مرکزی صفحہ / اداریہ / ایک اور 28 اگست

ایک اور 28 اگست

ایڈیٹر

بلوچستان کے نوجوان صحافی اور بی یو جے کے جنرل سیکریٹری ارشاد مستوئی اور ان کے ساتھی رپورٹر عبدالرسول اور اکاؤنٹنٹ عبدالرسول کی شہادت کو اس 28 اگست کوتین برس ہو گئے۔ ایک اور 28 اگست آ گیا۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان کے خاندان اور ورثا کی مزاج پرسی کرنے والا کوئی نہیں رہا۔ حکومت اور صحافتی تنظیمیں بھی اپنے فرائض بھول چکی۔

یاد رہے کہ ارشاد مستوئی کی شہادت کے بعد اُس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سرکاری اعانت کے ضمن میں دس لاکھ روپے اور اہلِ خانہ کو نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن حسبِ سابق ان کا وعدہ وفا نہ ہوا۔ خاندان کی بارہا یاد دہانی کے بعد حکومت سے رخصتی سے قبل انہوں نے پانچ لاکھ روپے کا چیک منظور کیا، جب کہ ملازمت سے صاف معذرت کر لی۔ واضح رہے کہ کوئٹہ میں گزشتہ برس 8 اگست کو وکلا پر ہونے والے حملے میں شہید ہونے والے دو کیمرہ مین کے اہلِ خانہ کو دس دن کے اندر اندر سرکاری ملازمت کا پروانہ مل چکا۔ حکومت کی جانب سے مالی اعانت بھی فوری طور پر ادا کر دی گئی۔ امسال تمام شہید وکلا کی پہلی برسی کے موقع پر حکومت کی جانب سے ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری بھی لے لی گئی۔

دوسری جانب صحافیوں کی مرکزی تنظیم کا مرکزی عہدے دار ہونے کے باوجود ارشاد مستوئی سمیت چالیس سے زاید شہید صحافیوں کے اہلِ خانہ آج تک انصاف کی راہ تک رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ارشاد مستوئی کی شہادت کے بعد ان کے اکلوتے بھائی ہی پورے خاندان کی کفالت کے ذمے دار ہیں، جو کسی بھی مستقل ملازمت سے محروم ہیں۔ ارشاد مستوئی نے پسماندگان میں ایک بیوہ اور تین بچے چھوڑے تھے۔

دوسری جانب ارشاد مستوئی اور ان کے ساتھیوں کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ ان کی شہادت کے اگلے ہی برس مئی میں کیا گیا۔ صوبائی وزیر داخلہ کے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں دو ملزمان کو سامنے لایا گیا جنھوں نے ارشاد مستوئی کے قتل کا اعتراف کیا۔ جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔ بعدازاں انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ حکومت کی جانب سے مقتولین کے اہلِ خانہ اور صحافیوں کو ملزمان تک رسائی دینے کا وعدہ کیا گیا، جس پر عمل در آمد نہ ہو سکا۔

اس دوران کچھ ہی عرصے بعد مذکورہ ملزمان کو مستونگ میں ایف سی کی ایک کارروائی میں مارے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ یہ ملزمان وہاں تک کیسے پہنچے اور کیسے مارے گئے، اس بابت تمام میڈیا خاموش ہے۔ کسی جرأت مند صحافی میں سوال اٹھانے کا حوصلہ نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہ خونِ خاک نشیناں تھا، رزقِ خاک ہوا۔

ارشاد مستوئی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کا ایک برس مکمل ہونے پر کوئٹہ پریس کلب میں ہونے والی تقریب میں صحافیوں کی تنظیم نے 28 اگست کو بلوچستان بھر کے شہید صحافیوں کے نام منسوب کرتے ہوئے ہر برس اسی تاریخ کو یومِ شہدائے صحافت منانے کا اعلان کیا۔ جسے صحافتی حلقوں میں مستحسن نظروں سے دیکھا گیا۔ لیکن حیرت انگیز طور پرگزشتہ برس یہ دن 28 اگست کی بجائے ایک ہفتہ قبل 20 اگست کو منا لیا گیا۔ جس میں صحافیوں کی قلیل تعداد شریک ہوئی۔

اس قدر سنجیدہ معاملے پر صحافتی قیادت کا اس قدر غیر سنجیدہ طرز عمل ان کے مزاج کی غمازی کرتا ہے۔ البتہ امسال اسی روز یوم شہدائے صحافت منانے کے ساتھ ساتھ بی یو جے کی جانب سے آن لائن انٹرنیشنل نیوز نیٹ ورک ، جس کے ارشاد بیوروچیف تھے، کے دفتر کے سامنے معاوضے کی عدم ادائیگی نیز ادارے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف احتجاج کر کے اس کا کفارہ ادا کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔

ارشاد مستوئی اور ان کے ساتھیوں کے اہلِ خانہ کی شکایات جائز ہیں کہ ان کے نام کا دم بھرنے والوں کا آج کوئی نام لیوا نہیں رہا۔ شہید ہونے والے صحافیوں کو جس طرح ان کی قیادت اور ساتھیوں نے بھلا دیا اور ان کے اہلِ خانہ کو تنہا چھوڑ دیا، یہی عالم رہا تو بلوچستان کے صحافیوں کے لیے خدانخواستہ ہر دن 28 اگست بن جائے گا، اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو گا۔

Facebook Comments
(Visited 47 times, 1 visits today)

متعلق ایڈیٹر