مرکزی صفحہ / اداریہ / رستہ کٹ رہا ہے کہ منزل کھو رہی ہے؟!

رستہ کٹ رہا ہے کہ منزل کھو رہی ہے؟!

ایڈیٹر

قیامَ پاکستان کے ستر برس مکمل ہونے کے جشن سے محض دو روز قبل کوئٹہ میں ایک بار ہونے والی دہشت گردانہ کارروائی نے ایک طرف جہاں خوشیوں کے اس رنگ میں بھنگ ڈالا، وہیں ان اداروں کی کارکردگی پہ پھر سے سوالیہ نشان بھی کھڑا کر دیا ہے جن کے ذمے شہریوں کے جان و مال کے حفاظت کی ذمہ داری ہے اور جو اس مد میں عوام کے ٹیکسز سے ماہانہ کروڑوں روپے حاصل کر رہے ہیں.

یہ سوال صوبائی حکومت کے اعلیٰ اہکاروں سے بھی بنتا ہے جو ایسے اہم وقت میں صوبے کے عوام کو محض اداروں کے حوالے کر کے خود سابق وزیراعظم کو خوش کرنے لاؤلشکر سمیت لاہور جا پہنچے اور بھنگڑا ڈالنے والوں کے ساتھ کھڑے خوشیاں مناتے رہے. کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ اگر خود صوبے میں‌موجود ہوتے بھی تو کیا وہ دھماکے کو ہونے سے روک سکتے تھے؟. سوال یہ نہیں کہ دھماکہ روکنا، وزیراعلیٰ کے بس میں ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کروڑوں روپے سکیورٹی پہ خرچ کرنے کے باوجود دھماکہ کرنے والوں پہ گرفت اب تک مکمل کیوں نہیں ہو پا رہی؟. نیز ایک ایسا وقت میں جب کہ 14 اگست کے موقع پر سکیورٹی ہائی الرٹ پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں، وزیراعلیٰ کو ایک "غیرضروری سرگرمی” کے لیےصوبے سے باہر جانا زیب دیتا ہے؟.

صوبائی حکومت کی اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں. ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا کہ اگست کے شروع ہوتے ہی کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کا محاصرہ شروع ہو جاتا ہے. ہر گلی محلے، چوک چوراہے پر موجود سکیورٹی فورسز کی چوکیوں، عوام کی مکمل تلاشی اور جھڑکیوں کے باوجود کسی بھی دہشت گرد کا کئی کلو گرام بارودی مواد کے ساتھ شہر میں داخل ہونا اور کامیابی سے اپنی کارروائی کر لینا، اداروں کی مکمل ناکامی پہ دلالت کرتا ہے.

گزشتہ دو ہفتوں سے کوئٹہ مکمل محاصرے میں ہے. حالاں کہ یہ محاصرہ کئی برسوں سے مسلسل و مستقل جاری ہے، لیکن اگست کے دنوں میں بالخصوص یہ محاصرہ عملآ نظر آنے لگتا ہے. اس سخت محاصرے کے باوجود دشمن کا گھر میں گھس کر حملہ آور ہونا، شہریوں میں بے یقینی کی کیفیت کو جنم دیتا ہے. اور جب تک شہری ریاست سے، ریاستی اداروں سے مطمئن نہ ہوں، حکومت کا اطمینان سے بیٹھے رہنا ہی باعثِ ندامت ہونا چاہیے.

پاکستانی حکام اور عوام کو ملک کے قیام کے ستر برس مکمل ہونے کا جشن منانے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن ملک کے شہریوں‌کو یہ سوال کرنے کا بھی حق حاصل ہونا چاہیے کہ جب تک شہر اور شہری محاصرے میں ہیں، یہ جشنِ آزادی کس قدر بامعنی ہو سکتا ہے؟. جب تک شہری لاپتہ ہوتے رہیں، ان دیکھی گولی کا نشانہ بنتے رہیں، کبھی بھی کہیں بھی اٹھائے جانے یا مارے جانے کے خوف میں مبتلا رہیں، یہ یقین رکھیں کہ رستہ کٹ نہیں رہا بلکہ ریاست اپنی منزل کھو رہی ہے.

Facebook Comments
(Visited 65 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔