مرکزی صفحہ / بلاگ / ملیر میں تعلیم کا ارتقا

ملیر میں تعلیم کا ارتقا

چراگ سحری

کہتے ہیں کہ دنیا کا سب سے تاریک دن وہ تھا جب تعلیم ارتقائی عمل میں تھی ہی کہ اسے محدود کر کے چار دیواری کے اندر بند کردیا گیا. بس پھر وہ دن اور آج کا دن تعلیم اپنا حقیقی معنی کھو کر ایک نئے نام اور مفہوم کے ساتھ سامنے آ گئی جس کا شکار آج تمام بنی نوع انسان ہیں.

یہ تحریر جو میں قلمبند کر رہا ہوں وہ شاید کچھ دوستوں کو کسی سیاسی جماعت کا سیاسی بیان لگے یا پھر کچھ لوگوں کو خوشامد. خیر ہر کوئی اپنی اپنی سوچ و فکر کی حد تک آزاد ہے. ہم کون ہوتے ہیں جو کسی کے سوچنے کی آزادی پر قدغن لگا سکیں. بس ہم اتنا کر سکتے ہیں کہ کسی اچھے کام کرنے والے کی مالی معاونت نہ سہی تو کم از کم اخلاقی حمایت ضرور کریں.

آج میں ملیر میں تعلیم، جو اپنے نئی ارتقائی مراحل میں ہے اس پر کچھ حقیقی باتیں اپنے قارئین سے شیئر کر رہا ہوں جو مجھے خود تعلیم کے فروغ پر ہونے والے اُس میٹنگ میں دیکھنے کو ملیں. مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی مگر ساتھ ہی ساتھ یہ دیکھ کر بہت خوشی بھی ہوئی کہ تعلیم کے فروغ کے لیے اب بھی اس نظام میں کچھ مخلص لوگ ہیں جو تعلیم کو اپنی عبادت سمجھ کر اس کی اہمیت سے بخوبی واقفیت رکھتے ہوئے اسے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں.

جی وہ شخص کوئی اور نہیں ایک ڈسٹرکٹ سطح کے چیئرمین ہیں جو آئے دن تعلیم کی بہتری اور فروغ کے لیے اپنی تمام تر توانائی لگا رہے ہیں. ملیر کے چھوٹے چھوٹے پسماندہ علاقوں میں خستہ حال سرکاری اسکولوں کی حالت زار اور وہاں کے نظام تعلیم سے تو ہر کوئی بخوبی واقف ہے اور ان کی اس حالت پر ہر کوئی نکتہ چینی اور تنقید کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے مگر اس نظام کو ٹھیک کرنے پر کوئی بھی تیار نہیں، لیکن اب شاید ملیر میں تعلیم کا یہ ارتقائی عمل بخوبی اپنے انجام کو پہنچےگا کیونکہ اس ضمن میں کچھ باشعور لوگوں نے اس نظام کو فعال کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے اور خاص طور پر جناب چیئرمین جان محمد صاحب کے چند مہینوں کے دوران تعلیم پر لیے گئے اقدامات ہیں جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ مجھے ملیر میں تعلیم کی بہتر جھلک دیکھنے کو ملی.

آج جب میں ڈسٹرکٹ ملیر کے چیئرمین سے تعلیم کے فروغ پر ہونے والی ایک میٹنگ میں ملا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ یہ بندہ تعلیم کے فروغ پر اتنی دلچسپی لے رہا تھا کہ اُس ہونے والی میٹنگ میں اپنے باقی تمام کاموں کو پرے رکھ کر اپنا پورا وقت صرف کردیا.

ان کی یہ دلچسپی دیدنی تھی جو مجھے اور میرے دوستوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا کہ کاش ایسی دلچسپی ہمارے تعلیم کے شعبہ سے منسلک ہمارے وفاقی و صوبائی وزیروں میں ہوتی تو شاید آج پاکستان کے ایجوکیشن سسٹم کا یہ حال نہ ہوتا کیونکہ تعجب کی بات ہے ہمارے ہاں الیکشن پر بھی ہمارے بڑے بڑے وفاقی جماعتیں اپنے اپنے الیکشن کیمپین میں تعلیم پر دو لفظ کہنا بھی درکنار اس کا نام تک نہیں لیتیں. یہاں تک کہ انقلاب و تبدیلی کا نعرہ لگانے والے بھی اس اہم موقع پر بہت ہی اہم کام (تعلیم) کو بھول جاتے ہیں. وہ اس اہم اور بنیادی حق پر ایک لفظ بھی کہنا گوارا نہیں کرتے یا پھر وہ اس اہم ترین ضرورت کو عوام کی ضرورت نہ سمجھتے ہوئے اس سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں یا وہ عوام کو روایتی و غیر سیاسی نعروں مع خود ساختہ مسائل کو ترجیح دیتے ہوئے اسی کو اپنا اصل سیاسی و سماجی فریضہ سمجھتے ہیں جو کہ ایک سراب ہے جس کی اصل میں کوئی وجود نہیں ہوتا، وجود ہوتا ہے تو بس علم و عمل کا جس کی زندہ مثال جان محمد بلوچ صاحب ہیں اور خدا کرے یہ مثال ایک ایسی روایت بن جائے کہ ہر کوئی اسی روش پر نکل پڑے اور علم کی روشنی میں ہر بچہ جگمگائے کیونکہ علم ہی کی بدولت ہم اپنے آپ کو اپنے معاشرے کو اور اپنے ملک کو بدل سکتے ہیں. بس ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہیے وگرنہ ہم سب آہستہ آہستہ تنزلی کی طرف کوچ کر جائیں گے-

Facebook Comments
(Visited 87 times, 1 visits today)

متعلق چراگ سحری

چراگ سحری کا تعلق لیاری سے ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی سے انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ قلمی نام سے بلوچی، اردو میں شاعری اور مضامین لکھتے ہیں۔ Email: bunnybaloch7@gmail.com