مرکزی صفحہ / خصوصی حال / وجاہت مسعود کوئٹہ میں

وجاہت مسعود کوئٹہ میں

فیصل ریحان

گزشتہ ہفتے برشور سے کوئٹہ پہنچا تو حسب معمول عابد میر کو میسج کیا کہ کہاں ملاقات ہوگی. دوسری طرف خاموشی رہی اور جواب نہ آیا تو تھوڑی دیر بعد اسے فون کر ڈالا. عابد نے چھوٹتے ہی کہا یار اپنے وجاہت مسعود کوئٹہ آئے ہیں، میں انھیں لینے گھر سے نکل رہا ہوں. ان کے ساتھ مری لیب پر پانچ بجے دوستوں کی بیٹھک ہے، آپ بھی وہاں آجائیں. میں نے دل میں کہا واہ! اسے کہتے ہیں اللہ دے اور بندہ لے. ضرور حاضر ہوتا ہوں. اس وقت برشور سے اپنی آمد بڑی بر وقت معلوم پڑی.

تھوڑی دیر آرام کرنے اور تازہ دم ہونے کے بعد مری لیب پہنچا تو بیٹھک لگ چکی تھی. شاہ محمد مری حسب معمول اپنی سیٹ پر ہشاش بشاش موجود تھے. ان کے عین سامنے وجاہت مسعود کرسی پر براجمان تھے، جن کی بائیں جانب سرور آغا اپنے سدا کے پرسکون چہرے پر دھیمی مسکراہٹ لیے بیٹھے تھے. دائیں طرف منیر رئیسانی اور عابد میر کی نشست تھی. سلام دعا کے بعد مجھے بھی وہیں جگہ مل گئی. باتوں کا سلسلہ جاری تھا. ذرا وقفہ ہوا تو مری صاحب نے وجاہت مسعود سے میرا تعارف کراتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں کہا یہ فیصل ہے. میں شرمندہ ہوا ہی چاہتا تھا کہ وجاہت مسعود نے بے تکلفی سے پوچھا "فیصل آپ سگریٹ پیتے ہیں.” میں دل میں حیران یا الہٰی یہ کیا ماجرا ہے. یہ کیا بات ہے بھلا. دیکھا، تو وہ یکے بعد دیگرے سب سے یہی سوال پوچھ رہے تھے. کسی نے مذاقاََ کہا پیتے ہیں مگر خالی نہیں. تب عقدہ کھلا کہ انھیں سگریٹ نوشی کے لیے محفل میں ایک ساتھی کی تلاش دراصل اجازت کی غرض سے تھی. سب نے انھیں کھلے دل سے اس کی اجازت دی.

ان کے ہاتھ میں سگریٹ سلگنے کی دیر تھی. اس کے بعد جو باتوں کا سلسلہ دراز ہوا تو ہوتا ہی چلا گیا. جمہوریت، سرمایہ داری، مارکسزم، ادب، ملکی سیاست، موجودہ سیاسی انتشار، عدلیہ کے کردار، سوشل میڈیا، اسٹیبلشمنت کی گرفت، عالمی سیاسی صورت حال اور اس کے تناظر میں ملک کو درپیش خطرات، تعلیم کی زبوں حالی غرض کون سا موضوع ہوگا جس پر سیر حاصل بات نہ ہوئی ہو. سب سوال اٹھاتے اور وجاہت مسعود اپنے خیالات سے آگاہ کرتے. کبھی وہ سوال کرتے اور حاضرین میں سے کوئی اس کا جواب دیتا. وجاہت مسعود نے ‘ہم سب’ کے تجربے اور اس کی کامیابی کے بارے میں بتایا اور پنجاب میں نئی شائع ہونے والی اچھی کتابوں کا تذکرہ بھی کیا.

اسی اثنا میں پہلے جاوید اختر اور پھر بیرم غوری اور ایک دو نوجوان دوست بھی آگئے. جاوید اختر ابھی تک مارکسزم کو ہی تمام مسائل کا واحد حل سمجھتے اور ‘لینن کی جمالیات’ کے قائل بلکہ گھائل ہیں. انھوں نے آتے ساتھ ہی وجاہت مسعود کی اپنے کالموں میں جمہوریت کی مسلسل حمایت کو طنز کا نشانہ بنایا. وجاہت مسعود نے خندہ پیشانی سے اپنا نقطہ نظر سمجھاتے ہوئے جمہوری نظام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے غالباََ یہ کہا کہ فی الحال اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں. جمہوریت کا سفر جاری رہےگا تو اچھی جمہوریت بھی آسکے گی. آج جو صورت حال ہے اس میں تو موجودہ جمہوری آزادیاں بھی خطرے میں ہیں. اس لیے سیاست دانوں کی حمایت ضروری ہے. اس موقع پر انھوں نے یہ معنی خیز شعر سنایا:
لگتا  ہے میرے  گھر  یہ  بڑی دیر  رکے  گی
اس رات کی آنکھوں میں شناسائی بہت ہے

شاہ محمد مری نے تو ان کی مہمان نوازی کا لحاظ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مسافر یعنی مہمان ہیں تو آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر جاوید اختر اور سرور آغا ان سے اختلاف کرتے رہے.

وجاہت مسعود کی تحریر اپنا ایک الگ سواد تو رکھتی ہی ہے جو قاری سے ایک خاص سطح کے ذوق کا مطالبہ کرتی ہے مگر اس دن میں نے یہ دیکھا کہ انھیں قدرت سے خوب صورت گفت گو کا ملکہ بھی ودیعت ہوا ہے اور ان کا حافظہ بھی غضب کا ہے. کئی تاریخی واقعات، لاہور کے ادیبوں کے دلچسپ واقعات اور بڑی تعداد میں خوب صورت اشعار ان کی نوک زبان پر گویا اٹکے رہتے ہیں. وہ اپنی گفت گو میں ان سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں. وہ باتوں باتوں میں شرارت آمیز انداز میں مری صاحب سے پوچھتے میں ایک شعر سنا دوں اور پھر اپنے دلنشیں انداز میں کوئی خوب صورت شعر سناتے. اس طرح وہ شعر پہ شعر سناتے اور محفل کو گرماتے رہے.

وجاہت نے اپنی گفت گو کے دوران کسی پنجابی واقعے کے پس منظر میں مری صاحب کو ‘چودھری شاہ محمد مری’ کا خطاب دیا تو مجھے مقبول رانا یاد آئے جنھیں کوئٹہ میں بعض لوگ محبت سے یا شاید ان کی بلوچستان سے محبت کے باعث ‘مقبول احمد رانا بلوچ’ کہتے ہیں. مری صاحب اس خطاب سے بد مزہ نہ ہوئے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ کبھی کبھی سنگت میں ہلکی پھلکی ‘چودھراہٹ’ کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں. اس دوران چائے کے دو دور چلے. دوسری بار چائے سے پہلے منیر رئیسانی رخصت ہوئے کہ انھیں کوئی کام تھا. بیرم غوری نے دوستوں کے اصرار کے باوجود حافظے کا عذر کرتے ہوئے کوئی شعر نہ سنایا. وجاہت مسعود نے اپنی ایک تازہ نظم سنائی جو وزیر اعظم کی حالیہ نااہلی کے فیصلے کے پس منظر میں تھی. نظم کا آغاز اچھا تھا مگر اختتام تک پہنچتے پہنچتے اس میں سے نظم غائب ہو چکی تھی.

ان سے عرض ہے کہ آپ اپنے منفرد اور تیکھے کالموں سے نوازتے رہیے کہ ہم ان کے قتیل ہیں. نظم کو نصیر احمد ناصر، فرخ یار، وحید احمد، سید کاشف رضا، زاہد امروز و بعض دیگر شعرا کے لیے رہنے دیں، وہ خود کو ان سے کہلوا کر آسودہ ہو جاتی ہے.

اس طرح یہ خوب صورت محفل اپنے تمام رنگوں سمیت بالآخر ختم ہوئی اور وجاہت مسعود عابد میر کے ہمراہ اپنی قیام گاہ کو رخصت ہوئے. وجاہت مسعود سے یہ میری دوسری ملاقات تھی. پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی، اس کا تذکرہ پھر سہی.

Facebook Comments
(Visited 199 times, 1 visits today)

متعلق فیصل ریحان

فیصل ریحان
فیصل riHan کا بنیادی تعلق ژوب سے ہے۔ وہ اردو کے استاد ہیں۔ شاعری اور تنقید لکھتے ہیں۔ ان کے تنقیدی مضامین کا ایک مجموعہ اور ایم فل کا مقالہ کتابی صورت میں چھپ چکے ہیں۔ بلوچستان کے عصری سیاسی تناظر سے متعلق ایک شعری مجموعہ بھی شائع ہوا ہے۔