آہ ۔۔۔ارشاد مستوئی!

بالاچ قادر

یوں تو روز لوگ مرتے ہیں۔ ہمارے سامنے ہزاروں چہروں کی شناسائی ہوتی ہے۔ لیکن کچھ لوگ اس طرح مر جاتے ہیں گویا مرتے نہیں بلکہ ایک نئے طریقے سے دوبارہ جنم لیتے ہیں۔ تاریخ اپنے اوراق میں ایسے لوگوں کے ناموں کو سرخ قلم سے لکھ دیتی ہے جنہیں نہ مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہٹایا جاسکتا ہے۔

تاریخ کے نازک اوراق میں لکھے گئے سرخ ناموں میں سے ایک ہے؛ ارشاد مستوئی، جنہوں نے قلم کی پاک دامنی کو داغ لگنے سے بچاتے ہوئے شہادت نوش کی۔ جنہوں نے تاریک گلیوں میں چراغ جلانے کے پیشے کو اپنایا۔ ارشاد مستوئی فقط ایک صحافی یا لکھاری کا نام نہیں بلکہ جھوٹ کو شکست دینے والی ایک تحریک کا نام ہے۔

28 اگست 2014 کا دن عالم دنیا میں ایک سیاہ دن ہے کیوں کہ اس دن میں ایک راست گو انسان کے قلم کو تالا لگا دیا گیا۔

ارشاد …… جب بھی کوئی ماں اپنے بچے کو سچائی کا درس دے کر جھوٹ نہ بولنے کی نصیحت کرتی ہے توآپ یاد آتے ہو!!۔

Facebook Comments
(Visited 49 times, 1 visits today)

متعلق بالاچ قادر

بالاچ قادر
بالاچ قادر نوجوان طالب علم ہیں۔ گوادر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سماجی موضوعات پہ بلاگ لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ balachqadir23@gmail.com