ
گوشے بہ بیت پہ اشکنئگ

کیا مشکل حالات میں ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہیں؟ یا ہلنا جلنا شروع کریں؟ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے کہ "محبت اب نہیں ہوگی، یہ کچھ دن بعد میں ہوگی!۔”

Facebook Comments
(Visited 87 times, 1 visits today)

متعلق چندن ساچ

چندن ساچ
چندن ساچ نہ صرف بلوچی نثر کے اچھے لکھاریوں میں شمار ہوتے ہیں بلکہ ایک سنجیدہ شاعر بھی ہیں۔