مرکزی صفحہ / فلم ریویو / اس ہفتے کی فلم : مس ٹنک پور حاضر ہو

اس ہفتے کی فلم : مس ٹنک پور حاضر ہو

ذوالفقار علی زلفی

"مس ٹنک پور حاضر ہو” ؛ نام سے یوں لگتا ہے جیسے کسی گھٹیا اور واہیات فلم کا ذکر ہونے جارہا ہے مگر ٹھہریے پہلا تاثر ضروری نہیں درست بھی ہو. یہ ایک مزاحیہ مگر انتہائی سنجیدہ سماجی فلم ہے جسے ہلکے پھلکے انداز میں عام فہم بنا کر پیش کیا گیا ہے.

2015 کی فلم "مس ٹنک پور حاضر ہو” بھارتی ریاست ہریانہ کے گاؤں ٹنک پور کی کہانی ہے. ایک ایسا گاؤں جہاں حقیقی برصغیر بستا ہے. جہاں پنچایت فیصلے کرتی ہے. طبقاتی تفریق کا پوری شدت سے خیال رکھا جاتا ہے. مذہبی توہمات کی حکمرانی ہے. کرپشن اور قانون کا مذاق اڑانا معمول کا درجہ رکھتا ہے.

اس حقیقی برصغیر کا پردھان (انو کپور) مردانہ کمزوری سے نالاں ایک نیم حکیم و نیم پنڈت (سنجے مشرا) سے علاج کروارہا ہے اور اس کے عجیب و غریب ٹوٹکوں سے خود کو "مرد” بنانے کی کوششوں میں جتا ہے. دوسری جانب اس کی نوجوان و حسین بیوی مایا (ریشیتا بھٹ) شوہر کی جنسی کمزوری کے باعث نچلے طبقے کے نوجوان ارجن (راہول بگّا) سے اپنی ضروریات پوری کررہی ہے.

جنسی کمزوری کے شکار دیگر مردوں کی طرح پردھان بھی جنسی بے وفائی اور ذاتی ملکیت کے لٹنے کے خوف میں مبتلا ہوکر بیوی کو شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے. ایک رات اس کے تمام توہمات و خدشات سچ ثابت ہوجاتے ہیں. وہ گاؤں کا پردھان ہے . مونچھوں کی بدنامی سے بچنے کے لیے وہ ارجن و مایا کو کاروکاری قرار دینے کی بجائے ارجن کو ریس چمپین بھینس "مس ٹنک پور” سے جنسی زیادتی کا مرتکب منوانے کی سازش رچھاتا ہے.

گاؤں کے سیدھے سادے افراد اس کہانی پر ایمان لاکر نوجوان اور اس کے اہلِ خانہ کا جینا دشوار کردیتے ہیں. دوسری جانب قانون و انصاف بھی پردھان کے جیب کی گھڑی بن جاتی ہیں. کرپٹ پولیس افسر متنگ سنگھ (اوم پوری) بڑی "جان فشانی” سے زیادتی کے اس "شرمناک” واقعے کی تحقیقات میں جت جاتا ہے. پولیس، عدالت اور ڈاکٹرز سب بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع تلاشتے ہیں.

فلم کے ہدایت کار ونود کپری پیشے سے تحقیقاتی صحافی ہیں. یہ ان کی پہلی فلم ہے. ان کے مطابق اسکرین پلے راجھستان میں پیش آنے والے ایک حقیقی واقعے سے ماخوذ ہے. راجھستان کے واقعے سے قطع نظر فلم میں پیش کئے گئے مختلف حالات و واقعات برصغیر کی دیہاتی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہیں. دیہاتوں کے ارضی خدا فرعونِ بے ساماں بن کر سماج کے نچلے طبقات کے خلاف اس قسم کی مضحکہ خیز انتقامی کارروائیاں کرتے آرہے ہیں اور پولیس و عدلیہ نے بھی ہمیشہ انہی کا دم بھرا ہے. ایک طبقاتی سماج میں جہاں علم کا "سرمایہ” چند افراد کی ذاتی ملکیت ہو اور وہ اس "سرمائے” کا ایک حقیر حصہ مسخ شدہ حالت میں نچلے طبقات کی جھولی میں ڈال دیں اس سماج میں شعور کی سطح یہی ہوگی جو "مس ٹنک پور حاضر ہو” میں دکھایا گیا ہے. محنت کش دیے گئے مسخ علم کو مکمل علم مان کر اعلی طبقات کے بتائے ہوئے راستے کو ہی درست سمجھ کر بنا یہ سوچے کہ بھینس کے ساتھ جنسی زیادتی ممکن ہی نہیں ردعمل پیش کرتے ہیں.

ہندی سینما نے عرصہ ہوا گاؤں اور چھوٹے قصبات کی زندگی کو پسِ پشت ڈال دیا ہے. اب کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق ایک بار پھر حقیقی ہندوستان سینما کا حصہ بننے جارہا ہے. "مس ٹنک پور حاضر ہو” اسی نئے رجحان کی مضبوط نمائندہ فلم ہے.

ونود کپری زیادہ فلمی تجربہ نہیں رکھتے اس کے باوجود انہوں نے مزاح کا سہارا لے کر سنگین معاشرتی مسئلے کو بڑی خوبی سے پیش کیا ہے. انو ملک اور اوم پوری نے دیے گئے کرداروں کی بھرپور فنکارانہ نمائندگی کی ہے. البتہ ریشیتا بھٹ اور راہول بگّا کی اداکاری میں کمزوری نمایاں ہے بالخصوص راہول ہریانوی لہجے کی درست نقل اتارنے میں کلی طور پر ناکام رہے ہیں.

فلم کی سینما ٹوگرافی اچھی ہے. گاؤں کی زندگی کی ہرممکن عکاسی کی گئی ہے. مزاح اور سنجیدگی (بلیک کامیڈی) کا مرکب پیش کرنا کافی مشکل ہے , راجکمار ہیرانی کی طرح کپری نے بھی اس مشکل کو بڑی حد تک حل کیا ہے.

Facebook Comments
(Visited 27 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔