مرکزی صفحہ / خصوصی حال / بی یو جے کے زیراہتمام یومِ شہدائے صحافت سیمینار و ریلی

بی یو جے کے زیراہتمام یومِ شہدائے صحافت سیمینار و ریلی

فتح شاکر

بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے زیراہتمام شہدائے صحافت کے دن کی مناسبت سے سیمینار اور ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے نام ور صحافیوں نے شرکت کی۔

سیمینار سے سینئر صحافیوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہو نے دیں گے۔ خبر کے لیے خبر بنے والے صحافیوں کے لیے جہاں تک ہو سکے گا آواز بلند کریں گے۔ سینئر صحافیوں کا کہنا تھا کہ ہمارا فریضہ ہے کہ صحافت کا ناموس بچانے کے لیے اپنی جان سے گزرنے والوں کو نہ صرف یاد رکھیں بلکہ ان کے ورثا کی داد رسی کی بھی ہر ممکن کوشش کریں۔ آنے والا وقت صحافت اور صحافیوں کے لیے مزید سخت ثابت ہو گا۔ آج صورت حال یہ ہے پاکستان دنیا میں صحافت کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے، جب کہ پاکستان میں بلوچستان کی صورت حال صحافیوں کے لیے میدانِ جنگ کی سی ہے۔ اس لیے ایسے میں ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اتحاد و اتفاق کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

عامل صحافیوں کا کہنا تھا کہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس صوبے کے صحافیوں کی منظم تنظیم ہے، جو اپنے اراکین کے حقوق کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ ارشاد مستوئی بی یو جے کے مرکزی سیکریٹری جنرل تھے جب انہیں شہید کیا گیا۔ ان کا ادارہ آج تک ان کا پرسانِ حال نہیں، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس صورت میں اندرونِ بلوچستان کے ایک عام صحافی کی کیا صورت حال ہو سکتی ہے۔ اس لیے بی یو جے کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ بلوچستان بھر کے صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پہ منظم کیا جائے اور ان کے حقوق کی آواز بلند کی جائے۔

تقریب سے پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما ریاض احمد نے اسلام آباد سے جب کہ معروف سینئر صحافی و تجزیہ نگار مظہر عباس نے کراچی سے ٹیلی فونک بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے بلوچستان کے صحافیوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین کیا۔ شہید صحافیوں کے لیے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت بلوچستان کے صحافیوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران، مٹی کی محبت میں وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے۔ جب کہ اداروں کے مالکان نے صحافی کارکنوں کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا اور پھر ان کی کوئی داد رسی نہیں کی، جو ایک شرم ناک عمل ہے۔

مظہرعباس کا کہنا تھا کہ میرے لیے سب سے افسوس ناک ردِعمل بلوچستان ہائی کورٹ کا تھا جس نے صحافیوں کو ایک بند گلی میں دھکیل دیا۔ میری بلوچستان کے صحافی دوستوں سے گزارش ہو گی کہ وہ صوبے کے شہید صحافیوں کے پروفائل بنائیں، جس میں ان کی تمام تفصیلات درج ہوں، اور پھر اسے کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔ یہ نہایت بنیادی کام ہے، جو کئی معاملات میں مفید ثابت ہو گا۔

بی یوجے کے صدر نے تقریب سے بات کرتے ہو ئے کہا کہ شہید ہونے والے صحافیوں کے لواحقین کے معاوضوں کی وصولی کے لیے کوشش جاری رہے گی۔ خوشی اس بات کی ہے کہ ماضی کی نسبت صحافی آج زیادہ منظم اور یکجا ہیں، امید ہے کہ مستقبل میں یہ اتحاد مزید مضبوط ہو گا۔

عبدالخالق رند نے دو قراردادیں پیش کیں جن میں صحافیوں کے تحفظ سمیت، آن لائن نیوز ایجنسی کے ارشاد مستوئی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے تین برس بعد بھی اپنائے گئے ناروا رویے کی مذمت شامل تھی۔ حاضرین نے دونوں قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لیں۔

تقریب کی نظامت کے فرائض سینئر صحافی ایوب ترین نے ادا کیے۔

تقریب کے بعد کوئٹہ پریس کلب سے احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی، جس میں صحافیوں نے اداروں کے ناروا سلو ک کے خلاف نعرے بازی کی اور شہدا کے لواحقین کے کو معاوضوں کی وصولی کے لیے نعرے بازی کی گئی۔ ریلی کا بنیادی مقصد آن لائن نیوز ایجنسی کے رویے کے خلاف احتجاج درج کروانا تھا، جنہوں نے تین برس گزر جانے کے باوجود بیورو چیف ارشاد مستوئی، رپورٹر عبدالرسول، اکاؤنٹنٹ محمد یونس کے لواحقین کو کسی قسم کے معاوضے کی ادائیگی نہیں کی۔

پریس کلب سے شروع ہونے والی ریلی کبیر بلڈنگ میں واقع آن لائن نیوز نیٹ ورک کے دفتر کے سامنے پہنچ کر مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی۔ جہاں احتجاجی نعرہ بازی کے بعد مظاہرین واپس پریس کلب پہنچے۔ ریلی کا اختتام میٹرو پولیٹن کے سبزہ زار پہ شہید صحافیوں کے لیے دعائے مغفرت کے ساتھ ہوا۔

Facebook Comments
(Visited 49 times, 1 visits today)

متعلق فتح شاکر

فتح شاکر
فتح شاکر نے بہ طور کیمرہ مین صحافت میں کیریئر کا آغاز کیا۔ اب فوٹو گرافی کے ساتھ فیلڈ رپورٹنگ بھی کرتے ہیں۔ صحافت میں یہ دونوں شعبے ان کی دلچسپی کا محور ہیں۔ Email:shakirdawn@gmail.com