آؤ، اک شخص کا ذکر کریں!

محمد خان داؤد

اُس شخص کا ذکر ضرور کیا جائے
جو اب نہیں ہے
پر اس کی مُسکراہٹ
ہمارے ہونٹوں پر زندہ ہے
مکران کے ساحل سے لے کر
تم سب تک
اگر نقشِ پا دیکھیں جائیں تو شام ہو جائے گی
ضروری ہے کہ اس پیار کا بھی ذکر کیا جائے
جو ابھی ہوگا!
اور وہ درخت بھی جنہیں ابھی دھرتی کے سینے سے باہر آنا ہے
ندی کا بھی ذکر کیا جائے
چاند کا بھی
اور اُس لڑکی کا بھی
جو کھڑے کھڑے پھول بن گئی
خوشبو بھری راتوں میں
کون نیند کی کشتی میں سوار ہوا ہوگا؟!
سپنے کون سے ساحل پر اترے ہوں گے!!
اور کون سے بدن کے میان میں
تاریخ کی تلوار جاگی ہوگی
ہاں! ان سب کا ذکر کیا جائے
مگر آخر میں!
اس شخص کا ذکر ضرور کیا جائے
جس کو زمانے نے بچوں کی کتاب کی طرح
بھُلا دیا ہے
جس نے دھرتی کو سینچ کر
پھول اُگائے
اور سارا دن
شاعری کی مزدوری کی
جس نے گیت لکھے
اور گیت لکھنے کے جرم میں
ننگی گولیوں کا شکار ہوا
وہ جو دھرتی کے غم میں مبتلا رہا
جس نے انقلابی سپنے اپنی آنکھوں میں سجائے رکھے
وہ جو درختوں سے باتیں کیا کرتا تھا
وہ جو اپنی بند آنکھوں کی دریاں کھول کر
انسانوں کے اندر میں
اتر گیا
اور
آخر میں
اپنے ہی دیس میں گُم ہو گیا
آؤ!اس شخص کا ذکر کریں!

وہ شخص ہو بہ ہو اس نظم جیسا تھا، جس کو اپنی ذات کا کوئی دکھ نہ تھا۔ پر اس کی زندگی دکھوں سے خالی بھی نہ تھی۔ دھرتی کا دکھ، اپنوں کا دکھ،گولیاں چلنے کا دکھ۔ اس میں اپنوں کے یوں چلے جانے کا دکھ۔ روز لوگ گھٹتے رہے اور جو اس کے پاس فہرست تھی، وہ بڑھتی ہی چلی جاتی تھی۔ وہ فہرست ایک سے شروع ہوئی تھی۔ اور دیکھتے دیکھتے وہ تیس سے اوپر جا چکی تھی۔ اگر اس کے چلے جانے کے بعد بھی وہ فہرست کوئی لکھ رہا ہوگا تو اس کا اندراج بھی ہو چکا ہوگا جو غالبآ تیس کے بعد ہی ہوگا۔ تیس سے زائد اس کے قبیلے کے لوگ جا چکے تھے، جہاں نہ کوئی کالم لکھتا ہے، نہ کوئی خبر بریک کرتا ہے، نہ کوئی اسٹوری لکھتا ہے اور نہ ہی کسی کو یہ شکایت رہتی ہے کہ، "اس کی خبر کو جگہ نہیں ملی!” وہاں چلے جانے کے بعد کچھ بھی نہیں!
یاں تک کہ باتیں بھی نہیں!

باتیں بھی اپنے آپ مر جاتی ہیں
یادیں بھی نہیں!
یادیں تو ایک سزا ہے
اور کون چاہے گا کہ وہ ہر روز ایک سزا سے گزرے؟!
اس لیے یادیں بھی نہیں!
وہاں کچھ بھی نہیں
وہاں کیا ہے؟
نہیں معلوم؟
پر یہاں کیا ہے؟
بہت سی یادیں
ماں کے آنسو
اور ایک مٹیالی قبر
اور!!!!!!
کچھ بھی نہیں!!!

ارشاد مستوئی بھی اسی بات کا شکار ہو رہا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ بلوچستان میں اسے کون یاد کر رہا ہے؟ اس کے یوں چلے جانے کا دن منایا جاتا ہے کہ نہیں؟ میں نہیں جانتا کہ اس کے دنیا میں آنے کا دن منایا جاتا ہے کہ نہیں۔ میں یہ بھی نہیں جانتا۔ پر میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کے وہ قلمی ساتھی، اس کے وہ سینئر ساتھی، اس کے وہ جونئیر ساتھی اپنے ساتھی کے چلے جانے کا کتنا غم کرتے ہیں۔ اگر غم کرتے ہیں تو اسے ظاہر بھی کرتے ہیں کہ نہیں۔ اگر ظاہر کرتے ہیں تو ہ غم کی خبریں اتنی گونگی کیوں ہوتی ہیں کہ ہم جو اسلام آباد میں بیٹھے ہیں، ہم جو کراچی، پشاور یا لاہور میں بیٹھے ہیں، ہم تک وہ ہجر کی باتیں کیوں نہیں پہنچتیں۔ پر ہم نہ بھی چاہیں تب بھی ہم تک یہ خبریں پہنچ ہی جاتی ہیں کہ، بلوچستان میں کتنے فراری اسلحہ پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہو گئے!

اور ہمارے کان ترستے ہیں کہ ہم ایسی بھی خبریں بلوچستان یا پورے ملک سے سن پائیں کہ، ارشاد مستوئی کو کس نے کہاں کہاں پر یاد کیا؟ کس نے ارشاد مستوئی کے لیے کس پریس کلب کے گیٹ پر موم بیتاں جلائیں؟ کس نے ارشاد کو خراج پیش کیا؟!!

ایسی خبریں ندارد!!

جیسے جیکب آباد میں ایک ماں نہیں بھولی اپنے بچے کو، اس طرح ہم بھی نہیں بھولے ایک پسماندہ علائقے سے ایک استاد صحافی، شاعر آدرشی انسان اور سچے انسان کو، آج کی تاریخ میں نماں شام کو اس ارشاد مستوئی کو سینے میں گولیاں اتار کر اس کے آفیس میں شہید کر دیا گیا تھا۔

آؤ! اس شخص کا ذکر کریں!

اس ملک کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ یہاں پر یونیورسٹیوں میں صحافت کے ڈپارٹمنٹ تو ہیں، پر صحافت کا کوئی کورس نہیں۔ جو صحافی ہیں جو اپنے علم، اپنی محنت، اپنی لگن، اپنے کام سے آگے بڑھ جاتے ہیں جن پر صحافت کو ناز ہوتا ہے۔ انہیں رات کے اندھے ہاتھ اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ وہاں جہاں نہ تو محبوبہ کی مٹھاس آتی ہے اور نہ ماں کی لوری! ارشاد مستوئی بھی ایک ایسا ہی صحافی تھا، جس نے صحافت کسی یونیورسٹی کے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر ابجد کی طرح نہ سیکھی تھی، اور نہ پڑھی تھی۔ وہ تو میدان کا آدمی تھا، وہ تو سڑک پر چل کر عشق بھی کرتا تھا، اسٹوری بھی لکھتا تھا اور سگریٹ بھی پیتا تھا۔ اسے راہ چلتے صحافت کرنے میں مزا آتا تھا۔ تبھی تو وہ بلوچستان کے ان تیس سے بھی زائد صحافیوں کی لسٹ تیار کر گیا تھا جنہیں یا تو گم کر دیا گیا تھا، یا مار دیا مٹی میں ملا کر قبروں کا اضافہ کیا گیا تھا۔

وہ جرنیلی سڑک کا آدمی نہیں تھا، وہ تو اس سڑک کا آدمی تھا جس سڑک پر جتنا چلا جائے اتنی وہ سڑک طویل ہوتی جاتی ہے۔ جرنیلی سڑک پر تو منزل ہو سکتی ہے، پر جس سڑک پر ارشاد چل رہا تھا، وہاں تو بس مسافتیں ہی مسافتیں تھیں۔ نہ منزل، نہ منزل کا پتہ!

حالاں کہ وہ اتنا کام کر گیا تھا کہ اگر چاہتا تو کوئٹہ میں اپنا کوئی اخبار نکال کر ایسے ہی مزے کرتا جیسے وہ صحافی کر رہے ہیں جو جوانی میں انقلابی تھے اور ڈھلتی عمر میں آدھی رات کے ہم سفر بن گئے! مقصد بھی بھول گئے، اور کئی لوگوں کو جلتی راہ میں چھوڑ گئے۔ پر ارشاد مستوئی نے ایسا نہیں کیا۔ وہ جو سبق پہلے دن سے اپنے استادوں سے لے کر کراچی کے آرٹس کاؤنسل ہال کے بہت بڑے سے ہال میں موجود کئی لوگوں کے سامنے اپنی تقریر کرنے چلا تھا، وہ زندگی کے سینتیس سالوں میں بھی وہ تقریر کرتا رہا، دہراتا رہا، یاد کرتا رہا اور لوگوں کو سناتا رہا۔ ارشاد کی زندگی نہیں بدلی، اس کے سفر نہیں بدلے، اس کی منزل نہیں بدلی اور اس کی بولی نہیں بدلی جس میں محبت بھی تھی، اور آدرشی اصول بھی!

وہ جو ایک ہی وقت میں سرائیکی میں سوچتا تھا، سندھی میں کہتا تھا، اردو میں لکھتا تھا۔ جس کی اردو اہلِ زباں جیسی تھی۔ حالاں کہ اگر وہ اپنے کام میں محنت نہ کرتا تو اس کی اردو گلابی ہی رہ جاتی۔ پر انقلابی کب یہ چاہتے ہیں کہ کوئی نقص رہ جائے!

اس لیے وہ اہلِ زباں جیسی اردو لکھتا، ماں جیسی سرائیکی بولتا اور دوستوں سے روٹھ جانے والی سندھی بولتا! بہت سی محبت اور تھوڑے غصے والی۔۔۔۔!!!
یہ روائیت تو سندھ اور بلوچستان میں جب بھی تھی اور اب بھی ہے کہ، "جو بھی دھرتی کے گیت گائے اس کے سینے میں ننگی گولیاں اتار دو!”

میں سندھ میں ایسے کتنے سیاسی کارکنوں کو جانتا ہوں کہ جن کی زباں پر ایاز کا یہ گیت ہوا کرتا تھا کہ، "سندھ دھرتی تیری مٹی میں اپنا
خوں ملاؤں اور امر ہو جاؤں!”

وہ راہ چلتے مارے گئے، اب تو ان کی قبریں بھی بے نشاں اور پرانی ہوئیں، اور ایک دو نہیں پر کئی قبریں ہیں جن کا قصور بس ایاز کا یہ گیت بنا، اور بلوچستان میں بھی ایسے سیاسی کارکن ہوں گے جنہوں نے مست توکلی کے گیت یاد کیے ہوں گے، اور گیت بھلا کہاں بیٹھنے دیتے ہیں؟!

پر یہ روایت کب سے بنی کہ جو گیت لکھے اس کے سینے میں بھی ننگی گولیاں اتار دو؟

اور یہی جرم ٹھہرا ارشاد مستوئی کا۔ ارشاد مستوئی کی صحافت، صحافت نہ تھی پر وہ گیت تھے، جنہیں ابھی گایا جانا تھا، ا س کی وہ نظمیں جنہیں ابھی کوئی آواز ملنا تھی۔ اس کے وہ کالم جنہیں ابھی وڈیو کی شکل میں آنا تھا، اور یوٹیوب پر اپ لوڈ ہونا تھا،
پر ننگے ہاتھ تاک میں تھے
ننگی گولیوں کو
بندوق میں بھر رہے تھے
اور ان بندوقوں نے انہیں ارشاد کے جسم پر
اُگلنا تھا

گولیاں چلیں ارشاد تو کوئٹہ سے جیکب آباد چلا۔ پر کیا گیت بھی گولی سے مارے جاتے ہیں؟ کیا کویتائیں بھی بندوق سے زخمی ہوتی ہیں۔ کوئی مر جاتا ہے۔ پر کویتائیں نہیں مرتیں لینن نے انقلاب سے پہلے کہا تھا کہ، "جب انقلاب آئے گا تو پہلی گولی ان جنرلوں کے سینوں میں اتاروں گا جو ناحق معصوم انسانوں کو گولیوں سے مارتے ہیں!”

ہوسکتا ہے، لینن نے روس میں ایسا کیا بھی ہو۔ پر ہمارے ملک میں تمام گولیاں انقلاب کے ہی سینے میں کیوں اتاری جاتی ہیں؟!

ارشاد مستوئی بھی تو ایک انقلاب تھا،
صحافت کا انقلاب!
ادب کا انقلاب!
تقریر تحریر کا انقلاب!
اور وہ انقلاب ننگی گولیوں کی نذر ہوگیا، اور پیچھے رہ گیا بہت سا خون!
آؤ! اس شخص کو یاد کریں!
جو خود ایک گلاب تھا
جس کی مٹیالی قبر پر کوئی گلاب نہیں
جو شخص خود روشنی تھا
جس کی یاد میں کہیں بھی کوئی بھی
موم بتی نہیں جل رہی
جو شخص خود ایک تحریر تھا
جو خود ایک تقریر تھا
جس کی یاد میں کوئی تقریر نہیں
یہ سانحہ نہیں تو کیا ہے؟
یہ المیہ نہیں تو کیا ہے؟
آج اس شخص کا ذکر ضرور کیا جائے
جو نہیں
پر جس کا مُسکرانا
ہمارے ہونٹوں پر زندہ ہے!!

Facebook Comments
(Visited 122 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com