مرکزی صفحہ / خصوصی حال / میرے مولا، 8 اگست کی صبح نہ آئے

میرے مولا، 8 اگست کی صبح نہ آئے

افضل مراد

یارا اشرف!

ایک عجب خلجان ہوا ہے
دل جیسے بے ایمان ہوا ہے
سوچ رہا ہوں آٹھ اگست کی صبح نہ آئے،
آنکھ وہ منظر نہ دہرائے
جیون کا سکتہ نہ چھائے
کالے کوٹ میں ہنستے گاتے
سارے ساتھی اپنے سین کی
پرفارمنس سے اٹھ کر
پھر واپس آ جائیں
کوٹ کچہری پھر سج جائیں
سبھی شعور انصاف کے داعی
چاروں جانب مہکتے جائیں!!!

اشرف یارا
ابھی تمہارے لیپ ٹاپ میں
ننھے منے فنکاروں کے پر فارمے ہیں
ابھی تو تم نے ان کو فائنل ٹپ دینے ہیں
خالد احمد ناپا سے آتے ہی ہوں گے
ابھی تو ان بچوں کو تم نے ٹون، اسٹیپ اور لہجے کی تیاری بھی کر وانی ہے

چاچو دیکھ عدالت، کیس اور تیری دیہاڑی اپنی جگہ پر
تجھ کو وقت نکالنا ہوگا

مجھے پتہ ہے
بھابھی سے ڈرتے ہو لیکن
کوئی بہانا کرنا ہوگا

تیرے کرتوتوں پر لکھا
میرا ڈرامہ بھی باقی ہے

تجھ پر یاروں کی چاہت کے
کتنے قرض ابھی باقی ہیں!
اور بچوں کے
کتنے فرض ابھی باقی ہیں!!

کتنے کلائنٹ اپنی اپنی فائل لے کر اب بھی کھڑے ہیں

اشرف یارا
وقت سے تھوڑا وقت نکال کے
آ جا یارا
8 اگست کی صبح تھی جب تم
بم دھماکوں کے میلے میں
لرزتے کانپتے لہجے میں جب
گڑیا کو وش کرتے کرتے
وقت سے آگے نکل گئے تھے

اب تک ہم راہ دیکھ رہے ہیں
اشرف یارا پھر سے آ جا

بار روم کے ایک کونے میں
کھڑا ہوا میں سوچ رہا
وقت کو جیسے روک رہا ہوں
میرے مولا، 8 اگست کی صبح نہ آئے
وہ منظر پھر نہ دہرائے۔۔۔۔!!!

اشرف جاناں کو آنا ہے
خوابوں کو سج جانا ہے

Facebook Comments
(Visited 33 times, 1 visits today)

متعلق افضل مراد

افضل مراد