مرکزی صفحہ / فلم ریویو / اس ہفتے کی فلم "ارتھ 1947”

اس ہفتے کی فلم "ارتھ 1947”

ذوالفقار علی زلفی

کینیڈین نژاد بھارتی ہدایتکارہ دیپا مہتا انگاروں کی طرح دہکتے سماجی موضوعات پر فلمیں بنانے میں یدِ طولی رکھتی ہیں. اس بہادری کی انہوں نے بھاری قیمت بھی چکائی ہے مگر بقول غالب "شوق ہر رنگ میں رقیبِ بے سر و ساماں نکلا”. 1998 کی فلم "ارتھ 1947” بھی ایک ایسی ہی فلم ہے جس میں دہکتے انگاروں کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی گئی ہے. قبل ازیں وہ "فائر” جیسی متنازعہ فلم بناکر کافی "بدنامی” سمیٹ چکی تھیں.

"ارتھ 1947” تقسیمِ ہند کے پسِ منظر پر مبنی ہے. لاہور , جہاں مختلف مذاہب کے لوگ پرامن اور دوستانہ ماحول میں زندگی کے دن گزار رہے ہیں. اس پرامن ماحول میں سکھوں، مسلمانوں اور ہندو دوستوں کا ایک جمگھٹا ہے. دوستوں کی محفل میں ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی سیاست کا موضوع بھی آجاتا. سیاست کے ذکر پر سب کے چہروں پر خوف کے سائے لہرا جاتے. وہ ممکنہ تقسیم کو کبھی تسلیم کرتے اور گاہے مسترد کرتے. لاہور پاکستان کا حصہ بنے گا یا ہندوستان کا؟ اس بھیانک سوال کا سامنا کرنا ان کے لئے دشوار ہوجاتا. فضا اس وقت خوشگوار ہوجاتی جب کہیں سے یہ جملہ اڑ کر ان کی سماعت سے ٹکراتا لاہور جس کا بھی حصہ بنے , محبت , رواداری اور امن لاہور کی شناخت رہیں گے.

کہانی تین مرکزی کرداروں اور ایک متوازی کردار کے گرد گھومتی ہے. دل نواز، ایک آئس کریم بیچنے والا کھلنڈرا اور بے فکرا مسلمان نوجوان (عامر خان) جو ہندو لڑکی شانتا (نندیتا داس) کی سانولی رنگت پر فدا اور اس کا خاموش عاشق ہے. شانتا ننھی سی پارسی بچی لینی کی آیا ہے. لینی کے معصوم مگر سخت سیاسی و غیر سیاسی سوالات کا جواب دہندہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات وہ مستقبل کے مہیب سپنوں سے گھبرا جاتی ہے مگر ایسے میں اسے اپنے محبوب حسن (راہول کھنہ) کا خیال آتا ہے اور محبت کے دھنک اسے مستقبل سے بے نیاز کردیتے ہیں.

فرقہ وارانہ سیاست کی وجہ سے بالآخر ایک دن جمع شدہ نفرت کا آتش فشاں پھٹ جاتا ہے. فضا پر بارود کی مہک چھا جاتی ہے. تقسیم ایک حقیقت بن کر دوستوں کے جھمگٹے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے. صورتحال اس وقت بھاری ہوجاتی ہے جب دل نواز کی بہنیں ہندوستان سے لاہور آتی ٹرین میں عزت لٹا کر اور چھاتیاں کٹوا کر کٹی پھٹی لاش کی صورت لاہور پہنچتی ہیں. نفرت اور انتقام کی آگ دلنواز کی شوخی کو جلا کر بھسم کردیتی ہے جبکہ رہی سہی محبت اس وقت دھواں بن کر اڑ جاتی ہے جب دل نواز کو پتہ چلتا ہے کہ شانتا اس سے نہیں حَسن سے محبت کرتی ہے.

انتقام اور حسد جیسے منفی جذبات کی رو میں بہہ کر دل نواز انسان کا چولا اتار کر شیطان کا روپ دھار لیتا ہے. وہ اپنے بے انت دکھوں کا زمہ دار سیاست اور اس کے نتیجے میں بدلتے معروض کو قرار دینے کی بجائے سکھوں اور ہندوؤں کے وجود کو مجرم تصور کرتا ہے. وہ ضمیر کی خلش سے بے نیاز لاپروایانہ انداز میں اپنے سابق دوستوں اور محبوبہ کو نفرت کے دہکتے تنور میں پھینک کر اطمینان سے سگریٹ سلگا کر اس کے دھویں میں اندر کی آگ کو بجھانے کی سعی کرتا ہے.

"ارتھ 1947” پارسی ناول نگار بپسی سدھوا کی سرگزشت نما کہانی ہے. لینی کی صورت وہ 1947 کے واقعات کا ایک ایسا راوی ہے جس نے خونِ دل میں انگلیاں ڈبوکر یہ خونچکاں تحریر "آئسکریم والا” کے عنوان سے لکھی ہے.

دیپا مہتا کی ہدایت کاری سے نکلی اس فلم کو ایک حساس انسان کے لیے برداشت کرنا شاید مشکل ہو لیکن انسانی نفسیات کی پیچیدہ گھتیوں کو سمجھنے کے لئے یہ فلم کار آمد ہوسکتی ہے.

دل نواز کے کردار میں عامر خان نے ڈھل کر اداکاری کی ہے. کبھی ان پر ترس آتا ہے تو کبھی ان پر قابض خبیث روح کو دیکھ کر دل میں نفرت کے جذبات امنڈنے لگتے ہیں. نندیتا داس نے حسبِ سابق اس فلم میں بھی سنجیدہ اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں.

تقسیمِ ہند بعض افراد کے لیے بھیانک خواب ہے تو کسی کے لئے محض تاریخ کا ایک ایسا باب جسے بھول جانا ہی بہتر ہے. یہ فلم خواب و تاریخ سے بڑھ کر انسانی نفسیات کا تجزیہ ہے کہ آخر کیوں ایک ہنستا بولتا انسان اچانک وحشی جانور بن جاتا ہے , اس فلم میں اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے.

Facebook Comments
(Visited 55 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔